ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ محقق کی ہر ضروری چیز پر نظر ہوتی ہے ہمارے حضرت حاجی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے پاس ایک پندرہ کا نقش تھا اس کے ہر چہار گوشوں پر اجب یا جبرائیل اجب یا میکائیل وغیرہ لکھا تھا جس کو باقی رکھا جائے تو موہم شرک اور حذف کیا جائے تو عمل ناتمام حضرت نے اس میں اس طرح اصلاح فرمائی اجب یا رب جبرائیل اجب یا رب میکائیل جس میں سب ضروری رعایتیں ہو گئیں ایک نقش پندرہ کا میرے پاس بھی ہے اکثر آسیب زدہ کو لکھ دیتا ہوں اس کے آخر میں شیاطین کے نام کے ساتھ لکھا ہے کہ سوختہ شوند اور شریعت میں کسی کے جلانے کی اجازت نہیں میں نے اس میں اتنا اور بڑھا دیا کہ اگر نہ گریزند سوختہ اب اگر وہ جلے گا اپنی مرضی سے ورنہ ہم نے تو اس کو مہلت دے دی دیکھئے جہاد میں گو کفار کے مکانات باغات جلا دینے کا جواز ہے مگر ساتھ ہی یہ بھی حکم ہے کہ تین طرف آگ لگائی جائے ایک طرف راستہ چھوڑ دینے کا حکم ہے تا کہ کفار اگر اس راستہ سے نکلنا چاہیں نکل جائیں کوئی مدعی ادیان کا تو اپنے یہاں باغی کے ایسے حقوق تو بتلا دے اسی رعایت حقوق کی فرع ہے کہ جہاد میں بیٹے کو اجازت نہیں کہ وہ باپ کو قتل کرے اسلام نے اس کے حق کی کیسی رعایت رکھی حالانکہ عین قتال کے وقت غصہ ہوتا ہے مگر اس موقعہ پر حکم ہے کہ غصہ کو ضبط کرو ۔ اور باپ کو قتل نہ کرو اس لئے کہ وہ محسن ہے اس نے پرورش کیا ہے اگر یہ بھی نہ ہو تو تمہارے وجود کا سبب بنا ہے یہ رعایات اسلام کی خوبی ہے دوسرا کوئی شخص اس کی مثال پیش نہیں کر سکتا حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی زرہ چوری ہو گئی ایک روز حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے ایک یہودی کے پاس زرہ دیکھی آپ نے اس کو شناخت کر لیا کہ یہ زرہ میری ہے اگر چاہتے تو آپ امیر المومنین تھے اس سے زرہ جبرا لیتے اس بے چارہ کا وجود ہی کیا تھا مگر آپ نے ایسا نہیں کیا باقاعدہ قاضی شریح کے یہاں دعوے کیا یہ قاضی بھی ظاہر ہے کہ آپ ہی کے محکوم تھے قاضی نے شہادت طلب کی کہ آپ شہادت قائم کریں کہ یہ زرہ آپ کی ہے آپ نے اپنے بیٹے حسن رضی اللہ عنہ کو اور ایک آزاد شدہ غلام قنبر کو شہادت کے لئے پیش کیا قاضی نے عرض کیا کہ غلام کی شہادت تو معتبر ہے مگر بیٹے کی شہادت باپ کے حق میں قبول نہیں اس میں حضرت اور قاضی شریح میں اختلاف تھا حضرت علی بیٹے کی شہادت کو جائز سمجھتے تھے قاضی اس کے خلاف تھا جب آپ اور کوئی شہادت پیش نہ فرما سکے قاضی نے آپ کے خلاف مقدمہ کر دیا اور وہ زرہ یہودی کو دلوا دی آپ وہاں سے نہایت خوش خوش چل دیئے اس یہودی نے دیکھا کہ باوجود امیرالمومنین ہونے کے اور ہر قسم کی قوت کے ان پر کوئی اثر مقدمہ کے ہارنے کا نہیں ہوا یہی دلیل ہے اس مذہب کے حق ہونے کی جس کا اثر قلوب میں ایسا خالص ہے وہ آگے بڑھا اور حضرت سے عرض کیا کہ یہ زرہ آپ کی ہے اور مجھے مسلمان کر لیجئے اسی وقت اس نے کلمہ شہادت پڑھا اور مسلمان ہو گیا پھر وہ زرہ آپ نے اس کو ہبہ کر دی ۔ دوسرا واقعہ ایک یہودی نے خلیفہ وقت ہارون رشید پر قاضی کی عدالت میں مقدمہ دائر کیا کہ قاضی اس وقت امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ تھے مسئلہ یہ ہے کہ اگر امیرالمومنین خود عدالت میں آئیں تو قاضی کو اپنی مسند چھوڑ کر امیرالمومنین کو اس جگہ بٹھلانا چاہیے اور امیرالمومنین کے خصم کو بھی اسی مسند پر بٹھلائے تا کہ دونوں میں مساوات رہے امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ نے مسند تو چھوڑ دی اور امیرالمومنین کو مسند پر بٹھلایا بھی اور بیان لیا مگر اس یہودی کو مسند پر نہیں بٹھلایا اپنے برابر بٹھلایا اور امیرالمومنین پر ڈگری کر دی اس یہودی کو مقدمہ جتا دیا جس وقت امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ کے انتقال کا وقت آیا تو آپ اس وقت رو رہے تھے کہ اے اللہ اس یہودی کو میں نے مسند پر نہیں بٹھلایا تھا ساری عمر میں انصاف کے خلاف مجھ سے یہی کام ہوا ہے ۔ معاف فرما دیجئے گا اگر ایسے لوگ حکومت کریں تو کیا کوئی ظالم کسی پر ظلم کر سکتا ہے ایک صاحب نے عرض کیا کہ حکومت ہی جب ظلم کرائے تو حکام کیا کریں فرمایا کہ یہ سب تاویلیں ہیں لوگوں نے جان دینا گوارا کیا مگر انصاف کے خلاف گوارا نہیں کیا ۔ پہلے ایسے لوگ بکثرت گزرے ہیں انہوں نے کر کے دکھلا دیا مگر ایسا کرنے میں ضرورت ہے قوت ایمانیہ کی ، حضرت ابوالحسن نوری رحمۃ اللہ علیہ دجلہ کے کنارے پر گزر رہے تھے ایک کشتی کنارے آ کر لگی جس میں دس مٹکے بھی تھے آپ نے دریافت کیا کہ ان مٹکوں میں کیا ہے معلوم ہوا کہ ان میں شراب ہے خلیفہ کے لئے آئے ہیں آپ نے لکڑی لے کر مٹکے توڑنے شروع کر دیئے دس مٹکے تھے آپ نے نو توڑ ڈالے ایک چھوڑ دیا اس کی اطلاع خلیفہ کو دی گئی خلیفہ نے آپ کو طلب کیا آپ تشریف لے گئے اس کے ظلم کی یہ حالت تھی کہ لوہے کی کرسی لوہے کی میز اور لوہے کا قلمدان لوہے کی قلم لوہے کی پوشاک غرض یہ کہ ہر چیز آہنی اور دل بھی آہنی تھا ابوالحسن نوری رحمۃ اللہ علیہ سے دریافت کیا کہ آپ نے مٹکے توڑے ہیں فرمایا ہاں میں نے توڑے ہیں کہا کیوں فرمایا کہ حق تعالی فرماتے ہیں :
وامر بالمعروف و انہ عن المنکر
کہا کہ یہ تو محتسب کے واسطے ہے فرمایا کہ محتسب ہوں کہا سند احتساب کی کیا ہے فرمایا وہی آیت ۔
وامر بالمعروف و انہ عن المنکر
کہا کہ اب کیا ہو گا فرمایا اسی آیت میں
واصبر علی ما اصابک
بھی ہے میں اس لئے تیار ہوں جو کچھ بھی گزرے کہا کہ اچھا یہ بتلائیے کہ دس مٹکے تھے نو توڑے ایک کیوں چھوڑ دیا فرمایا نو مٹکوں تک تو محض اللہ کے واسطے ہاتھ چل رہا تھا دسویں پر نفس میں خیال آیا کہ ہم بھی ایسے ہیں اس لئے دسواں نہیں توڑا اس میں نفس کی آمیزش ہو گئی تھی اور نفس کے واسطے ہم کوئی کام نہیں کرتے اس پر خلیفہ نے کہا فی الحقیقت آپ محتسب ہیں آپ احتساب ہی کا کام ہاتھ میں لے لیجئے اور آپ کو محتسب بنا دیا پس یہ لوگ حکومت کرنے کے قابل تھے
