( ملفوظ 325 )تقلید کی برکت سے تحقیق نصیب ہوتی ہے

ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ جی ہاں مقلدین بن کر تقلید کی برکت سے تو محقق ہو سکتا ہے اور بدون اس کے محقق نہیں ہو سکتا اس کی بالکل ایسی مثال ہے کہ بچہ اگر الف ب ت شروع کرے اور وہ کہے کہ اس کی کیا دلیل ہے کہ یہ الف ہے یعنی ابتداء ہی سے محقق بننا چاہے تو بس وہ پڑھ چکا اور تم اس کو پڑھا چکے اس بچہ سے یہی کہا جائے گا کہ دلیل مانگنا اور محقق بننے کی کوشش فضول ہے اس وقت تقلید ہی سے مان لو تو گو گھڑ کر الٹی سیدھی دلیل بھی تراشی جا سکتی ہے اور اسی سے اس کا جواب بھی دیا جا سکتا ہے مگر دیکھنا یہ ہے کہ وہ جواب مقبول ہے یا مردود ، دیکھئے حق تعالی کے سوال کے جواب میں شیطان نے بھی کہہ دیا تھا کہ
خلقتنی من نار و خلقتہ من طین
آگ افضل ہے اور طین یعنی خاک ارذل ہے تو افضل کو ارذل کے سامنے جھکانا خلاف حکمت ہے تو دیکھئے جواب تو یہ بھی ہے کہ مگر یہ دیکھئے کہ اس جواب پر شیطان کا کیا حشر ہوا کس کو معلوم نہیں اور حق تعالی نے اس جواب پر جو جواب ارشاد فرمایا وہ بھی معلوم ہے ۔ وہ جواب یہ ہے کہ ” اخرج منھا ” نکل یہاں سے جو کہ حاکمانہ جواب ہے گو اس کا حکیمانہ جواب بھی حق تعالی فرما سکتے تھے مگر یہ اسی وقت ہوتا جبکہ یہ امید ہوتی کہ مخاطب میں فہم و انصاف ہے کہ کوڑمغز نہیں اور جب یہ معلوم ہے کہ مخاطب بدفہم ہے سمجھے گا نہیں یا اگر سمجھ بھی لے مگر سوال میں نیت اچھی نہیں تو اس وقت حکیمانہ جواب نہ دیا جائے گا حاکمانہ جواب دیا جائے گا ۔ پس حاکمانہ جواب کا سنت اللہ ہونا بھی ثابت ہے آج کل یہ طرز علماء کو اختیار کرنا چاہیے کہ اگر مخاطب فہیم ہے اور محض تحقیق مقصود ہے تب تو حکیمانہ جواب دینا چاہیے اور اگر یہ بات نہیں بلکہ اس کا عکس ہے تو حاکمانہ جواب دینا چاہیے ۔ علی گڑھ میں ایک صاحب نے جو لکھے پڑھے تھے انگریزی بھی عربی بھی مجھ سے ایک حکیم کی حکمت کا سوال کیا ، میں نے کہا کہ اگر حکمت نہ معلوم ہو تو نقصان کیا ہے کہا کہ نقصان تو کچھ نہیں لیکن معلوم ہونے میں نفع ہے میں نے کہا کہ کیا نفع ہے کہا کہ اطمینان میں نے کہا کہ خود ایسے اطمینان کے مطلوب ہونے کی کیا دلیل ہے کہا کہ اگر اطمینان مطلوب نہ ہوتا تو ابراہیم علیہ السلام یہ نہ عرض کرتے ” ولکن لیطمئن قلبی ”
میں نے کہا کہ یہ کیا ضرور ہے کہ جو چیز ابراہیم علیہ السلام کو نافع ہو ، آپ کو بھی نافع ہو ، اس کی کیا دلیل ہے اس پر کچھ نہیں بولے ، خاموش ہو گئے اور اٹھ کر چل دیئے ، میں نے کہا کہ ایک بات اور سنتے جائیے ، شاید آپ کو یہ خیال ہو کہ اس کا جواب ان کے پاس نہ تھا ۔ الحمد للہ جواب ہے مگر نہیں بتلاتے اور میں نے یہ شعر پڑھا :
مصلحت نیست کہ از پردہ بروں افتد راز ورنہ در مجلس رنداں خبرے نیست کہ نیست اب ایسے جواب پر زیادہ سے زیادہ کوئی کہے گا کہ ان کو کچھ آتا جاتا نہیں ، سو کہا کرے مگر اصول کو کسی کے کہنے سننے سے نہیں چھوڑا جا سکتا ۔ اگر ساری دنیا حق تعالی کے وجود کا انکار کرے تو حق تعالی کا کیا ضرر حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا انکار کرے تو حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا کیا ضرر اس کی ایسی مثال ہے کہ ایک شخص مالدار ہے اور دنیا اس کو غیر مالدار کہے تو اس کا کیا ضرر اور نہ اس کو اس کی ضرورت ہے کہ وہ اپنا مالدار ہونا ثابت کرے بلکہ وہ مالدار اس پر مسرور ہو گا کہ اچھا ہے یہ جہل ہی میں مبتلا رہے وہ اسی میں اپنی خیر اور راحت سمجھتا ہے اور اس کی بدفہمی اور حماقت سے مزے لے گا اور بتلانے کی کوشش نہ کرے گا ۔