تفویض کی حقیقت اور دعا کا وجوب مبتدی اور منتہی حالتوں میں مشابہت ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ تفویض کے یہ معنی نہیں کہ مانگے نہیں تفویض کے معنی یہ ہیں کہ یہ عزم رکھے کہ اگر مانگنے پر بھی نہ ملا اس پر بھی رہوں گا تفویض کی حقیقت اگر نہ مانگنا ہوتا تو مانگنے کا امر نہ فرمایا جاتا یہ کوئی بہت باریک مسئلہ نہیں ہے ـ مانگنے کے لیے نص موجود ہے البتہ عین دعاء کے وقت بھی اس کا اسۓضار رہے کہ اگر مانگنے پر بھی نہ ملا تو بس اس پر دل سے راضی رہوں گا ـ یہ وہ مسئلہ ہے کہ بڑے بڑے فضلاء کو شبہ ہو گیا کہ دعاء اور تفویض کیسے جمع ہوں گے ـ مگر میں کہتا ہوں کہ خوب مانگے اور خوب الحاح وزاری کرے مانگنا ہرگز تفویض کے منافی نہیں مانگنے کو کون منع کرتا ہے اپنے بزرگوں کا بھی یہی معمول رہا ہے جو میں اس وقت بیان کر رہا ہوں اور ایک کام کی بات بیان کرتا ہوں جو یاد رکھنے کے قابل ہے وہ یہ کہ اس میں عبدیت زیادہ ہے کہ یہ سمجھ کر مانگے کہ یہ چیز ضرور ہم کو ملے گی اور ضرور ہی دیں گے ـ یہ بھی شان عبدیت کے لیے ایک لازم چیز ہے اور مانگنے کے آداب میں سے ہے آ گے انکو اختیار ہے کہ اگر بندہ کے لیے ایک لازم چیز ہے اور مانگنے کے آداب میں سے ہے آ گے انکو اختیار ہے کہ اگر بندہ کے لئے وہ مصلحت اور حکمت دیکھیں گے عطا فرما دیں گے ایک اور بات بیان کرتا ہوں مانگنے کے متعلق جب حق تعالے نے حکم فرمایا ہے تو خود اس کو بھی مقصود سمجھو تو مقصود دو ہوئے ایک وہ چیز جو مانگ رہے ہو دوسرے خود مانگنا بھی بلکہ نہ مانگنے پر اندیشہ ہے اسلئے کہ حکم مانگنے کا تھا اس میں استغنا سے کام لیا ـ بعض لوگ خود دعا کو مقصود سمجھتے ہیں اور حاجت کو مقصود نہیں سمجھتے غلطی ہے خود حضورؐ بعد طعام کے دعا میں یہ اضافہ فرمایا کرتے تھے غیر مودع ولا مستغنی عنہ ربنا یعنی ہم اس کھانے کو رخصت نہیں کرتے اس سے مستغنی نہیں اور صدہا حدیث ہیں جن میں حضورؐ سے حاجتیں مانگنا ثابت ہے تو ایسی چیز تفویض کے خلاف کیسے ہو سکتی ہے مانگنے کو تفویض کے خلاف سمجھنا سخت غلطی ہے گو اجتہادی ہے جس کا سبب غلبہ حال ہے انہیں بعضے اہل دعاء کی نسبت حافظ کا یہ شعر پڑھ دیتے ہیں ؎ شب تاریک و بیم موج و گرد ابے چنیں ہائل ٭ کجا دانند حال ماسبک ساراں ساحل ہا ( اندھیری رات ہے موج کا خوف ہے اور ایک ہولناک گرداب ہے ( ان حالات میں ہم دریا کا سفر کر رہے ہیں تو ) جو لوگ آرام سے کنارہ دریا پر کھڑے ہیں ان کو ہماری حالت کا کیا اندازہ ہو سکتا ہے 12) مگر خوب سمجھ لو کہ محقیقن اہل دعا جس ساحل پر ہیں وہ ادھر کا ساحل مراد ہے جو عبور دریا کے بعد ملا ہے ادھر کا نہیں جو خوض فی البحر سے پہلے ملتا ہے اس کو تو وہ طے کر چکا ہے وہ کجا دانند میں نہیں آ سکتا اگر اس طرف والے کا حال کھل جائے تو خود معترض یہ کہنے لگے ؎ جملہ عالم زیں سبب گمراہ شد ٭ کم کسے زا بدال حق آگاہ شد گفت اینک ما بشر ایشاں بشر ٭ ما او ایشاں بستہ خوابیم و خور ( تمام عالم عارفین کو نہ پہچاننے کی وجہ سے ہی گمرہ ہوا ـ ( کہ انہوں نے ان حضرات کی صرف ظاہری حالت پر نظر کر کے کہدیا کہ ) یہ بھی بشر ہیں اور ہم بھی بشر ہیں اور یہ بھی خواب و خور کے اسی طرح محتاج ہیں جیسے ہم ـ ( مگر ان حضرات کے باطنی حالات کو نہ سمجھ سکے ) 12) تو خواص کی بعض انتہائی حالتیں مبتدی کی ابتدائی حالتوں کے مشابہ ہوتی ہیں اس بنا پر یہ سب مل کر تین ہی حالتیں ہوتی ہیں ـ اس کی مثال ہانڈی کی مثال ہے کہ اول جب اس کو چولہے پر رکھا جاتا ہے تو بالکل سکون ہوتا ہے اور جب پکنا شروع ہو جاتی ہے تو جوش و خروش ہوتا ہے اور جب پک کر تیار ہو جاتی ہے تو پھر وہی سکون عود کر آتا ہے ـ ایک مبتدی کی مثال ہے ایک منتہی کی ایک بیچ والے کی ـ منتہی کی حرکات سکنات بالکل مشابہ مبتدی کے ہوتے ہیں مگر زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے ـ مبتدی بھی بیوی سے ہمبستر ہوتا ہے اس کو صرف حظ نفس مقصود ہوتا ہے اور بیچ والا غلبہ حال سے اس طرف کم ملتفت ہوتا ہے اور منتہی کو حظ نفس بھی ہوتا ہے مگر غالب نیت یہ ہوتی ہے کہ اس کا حکم ہے سو ظاہری اشتغال سے اس کی حالت مبتدی جیسی معلوم ہوتی ہے مگر زمین آسمان کا فرق ہے مگر خفی اور یہ سب باتیں سمجھنا کام کرنے پر موقوف ہے ورنہ محض باتیں بنانے سے یا لمبی چوڑی تحقیقات بیان کرنے سے یا نیت کے دعوے سے کچھ حاصل نہیں ہوتا اس کی بالکل ایسی مثال ہے جیسے کوئی نا بالغ کہے کہ میں نیت کرتا ہوں بالغ ہونے کی تو کیا وہ بالغ ہو جائے گا ؟
