ملفوظ 339: عارفین کی نظر

ملفوظ 339: عارفین کی نظر ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ عارفین کا مذاق ہی جدا ہوتا ہے دوسروں کی نظر وہاں تک کام نہیں کرتی حضرت علی رضی اللہ عنہ ، سے کسی نے پوچھا کہ آپ کو نا بالغی کی حالت میں مر جانا پسند ہے جس میں کوئی حساب کتاب نہیں گناہوں سے پاک صاف جنت نصیب ہو یا حالت بلوغ میں کو پہنچنا کہ اس کے بعد بڑے خطرات اور مواخذات میں پڑ جائیں فرمایا یہ ہی حالت پسند ہے کہ بلوغ کے بعد خطرہ میں پڑیں ـ اسلئے کہ عدم بلوغ میں حق تعالی کی معرفت نہ تھی جو عین مطلوب ہے کیا ٹھکانہ ہے ان عارفین کی وسعت نظر اور تعلق مع اللہ کا ـ بات یہ ہے کہ ایسے ہی لوگوں سے وعدہ ہے حق تعالے کا کیونکہ استقامت اور پوری اطاعت معرفت ہی سے ہو سکتی ہے پس فرماتے ہیں ـ ان الذین قالوا ربنا اللہ ثم استقاموا تتنزل علیھم الملئکۃ الاتخافوا ولا تحزنوا وابشروا بالجنۃ التی کنتم توعدون نحن اولیاؤ کم فی الحیوۃ الدنیا وفی الاخرۃ ولکم فیھا ما تشتھی انفسکم ولکم فیھا ما تدعون ( جن لوگوں نے دل سے اقرار کر لیا کہ ہمارا رب اللہ ہے پھر اس پر مستقیم رہے ان پر فرشتے اتریں گے کہ تم نہ اندیشہ کرو نہ رنج کرو اور تم جنت کے ملنے پر خوش رہو جس کا تم سے پیغبروں کی معرفت وعدہ کیا جایا کرتا تھا اور ہم تمہارے رفیق تھے دنیاوی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی رہیں گے اور تمہارے لیے اس جنت میں جس چیز کو تمہارا جی چاہے گا موجود ہے اور نیز تمہارے لیے اس میں جو مانگو گے موجود ہے ـ ) اور فرماتے ہیں : ومن یطع اللہ والرسول فاولئک مع الذین انعم اللہ علیھم من النبین والصدیقین والشھداء والصلحین وحسن اولئک رفیقا ـ ( اور جو شخص اللہ اور رسول کا کہنا مان لے گا تو ایسے اشخاص بھی ان حضرات کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ تعالی نے انعام فرمایا ہے یعنی انبیاء اور صدیقین اور شہداء صلحاء اور یہ حضرات بہت اچھے رفیق ہیں )
پھر دوسری آیت کا شان نزول فرمایا کہ ابو رافع ایک صحابی ہیں ان کو ایک بار یہ غم ہوا کہ یہاں تو جب چاہتے ہیں حضوراقدسِؐ کے دیدار سے مشرف ہو جاتے ہیں مگر جنت میں آپ بڑے درجہ میں ہوں گے اور ہم چھوٹے درجہ میں جہاں رسائی بھی نہ ہوگی وہاں کس طرح دیدار میسر ہوگا اور اس خیال سے ان کو بے حد قلق ہوا ـ اس پر یہ آیت نازل ہوئی جب انہوں نے یہ سنا تو بے حد خوش ہوئے کہ الحمداللہ جنت میں بھی حضورؐ کی زیارت کیا کریں گے اسی طرح دوسرے دوستوں سے جن کا ذکر صدیقین و شہداء وصالحین میں ہے ملا کریں گے ـ ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت اس صورت میں تو کم درجہ والے بڑے درجوں میں پہنچ جائیں گے فرمایا کہ پہنچ جائیں گے تو حرج اور نقص کیا واقع ہوا یہاں پر بھی تو ایسا ہوتا ہے کہ کم درجہ والے بڑے درجوں والوں کے پاس ملنے کے لیے پہنچ جاتے ہیں ـ یہاں پر معیت کے وہ معنی نہیں جو آپ سمجھے کہ اس درجہ پر مستقلا پہنچ جائیں گے ـ اب فرمائیے کیا شبہ ہے عرض کیا کہ اب کوئی شبہ نہیں رہا ـ عرض کیا کہ جنت میں پہنچ کر حسرت ہو گی اور جی چاہے گا کہ ہم بھی بڑے درجوں میں ہوتے فرمایا کہ جی ہی نہیں چاہے گا جو جس کے لیے تجویز ہو گی اس پر دل سے راضی رہے گا ـ