یک سوال کے جواب میں فرمایا ! کہ عاشق ہمیشہ نا مراد ہی رہتا ہے کیونکہ جس مقام قرب تک پہنچتا ہے آ گے کا طالب ہوتا ہے جو اس وقت حاصل نہیں وھکذا ـ غرض حضرت عاشق جنت سے ادھر نا مراد ہی رہتا ہے مگر وہ نامرادی ہی اس کی مراد ہے ؎ گر مرادت رامذاق شکر ست ٭ بے مرادی نے مراد دلبر ست ( اگرچہ تیری خواہش کیسی ہی شیریں اور عمدہ ہے ـ مگر کیا (ہر وقت اپنے کو بے مراد سمجھ کر آ گے ترقی کا طالب رہنا یہ ) بے مرادی محبوب کی خواہش نہیں ہے ) ـ اور بعض کو تو یہاں تک غلو ہو گیا ہے کہ انہوں نے یہ حکم لگا دیا ہے کہ جنت میں بھی یہی نا مرادی اور بے چینی ہو گی ـ مگر یہ محض غلط ہے وہاں بالکل سکون ہوگا اس غلطی کا منشاء یہ ہے کہ تجلیات لا متناہی ہیں وراء الوراء ثم وراء الوراء تو ہر تجلی پر اس کی طلب بڑھتی رہے گی اورچونکہ وہ لامتناہی ہیں تو اس آ گے کے انتظار میں بے چینی ہو گی لیکن یہ حقیقت کے خلاف ہے اس لئے کہ جتنی طلب ہو گی چونکہ وہاں اس کی استعداد بھی ہو گی اس لئے وہ اول ہی بار عطا فرما دی جائے گی اور اس سے آ گے جو عطا ہو گی وہ بلا طلب عطا ہو گی اس لئے اس کا انتظار ہی نہ ہو گا ـ خلاصہ یہ کہ یہاں طلب زیادہ ہے استعداد کم ! اس لئے عطا میں دیر ہوتی ہے وہاں استعداد سے زیادہ طلب ہی نہ ہو گی ـ اسلئے نہ انتظار ہو گا نہ بے چینی غرض جنت میں بے چینی نہ ہو گی ـ
