ایک نو وارد صاحب حاضر ہوئے اور حضرت والا سے مصافحہ کرنے کے بعد تمام مجلس سے مصافحہ شروع کر دیا ـ حضرت والا نے فرمایا کہ یہ طریقہ کس نے سکھایا ہے ـ اگر مجلس میں پچاس آدمی ہوں
ہوں تو اچھا خاصہ مشغلہ ہو جائے گا ـ اپنے اپنے کام چھوڑ کر تمھاری طرف متوجہ ہوں ـ ایک شخص سے مصافحہ کر لیا ـ سب کی طرف سے ہوگیا ـ آخر سلام کو الگ الگ کیوں نہیں کیا ـ معاشرت تو لوگوں کی بربادی ہوگئی ـ غرض ہر چیز کے اصول ہیں ـ ادنی سی بات ہے ـ پنکھا کھینچنا اس کے بھی آداب ہیں ـ
مثلا اگر کوئی پنکھے کے قریب آنے لگے اس وقت پنکھار روک دینا چاہیے ـ ورنہ مشین میں اور آدمی میں فرق ہی کیا رہا کہ آپ کے مزاج میں تو انگریزوں کا سا انتظام ہے ـ میں نے کہا کہ یوں کیوں نہیں کہتے کہ انگریزوں میں ہمارا سا انتظام ہے ـ انگریزوں نے بھی اسلام ہی سے یہ سبق سیکھا ہے ـ وہ اور کہاں سے لائے تھے ـ حیدر آباد دکن میں میں ایک بہت بڑے عہدے دار کے ساتھ ٹکسال دیکھنے گیا ـ ایک انگریز سیر کرانے والا تھا ـ ان کی خاطر سے بہت اہتمام کے ساتھ اس نے سیر کرائی ـ جب میں رخصت ہونے لگا تو میں نے اس انگریز سے کہاں کہ تمھارے اخلاق سے بڑا جی خوش ہوا ـ تمھارے اخلاق تو ایسے ہیں جیسے مسلمانوں
کے ہوتے ہیں ـ وہ عہدہ دار باہر آکر مجھ سے کہنے لگے کہ آپ نے عجیب طرز سے شکریہ ادا کیا کہ اس کی تعریف بھی کردی اور اس کو گھٹا بھی دیا ـ میں نے کہا کہ واقعہ ہے کہ یہ ہمارے گھر کی چیز ہے جو انہوں نے اختیار کر لی اس لئے ان کو ہمارے ساتھ تشبیہ دی جا سکتی ہے نہ کہ برعکس ـ
