ملفوظ 226: آرام کے وقت دوسرے کو تکلیف دینا فرمایا ! کہ آج ایک صاحب عین آرام کے وقت میرے پاس آئے جس سے مجھ کو اذیت پہنچی ـ اوقات راحت میں کسی کے پاس پہنچ جانا بہت ہی برا ہے ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت خلاف ادب بھی تو ہے فرمایا سب ہی کچھ ہے مگر لوگوں کو ان باتوں کا مطلق خیال نہیں ـ ان معاملات کو دین کی فہرست ہی سے نکال دیا ہے ـ اسی سلسلہ میں فرمایا کہ حضرت حاجی صاحبؒ کے پاس جب حضرت یہاں مقیم تھے ایک شخص ایسے وقت آتا کہ وہ وقت حضرت کے قیلولہ کا ہوتا اور وہی اس کے آنے کا ہوتا دو چار روز کے بعد حضرت حافظ جامن صاحبؒ نے اس شخص کی خوب خبر لی اور خوب ہی ڈانٹا کہ یہ کیا واہیات ہے ـ رات بھر تو بیوی کے بغل میں پڑے سوتے ہو اور دوسروں کے آرام کے وقت میں مخل ہوتے ہو تم کیا جونو ! درویشوں کی قدر ! بے چارے رات بھر تو جاگیں دن میں اگر وقت ملتا ہے تو آپ آ کودتے ہیں ـ خبردار ! اگر ایسے وقت میں میں نے تم کو یہاں دیکھا ٹانگیں توڑ ڈالوں گا ـ ایسے بے رحم اور ظالموں کا یہی علاج ہے مگر حضرت حاجی صاحبؒ کی یہ حالت تھی کہ مجسمہ اخلاق تھے کوئی آ گیا اب بیٹھے ہیں ـ
