ایک سلسہ گفتگو میں فرمایا کہ بعض لوگوں میں بہت ہی سادگی ہوتی ہے یہاں پر ایک عورت عابدہ زاہدہ تھیں وہ مجھے اپنےافلاس کے واقعات بیان کرنےلگیں جس میں کسی قدر تطویل ہوگئی پھر دفعتا گھبرا کر کہنے لگیں کہ مولوی جی میں زیادہ کہتی بھی نہیں کبھی اللہ میاں یوں کہیں کہ میرے عیب کھولتی پھرے ہے ایک عورت ضعیفہ نے مجھ سے سوال کیا کہ مولوی جی تمہیں تو اللہ میاں کے گھر کی سب خبر ہے میں یوں پوچھوں کیا اللہ میاں رندہ ہیں میں سوچا کہ اگر علمی مضمون بیان کیا یہ بیچاری کیا سمجھے گی بے علمی تو اس سوال کا سبب ہی ہے میں نے اس کے فہم کی رعایت کرتے ہوئے کہا کہ اچھا یہ بتلا کہ مینہ کون برساتا ہے اولاد کون دیتا ہے کہا کہ اللہ میاں میں نے کہا کہ بھلا مرکر بھی کوئی کام کرسکتا ہے کہا کہ نہیں میں نے کہا کہ بس تو اب تم خود ہی سمجھ لو بہت خوش ہوئی اور دعائیں دیں ایک عورت نے بنت میں ایک مولوی صاحب کے وعظ میں سنا کہ ایک وقت ایسا ہوگا کہ سوائے اللہ کی ذات کے کوئی نہ ہوگا اس پر نہایت حسرت سے بولی کہ اکیلے اللہ میاں کا جی نہیں گھبرائے گا نعوذ باللہ ایسے لوگوں کی باتیں ایسی ہیں کہ جیسے کہ ایک شخص کا واقعہ حدیث میں آیا ہے کہ نہایت گنہگار تھا موت کے قریب بیٹیوں کو وصیت کی کہ میرے مرجانے کے بعد مجھ کو قبر میں دفن نہ کیا جاوے بلکہ میری لاش کو لکڑی جمع کرکے اسمیں جلا دیا جاوے اور جو کچھ میرے لاش کی راکھ ہو اس کو نصف دریا میں چھوڑ دی جاوے اور نصف آندھی میں اڑا دی جاوے اس کے بعد بھی اگر میں اللہ تعالی نے حکم فرمایا سب مٹی جمع ہوگئی اس میں روح پھونک کر سامنے حاضر کردیا گیا حق تعالی نے سوال فرمایا کہ ایسا کیوں کیا عرض کیا کہ اے اللہ آپ کے خوف سے ایسا کیا اس پر حق تعالی نے مغفرت فرمادی اب دیکھنا یہ ہے کہ عقیدہ اس شخص قدرت کے متعلق کامل نہ تھا بلکہ ناقص تھا مگر اس پر کوئی مواخزہ نہیں فرمایا گیا کیونکہ اس کی عقل اتنی ہی تھی اس لئے معزور قرار دیا گیا ایک اور واقعہ ہے ایک گنوار نے وعظ میں سناکہ حق تعالی ہاتھ پیر وغیرہ سب سے مبرا اور منزہ ہے اس نے واعظ کو جواب دیا کہ ( نعوذباللہ ) تیرا خدا بطخ شامی ہو گا ہمارے خدا کے تو ہاتھ پیر سب کچھ ہیں ہمارے تو ہاتھ پیر ہوں ان کے نہ ہوں بس اسکا فہم اس سے زیادہ نہ تھا مدار تکلیف کا عقل ہی ہے بس جتنی عقل اتنی تکلیف ـ
