فرمایا ! ایک خط آیا ہے کہ پانچ سو مرتبہ ذکر کی اجازت ملی تھی فرصت نہ ملنے کی وجہ سے نہیں کر سکا اور کوئی وظیفہ بتلا دیں اس سلسلہ میں فرمایا کہ اس بے حسی کو دیکھیئے ـ دوسرے شخص پر کی
طبیعت پر کیونکر اثر نہ ہو کیونکر تغیر نہ ہو اول تو اب بھی اوراد ہی کی خواہش کی ـ میرا جو خیال ہے کہ
لوگ اوراد میں زیادہ مبتلا ہیں بمقابلہ اعمال کے وہ صحیح ہے کچھ نہیں فہم کا قحط ہے چاہتے ہیں کہ
جو ہمارا جی چاہے مصلح اس کا اتباع کرے مجھ سے یہ نہیں ہو سکتا اور پیر بہت ہیں جو مرضی کے موافق
اوراد و عملیات بتلائیں ان سے تعلق پیدا کرو یہ تو اچھی خاصی غلامی ہے یہ قدر کی تعلیم کی لا حول ولاقوۃ الاباللہ ـ یہ لوگ تعلق رکھنے کے قابل نہیں بالکل بد فہم بد عقل ہیں جب آدمی کو طلب نہ ہو تو کیوں خود پریشان ہو ـ اور کیوں دوسرے کو پریشانی میں مبتلا کرے کوئی بلانے گیا تھا ـ دوسرے اس سے قطع نظر جب پہلے ہی ورد کو نہیں نباہ سکے تو اس کی کیا امید ہے کہ اب جو بتلایا جائے اس
کیلئے فرصت مل جائیگی ـ بدوں کسی خرچ کے تعلیم ہوگئی ہے اس لئے قدر نہیں ہوئی ـ اسی لئے حضرت حاجی صاحب ؒ فرمایا کرتے تھے کہ بھائی کتاب مفت مت دو
ـ دو چار پیسہ ضرور لے لیا کرو قدر تو ہو گی کتاب کی ـ اور اس وجہ سے دیکھ بھی لیں گے کچھ صرف ہوا ہے
وصول کرنا چاہئے واقعی بڑے کام کی بات فرمائی مفت کی چیز کی قدر نہیں ہوتی ـ
