فرمایا ! ایک صاحب کا خط آیا ہے میں نے ان کو بوجہ ان کی گڑبڑ کے لکھ دیا تھا کہ سوائے استدعا دعا کے اور میری خیریت معلوم کرنے کے اور کوئی خطاب خط میں نہ کیا کرو ـ اس کے بعد کئی مرتبہ ان کے خطوط آئے ان اصول کے پابند رہے آج لکھا ہے کہ میرے لڑکے کی شادی ہے مجھے رسوم مروجہ کے متعلق مسائل دریافت کرنا ہیں ـ اطمینان تو حضرت ہی سے ہوتا مگر چونکہ اجازت نہیں اس لئے کسی ایسے عالم کا پتہ تحریر فرما دیں کہ جو ان مسائل میں دل چسپی رکھتے ہوں ـ فرمایا نہایت ہی سلیقہ کی بات ہے جو طرز انہوں نے اختیار کیا اب مجھ پر یہ اثر ہوا کہ راستہ بتاؤں گا ـ ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت اصلاح الرسوم دیکھنے کو لکھ دیا جائے فرمایا کہ میری تجویز اس سے بھی بہتر تجویز ہے یہ لکھ دیا ہے کہ یہاں کسی سے تعلق پیدا کرو ان کو تم لکھو اور
وہ مجھ سے مسائل پوچھ کر تم کو لکھ دیا کریں یہ سہل راستہ نکل آیا ـ اس میں براہ راست خط و کتابت بھی نہ ہو گی اور جو ان کا مقصود ہے کہ میں ہی مسائل بتاؤں وہ بھی پورا ہو جائے گا ـ مجھ کو خدمت سے انکار نہیں مگر چاہتا یہ ہوں کہ اصول سے کام ہو بے اصولی سے مجھے تکلیف ہوتی ہے ایک تو خدمت کرو اور اوپر سے تکلیف اٹھاؤ اور غلامی کرو مجھ سے تو یہ ہو نہیں سکتا ـ اس پر مجھ کو سخت کہتے ہیں ـ میں بحمد اللہ سخت نہیں ہوں یہ تو بہتان ہے ـ اب دیکھ لیجئے ! مشاہدہ ہے کہ ڈھنگ سے بات لکھی ویسا ہی جواب دیا گیا ـ
