( ملقب بہ الاذھاب الاعجاب ) ایک سلسلہ گفتگو میں چند امور فرمائے جو علاج ہیں عجب کے ایک یہ کہ اعمال پر جنت اور القاء حق کا ترتب یہ محض فضل ہے ورنہ خود اعمال میں یہ قوت نہیں کہ ان پر اتنی بڑی جزا مرتب ہو سکے پس اعمال پر کبھی ناز نہ کرے بلکہ اعمال کو ہیچ سمجھ کر اس نعمت کا مستقلا سوال کرتا رہےاسی مراقبہ سے علاج ہو جاؤیگا عجب کا کہ عمل طاعات سے بڑا مقصود جنت میں داخل ہو کر رضاء حق اور دیدار حق کا حاصل کرنا ہے عشاق کا تو مذہب ہی یہ ہے کہ جنت کو وہ دوست کی ملاقات کا مقام سمجھتے ہیں اور اسی طرح دوزخ کو دوست کے فراق کی جگہ تصور کرتے ہیں اور دوسراامر یہ فر مایا کہ استعداد کا مسئلہ بڑا اہم مسئلہ ہے قصہ آدم علیہ السلام اور ان کی تعلیم اسماء میں اور فرشتوں کے عجز عن الجواب کی بناء پر یہی استعداد ہے ان علوم اسماء کے اخز کرنے کی استعداد آدم علیہ السلام میں تھی ملائکہ میں نہ تھی اس لئے آدم علیہ السلام کو جو عطا ہوا وہ فرشتوں کو عطا نہیں ہوا پس اس سے یہ اشکال رفع ہو گیا کہ آدم علیہ السلام کو جن علوم خاصہ کی تعلیم دی گئی اگر ملائکہ کو دی جاتی تو وہ بھی ان علوم سے متصف ہو جاتے پھر آدم علیہ السلام کا کمال کیا ہوا وجہ دفع تقریر بالا سے ظاہر ہے آدم علیہ السلام کو کوئی خفیہ تعلیم نہیں دی گئی مگر ملائکہ میں ان علوم کو استعداد نہ تھی اس لئے ان کی تلقی نہیں کر سکے باقی یہ سوال کہ ان کے عجز عن الجواب کے بعد پھر ـ قال یا اٰدم انبئھم باسمائھم کے کیا معنی اس وقت وہ علم انکو کیسے حاصل ہو گیا اس کا جواب یہ ہے کہ وہ تعلیم محض الفاظی اطلاع تھی معنوی نہ تھی معنوی اطلاع صرف آدم علیہ السلام کو عطا فرمائی گئی تھی مگر آدم علیہ السلام کے اخبار سے ملائکہ کو یہ معلوم ہو گیا کہ ان کو جو حقیقت معلوم ہے ہمکو معلوم نہیں اگر کوئی کہے کہ وہ استعداد فرشروں کو کیوں نہ دیدی گئی جواب یہ ہے کہ وہ استعداد خواص آدم سے تھی اگر ملائکہ کو عطا ہوتی تو فرشتہ فرشتہ نہ رہتا اسی کے متعلق ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ انبیاء جو نبیئھنم باسمائھم ہم کا مادہ ہے مطلق اخبار کو کہتے ہیں اور تعلیم جو علم آدم کا مادہ ہے حقیقت کا منکشف کردینا ہے پس انباء سے تعلیم لازم نہیں آتی غرض استعداد خاص عطا ہونا یہ بھی محض موہبت ہے کسی عمل کا ثمرہ نہیں چناچہ حضرت آدم علیہ السلام سے کوئی عمل سابق نہیں ہوا تھا بس یہ بھی علاج ہے عجب کا تیسرا امر یہ فرمایا کہ حضرت غوث اعظم رحمۃ اللہ علیہ کے کسی ایک مرید نے ایک واقعہ نقل کیا ہے اور عجیب واقعہ ہے یہ غالبا میں نے شیخ عبدالحق محدث دہلوی کی کتاب میں دیکھا کہ ایک مرتبہ حضرت غوث اعظم رحمہ اللہ علیہ نماز تہجد کے لئے معمول کے موافق اٹھے اور خانقاہ سے جانب صحراء تشریف لے چلے اور یہ خادم بھی ساتھ ہو لیا تھوڑی دیر چلکر ایک شہر میں پہنچے یہ مرید بھی ہمراہ رہے وہاں ایک مکان میں داخل ہوئے اس مکان میں ایک مجمع ہے وہ لوگ آپ کو دیکھ کر کھڑے ہو گئے آپ مسند پر بیٹھ گئے یہ مرید بھی کسی گوشہ میں جا بیٹھے قریب کوئی کوٹھڑی اس میں کسی مریض کے کراہنے کی آواز رہی ہے تھوڑی دیر کے بعد وہ آواز بند ہو گئی پھر ایسا معلوم ہوا کہ جیسے کسی غسل کے وقت پانی گر رہا ہے پھر وہ آواز بھی موقوف ہو گئی اور چار شخص ایک جنازہ لئے ہوئے نکلے ان کے ساتھ ایک بوڑھے شخص بھی ہیں اور وہ جنازہ لا کر حضرت کے سامنے لا کر رکھ دیا گیا آپ نے نماز جنازہ پڑھائی اور ہمراہ ہی لوگ جنازہ کو لے کر چلے گئےاور حضرت پھر اسی طرح اپنی جگہ پر آبیٹھے مع اپنے مجمع سابق ہی کےکچھ دیر گزری تھی ایک شخص نصرانی حاضر ہوا ـ حضرت نے اس کے گلے سے سلیب اتارلی اور اس کا زنار توڑا اور کلمہ پڑھا اس مجمع سے یہ فرما کر یہ ہے وہاں سے واپس تشریف لے چلے اور مکان پر تشریف لے آئے اور نماز تہجد میں مشغول ہو گئے شب گذر جانے کے بعد مرید نے صبح کے وقت حضرت سے سوال کیا کہ رات کیا معاملہ تھا حضرت نے فرمایا کہ وہ مقام شہر موصل تھا اور وہ جماعت ابدال کی تھی اور وہ بیمار بھی اسی جماعت کا ایک فرد تھا اس جماعت نے باطنی طور پر مجھ کو اطلاع دی تھی کہ یہ قرب مرگ ہیں ان کی جگہ کسی کو معین فرما دیجئے اس لئے میں وہاں گیا تھا جب ان کا انتقال ہو گیا میں جناب باری تعالی سے ان کی جگہ کسی کو مقرر کرنے کے لئے عرض کیا حکم ہو کہ روم میں ایک نصرانی کنیسہ میں صلیب پرستی میں مشغول ہے اس کو ان کی جگہ کر دیا جاوے میں نے عرض کیا کہ اس کو کیسے حاضر کیا جاوے سو وہ خرق عادت کے طور پر حاضر ہو گیا اور اسی وقت مسلمان کر کے ابدال کے رتبہ پر فائز کردیا گیا اور یہ بتلا دیا گیا کہ کوئی کسی کو حقیر نہ سمجھے اور اپنے کمال پر ناز نہ کرے سب کچھ ہمارے فضل پر ہوقوف ہے ذالک فضل اللہ یوتیہ من یشاء واقعی بات ہے انسان اپنے کسی کمال یا عبادت پر کیا ناز کرے اس کی عبادت ہی کیا اور کمال ہی کیاـ
