ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ قلوب اللہ ہی کے قبضے میں ہیں کچھ کسی کو خبر نہیں کہ کس کا قلب کیسا ہے قصبہ مارہرہ میں ایک شخص تھا جو نہایت ہی فسق و فجور میں مبتلا تھا لوگ اس کو نصیحت کرتے کہ میاں ان کاموں سے باز آ جواب میں کہتا کہ میاں ہم جانیں ہمارا خدا جانے تم کون ہوتے ہو ایک روز بدون کسی وعظ کے اور بدون کسی ترغیب و ترہیب کے اس پر ایک حالت طاری ہوئی زبان پر یہ جاری ہوا کہ میرا کیا حال ہو گا اور رونا شروع کیا کھانا پینا سب بند دو تین روز یہی حالت رہی اور اسی حالت میں مر گیا اسی خوف میں کلیجہ پھٹ گیا جو کافر کی تلوار سے مرے وہ تو سب جانتے ہیں کہ شہید ہوتا ہے مگر جو خدا کی محبت یا خشیت کی تلوار سے مرے وہ کیوں نہ شہید ہو گا یہ اس سے بڑا شہید ہے ایک خان صاحب کی حکایت ہے کہ جتنی بازیاں دنیا میں ہو سکتی ہیں سب ان میں تھیں ، عمر رسیدہ ہو گئے تھے ، ان سے لوگ کہتے کہ بڑے میاں فسق و فجور کو چھوڑ دو قبر میں پیر لٹکائے ہوئے ہو پوچھتے پھر کیا کروں لوگ کہتے کہ نماز پڑھو ، روزہ رکھو پوچھتے نماز پڑھ کر روزہ رکھ کر کیا ہو گا ، کہتے جنت ملے گی ، اس پر جواب دیتے کہ جنت کا لینا کون سا مشکل ہے ، جنت کے لئے اتنی مشقت کی کیوں ضرورت ہے ، جنت تو بہت آسانی سے مل سکتی ہے وہ یہ کہ ایک ہاتھ ادھر مارا اور ایک ادھر مارا بس کائی سے پھٹتی چلی گئی راستہ صاف ہو گیا سامنے جنت ہے لو جنت میں پہنچ گئے اس کو کوئی نہ سمجھتا کہ یہ مجذوبوں والی بڑ ہے کیا جس وقت مولوی امیر صاحب نے ہنومان گڑھی کے موقع پر جہاد کا فتوی دیا تو یہ خان صاحب مولوی صاحب کے پاس پہنچے کہ مولوی صاحب ہم جیسے گنہگار بھی اس کام کے لئے قبول کئے جا سکتے ہیں مولوی صاحب نے فرمایا مانع کون چیز ہے غرض تلوار لے کر میدان میں پہنچ گئے اور دس بیس کو مارا او خود بھی شہید ہو گئے پھر فرمایا کہ بحمد اللہ جان دینے والے اب بھی موجود ہیں اس وقت کوئی بہت ہی بڑی چیز ہوتی ہے آنکھوں میں یا دل میں کہ جان دینا آسان ہو جاتا ہے اور یہ حالت ہو جاتی ہے غرض برکات اب بھی ہیں اسی کی نسبت فرماتے ہیں ۔
ہنوز آں ابر رحمت درفشانست خم و خمخانہ با مہر و نشانست
