ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ یہاں آنے والوں کے واسطے میں مشورہ کیا کرتا ہوں کہ سوائے ملاقات کے اور کسی غرض سے نہیں آنا چاہیے حتی کہ مخاطبت و مکاتبت بھی مقصود نہ ہونا چاہیے کیونکہ اگر خلاف اصول کچھ کہا یا لکھا چونکہ وہ سامنے ہوتے ہیں اس لیے ایسی مخاطبت مکاتبت سے تغیر ہوتا ہے اور سامنے ہونے سے بالمشافہ ان کو تنبیہ کی جاتی ہے ۔ پھر طالبوں کی شان بھی مختلف ہوتی ہے اور بعض کی تو بد تمیزی ناگوار نہیں ہوتی اور بعض کی بے حد ناگوار ہوتی ہے اور اکثر بدمزگی کی یہی وجہ ہوتی ہے کہ متکلم یا کاتب میں سلیقہ نہیں ہوتا اور ہوتا ہے وہ سامنے اس لیے اضطرارا مشافہت کا تقاضا ہوتا ہے اور اختلاف بڑھ جاتا ہے بخلاف اس کے کہ وطن سے مکاتبت کی جائے سو چونکہ سامنے ہوتا نہیں اس لیے ناگواری بھی نہیں ہوتی یہ اصول ہیں ان کے خلاف میں طرفین کو کلفت ہوتی ہے اور چونکہ اصول صحیحہ ہر موقع پر واجب الاتباع ہوتے ہیں اس لیے میں بیعت بھی اصول سے کرتا ہوں اور تعلیم بھی اصول کے ماتحت ہوتی ہے ۔ مثلا ان کی قوت کی رعایت ان کے مشاغل کی رعایت الحمد للہ ہر ہر چیز پر میری نظر رہتی ہے اور یہ میں نے تجربہ مذکورہ کی بناء پر طے کر لیا ہے کہ یہاں پر نئے آنے والوں کی تعلیم و بیعت سے خدمت نہ کروں گا ۔ یہاں پر تو صرف ملاقات کے لیے آئیں پھر اگر وہ میری باتیں سن کر وطن پہنچ کر اپنے حالات سے اطلاع دیں تو میں خدمت کو موجود ہوں ۔ ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ مشافہۃ بیعت کی شرائط بھی نہ بتلاؤں گا یہاں پر تو اس کے متعلق کوئی ذکر ہی نہ ہونا چاہیے خاموش بیٹھے رہیں پھر وطن میں جا کر غور اور فکر کے بعد جو رائے قائم ہو اس سے اطلاع دیں اور یہ بھی اختیار ہے کہ جو کچھ یہاں سے لے کر جائیں وہاں جا کر ردی کی ٹوکری میں رکھیں ہاں جن سے بے تکلفی ہے وہ ان قواعد سے مستثنی ہیں اور ان اصول اور قواعد میں میری تو صرف مصلحت دنیاوی ہی ہے یعنی راحت مگر ان کی مصلحت دینیہ ہے اور میں تو ترقی کر کے کہتا ہوں کہ یہ ایک عام بات ہونی چاہیے کہ اگر کسی کو شاگرد بنائے چاہے علوم میں چاہے صنعت میں حتی کہ اگر روٹی ہی لگانا سکھائے سب کو اصول اور قاعدے سے سکھانا چاہیے ، اگر بے ڈھنگے پن سے کام لیا تو اس کا اثر فن پر پڑے گا یعنی فن بدنام ہو گا اور یہ سب باتیں بعد تجربہ کے امور طبعی ہیں ۔
اور تجربوں کے بعد یہ اصول اور قواعد منضبط ہوئے ہیں اور تحری کے بعد یہ باتیں ذہن میں آتی ہیں , پابندی قواعد کی مثال کے طور پر فرمایا کہ ایک شخص نے خط لکھا کہ وہ کارڈ تھا ، میں نے لکھا کہ یہ جواب کے لیے کافی نہیں ہے اس نے لکھا کہ اگر کسی کے پاس لفافہ کے پیسے نہ ہوں میں نے لکھا کہ تم خرچ ہم سے منگا لو مگر جواب لفافہ ہی میں ہو گا ، وہ اڑھائی آنے ہمارے پاس سے لے لو مگر وہاں سے جب آئے باقاعدہ اور باضابطہ ہی آئے اس شخص نے لکھا کہ دام بھیج دو میں نے ایک روپیہ بھیج دیا اور لکھ دیا کہ جب یہ خرچ ہو جائے اور منگا لو مگر ایک دفعہ میں ایک روپیہ سے زائد نہ بھیجا جائے گا ۔ حاکم کو دس روپیہ دینا آسان مگر درخواست جب آئے گی کورٹ فیس کا ٹکٹ اس پر ضرور ہو گا اس کے بدون منظور نہ ہو گی اور بعض گستاخوں کا یہ کہنا کہ یہ اصول تو انگریزوں کے سے ہیں بالکل غلط ہے ۔ انہوں نے خود ہم سے سیکھا ہے مانگنے والوں کو تو حق ہو گیا اور ہمارے گھر کی چیز ہے ہم کو حق نہیں ہم کو بھی تو ان پر قبضہ رکھنا چاہیے اور مزاحا فرمایا کہ کہیں ان کا قبضہ مخالفانہ نہ ہو جائے ۔ اسی سلسلہ میں ایک واقعہ بیان کیا کہ ایک طالب علم یہاں پر آ کر دو چار روز ٹھرے تھے یہاں سے مراد آباد پہنچ کر لکھا کہ تمہارے یہاں جو کچھ اصول اور قواعد و ضوابط ہیں سب بدعت ہیں خیرالقرون میں یہ کچھ نہ تھا طالب علم صاحب نے مراد آباد کے مدرسہ میں تعلیم پائی ہے میں نے کہا کہ اگر جواب کے لیے کارڈ یا لفافہ آتا تو میں جواب دیتا کہ آپ نے خود طریقہ بدعت سے کتابیں ختم کی ہیں کیونکہ مدرسہ میں اسباق کے گھنٹے مقرر تھے اور خیرالقرون میں نے تھے پھر بطور ظرافت کے ایک حکایت نقل کی کہ ایک غیر مقلد سے ایک شخص نے کہا تھا کہ خیرالقرون میں تو آپ بھی نہ تھے اس لیے آپ مجسم بدعت ہیں ۔
