ملفوظ 106: امور تکوینیہ مذوبین کے سپرد کرنے کی حکمت

ایک اہل علم کے سوال کے جواب میں فرمایا ! کہ تکوینی کار خانہ مجذوبین سے متعلق کرنے میں یہ حکمت ہے کہ ان میں عقل نہیں ہوتی اس لئے تشریع کے مکلف نہیں ہوتے اور ان کی بعض خدمتیں شرع پر منطبق نہیں ہوتیں مثلا اگر مسلمانوں اور کافروں میں مقابلہ ہو تو مسلمانوں کا غلبہ مقصود تشریعی ہے اور ایسا ہونا بعض اوقات خلاف مصلحت اور حکمت ہوتا ہے اسلئے ایسی جماعت کے سپرد کیا گیا جس کو اس سے کچھ بحث نہیں اور ایسا کام سالک کب کر سکتا ہے اور اس کو کیسے جائز ہوتا ـ اسی سلسلہ میں یہ بھی فرمایا کہ میرا رجحان پہلے اس طرف تھا کہ مجذوبین اجتہاد نہیں کرتے محض امر صریح کے متبع ہیں اور ملائکہ کے متعلق بھی ہیی خیال تھا کہ وہ محض نصوص کے متبع ہیں مگر حدیث جبریل انہ د س الطین فی فم فرعون مخافۃ ان تدرکہ الرحمۃ ( جبریل علیہ السلم فرعون کے منہ میں گارا اس لئے ٹھونس رہے تھے کہ کہیں رحمت حق اس پر متوجہ نہ ہو جائے ) (روایتہ بالحاصل )سے نیز حدیث القاتل التائب من الذنب اختلف فیہ ملائکۃ الرحمۃ والعذاب (جس قاتل نے گناہ (قتل ) سے توبہ کر لی تھی (بعد مرنے کے ) رحمتہ اور عذاب کے فرشتوں میں اسکے بارہ میں اختلاف ہوا ) سے اس طرف رجحان ہو گیا کہ ملائکہ اجتہاد بھی کرتے ہیں وکذا المجذوبین وزادالرحجان بقصۃ الاشراقی ان المجذوبین مختلفون فی احکام بقاء السلطنۃ و تبد لھا ـ (جو ملائکہ کا حال ہے یہی حال مذوبین کا ہے اور اشراقی صاحب ( جو حضرتؒ کے زمانہ میں ایک مذوبؒ تھے ) کے قصہ سے یہ خیال اور بڑھ گیا کیونکہ وہ فرماتے تھے کہ مجذوبوں میں اس میں اختلاف ہے کہ انگریزی سلطنت باقی رہے یا اس کو بدل دیا جائے ) ـ