ایک مولوی صاحب نے بوقت رخصت مصافحہ کیا حضرت والا نے ارشاد فرمایا کہ اس
قدر جلد واپسی ـ عرض کیا کہ انشاء اللہ تعالی عنقریب پھر حاضر خدمت ہونگا فرمایا ! اس کی ضرورت نہیں جو مناسب اور مصلحت ہو اس پر عمل کیا جائے یہ تو میں کبھی طبعا عرض کر دیتا ہوں باقی اصل
مسلک عقلا یہ ہی ہے کہ جس میں مصلحت اور راحت ہو وہ کروـ فرمایا کہ اس پر یاد آیا بعض لوگ
راحت کی پرواہ نہیں کرتے یہ غضب کرتے ہیں کہ کھانے پر اصرار کرتے ہیں کہ اور کھا لو ـ سفر میں
مجھ کو اکثر اتفاق ہوا کہ مجھ سے کھانے کیلئے اصرار کیا گیا ـ میں نے کہا کہ اگر مجھ کو کوئی تکلیف ہو گئی تو
بھگتنی تو مجھ کو ہی پڑے گی آپ کا کیا بگڑے گا کیا آپ تکلیف کو بٹالیں گے اور بٹا ہی کیا سکتے ہیں
زیادہ سے زیادہ آپ نمک سلیمانی یا کوئی چورن لا دیں گے پھر کوئی کچھ نہ بولتا تھا ـ
