ایک نووارد صاحب نے حضرت والا سے بیعت کی درخواست کی ۔ حضرت والا نے فرمایا کہ بیعت کوئی ضروری چیز نہیں ، اصل چیز تعلیم ہے اور یہ خیال کہ بدون بیعت ہوئے نفع نہیں ہو سکتا ، یہ خیال جہالت کا ہے بیعت الگ چیز ہے اس کی بھی ایک خاص برکت ہے مگر اس کو درجہ کا دخل نہیں کہ اس کے وجود عدم پر نفع اور ضرر کا مدار ہو اس پر ان صاحب نے عرض کیا کہ جو حضرت حکم فرمائیں میں تعمیل کے لیے حاضر ہوں ، فرمایا اس میں حکم کی کون سی بات ہے اور میں جو فائدہ بیان کرتا ہوں مجھے تنگ کرنا مقصود نہیں ۔ مطلب میرا یہ ہوتا ہے کہ طالب حقیقت سمجھ لے اور معاملہ صاف ہو اور بدون اس کے محض باتیں بنانے سے کام نہیں چلتا ، کام تو کرنے سے چلتا ہے اور کام بھی طریقہ اور اصول سے ہو ان اصول پر عمل کر کے تو دیکھے جو پھر کبھی بھی تنگی یا دشواری پیش آئے اور ناواقف لوگ اسی سے گھبراتے ہیں اگر میرے یہاں پر اصول نہ ہوتے خواہ وصول کر لیا کرتا مگر عوام خوش رہتے مگر میں نے اپنا دنیوی خسارہ گوارہ کر لیا محض اس واسطے کہ یہ لوگ راستہ پر پڑ جائیں اس لیے یہ اصول اختیار کیے اس لیے نہ معتقد بنانے کی کوشش کرتا ہوں نہ غیر معتقد بنانے کی کوشش کرتا ہوں صحیح اصول پیش کر دیتا ہوں اس پر چاہے کوئی معتقد رہے یا غیر معتقد نہ اس کی خوشی کہ کوئی معتقد ہو نہ اس کا رنج کہ کوئی غیر معتقد ہو ، الحمد للہ سب برابر ہیں کسی کو بلانے نہیں جاتا ، کوئی اشتہار نہیں دیا ، کیا میرے دماغ میں جنون ہے مالیخولیا ہے کہ میں یہ چاہوں کہ لوگ مجھ سے غیر معتقد ہوں ۔ ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت والا کے رسائل اور کتابیں اشتہار رہی تو ہیں ان کو لوگ دیکھ کر آتے ہیں ، فرمایا کہ مگر یہاں آ کر رسائل کو بزعم خود جب میرے معاملات پر منطبق نہیں پاتے تو میں ان کی طرف سے یہ شعر پڑھتا ہوں :
چہ قیامت است جاناں کہ بعاشقاں نمودی رخ ہمچو ماہ تاباں دل ہمچو سنگ خارا
اور میں الحمد للہ اپنی اصلاح سے بھی غافل نہیں ، چاہے مجھ سے کوئی قسم لے لے ، جو بات معلوم ہوتی جاتی ہے اس کی اصلاح کرتا رہتا ہوں ، میں اپنے کو بھی اصلاح سے بری نہیں سمجھتا ، صدہا نقائص میرے اندر ہیں بلکہ اہل معاملہ جو ناواقفی سے اعتراض کرتے ہیں وہ اکثر غلط ہوتا ہے اور میں جو اپنی نسبت کہتا ہوں وہ صحیح بقول شاعر :
خود گلہ کرتا ہوں اپنا تو نہ سن غیروں کی بات ہیں یہی کہنے کو وہ بھی اور کیا کہنے کو ہیں
( اے جان من یہ کیا قیامت ہے کہ تم نے عاشقوں کو اپنا چہرہ تو چمکتے ہوئے چاند جیسا دکھلایا اور دل پتھر جیسا 12 )
ناواقفوں کی تو یہ حالت ہے کہ ایک بار ایک چھکڑا بھرا ہوا عورتوں کا قصبہ تیتروں سے آیا ، بیعت ہونے کی درخوست کی ، میں نے دریافت کرایا کہ خاوند کی اجازت لے کر آئیں یا نہیں ، معلوم ہوا نہیں میں نے بیعت سے انکار کر دیا اور کہہ دیا خاوندوں سے اجازت لے کر اور ان کے دستخط کرا کر سب الگ الگ خطوط میرے پاس بھیجو ، میں بیعت کر لوں گا ۔ جناب نہ پھر کوئی تیتردن سے آیا نہ بٹیردن سے یہ تو طلب کی حالت ہے اگر طلب ہوتی تو میں نے کون سی ایسی سخت شرط لگائی تھی کہ وہ ہو نہیں سکتی تھی اس پر میری شاکی ہو کر اور اعتراض کر کے گئیں ۔
اب مقابلہ میں اہل فہم کی حالت بیان کرتا ہوں ۔ مولوی عبدالحئی صاحب حیدر آباد دکن سے چلے تو چار شرطیں ذہن میں لے کر چلے تھے کہ جہاں یہ شرطیں پاؤں گا وہاں بیعت ہوں گا ۔ ایک تو یہ کہ بیعت کو تعلیم کی شرط نہ بناوے دوسرے کہ وہاں لنگر نہ ہو ، تیسرے یہ کہ ان پڑھ نہ ہو ، چوتھے یہ کہ بہت بوڑھا نہ ہو ، چاروں شرطیں عجیب ہیں اور یہاں پر الحمد للہ بزرگوں کی دعاء کی برکت سے چاروں پہلے ہی سے ہیں ۔ سو دیکھ لیجئے کہ کیسی سمجھ کی بات ہے یہاں کا طرز الحمد للہ اس مقولہ کا مصداق ہے محبت رکھیں پاک لینے دینے کے منہ میں خاک ، غرض اس طریق سے ناواقفی کے سبب لوگوں کو پریشانی میں ابتلا ہے بس میں اسی کو ظاہر کرنا چاہتا ہوں ۔
