( ملفوظ 64 ) اپنے دینی کارناموں کی تفصیل میں نفس کا کید خفی

ایک صاحب نے حضرت والا سے عرض کیا کہ میں نے فلاں مقام پر ایک مدرسہ کا افتتاح کیا ہے ـ اس کے یہ انتظامات ہیں اور ایک جلسہ مدرسہ کا کیا گیا اور بڑی دیر تک اس کی تعریف کرتے رہے ـ
حضرت والا نے سن کر فرمایا کہ جتلانے کیوں ہو کہ میں نے مدرسہ جاری کیا ـ جلسہ کیا کچھ خبر بھی ہے ـ
اسمیں نفس کی آمیزش ہو جاتی ہے ـ عرض کیا کہ بیان سے یہ مقصود نہیں فرمایا کہ تم کو کیا خبر اپنے مرض کی نفس وہ چیز ہے کہ اسکا کید خفی اہل نظر کو بھی بعض اوقات محسوس نہیں ہوتا ـ ایک بزرگ کسی درویش کے مہمان ہوئے ـ اس درویش نے خادم سے کہا کہ اس صراحی میں سے پانی لاؤ جو ہم دوسرے حج میں لائے تھے ـ ان بزرگ نے فرمایا کہ بندہ خدا تو نے دونوں حجوں کا ثواب برباد کیا تو کام کر کے جتلایا نہیں کرتے اور اگر دعاء مقصود تھی تو اس تفصیل کی ضرورت نہیں ـ بعض اوقات اپنے مرض کی خبر نہیں ہوا کرتی اور جگہ تم لوگوں لو روک ٹوک نہیں کی جاتی میں کرتا ہوں اس وجہ سے بدنام ہوں دوسرے لوگ عوفی اخلاقی کی وجہ سے
کچھ نہیں بولتے مجھ سے ایسے عرفی اخلاقی اختیار نہیں کئے جاتے ـ میں مکرر کہتا ہوں کہ یہ بھی نفس کی شرارت ہے کہ دعاء کے بہانے سے اپنی رؤیداد سنادی ـ حضرت نفس کے کید نہایت ہیں خفی ہیں ـ
عرض کیا کہ غلطی ہوئی فرمایا کہ اتنی سختی کے بعد آپ نے تسلیم کیا ـ