کلام بضرورت ہونا چاہئے ایک اہل علم کی طرف سے مخاطب ہو کر فرمایا ! کہ صبح آپکے پرچہ کا جواب دے چکا ہوں اس کر زبانی بھی سمجھ لیجئے گا حدیث میں عی فی البیان کے ایمان میں سے ہونے کا ذکر فرمایا گیا ہے اصل یہ ہے کہ مقصود کے بیان میں تو روانی ہوتی ہے اور غیر مقصود کے بیان میں انقباض مثلا انسان کسی اور طرف متوجہ ہونے کی حالت میں کلام کرتا ہے تو اس کے کلام میں روانی نہیں ہوتی بس اہل اللہ پر چونکہ خوف آخرت کا غلبہ ہوتا ہے اور ہر وقت اس کا دھیان رہتا ہے لہٰذا ان کے کلام میں دلبستگی ہوتی ہے خوف آخرت کے غلبہ سے بیان کی روانی جاتی رہتی ہے جیسے ضروری کلام میں جو کہ مقصود ہوتا ہے آدمی انشراح اور بسط سے بولتا ہے اور روانی ہوتی ہے اور غیر مقصود یا فضول کلام میں روک روک کر بستگی کے ساتھ بولتا ہے ایسے ہی غلبہ خوف آخرت سے بضرورت ہی بولتا ہے تو خواہ مخواہ اس کے عام کلاموں میں رکاوٹ ہوتی ہے اور اس کی محسوس مثال یہ ہے کہ : کسی ایسے شخص سے جسے زور کا پیشاب لگا ہو مثناۃ بالتکریر کی تقریر کرائی جائے تو ہر گز روانی
ملفوظ 120 : حدیث “” العی من الایمان ،، کا مطلب
نہ ہو گی ـ غیر مقصود میں رواں کلام وہی کر سکتا ہے جس پر خوف آخرت کا غلبہ نہ ہو اسی کو کلام میں خط ہوگا ایسے ہی کلام کی برائی کرنا مقصود ہے جو محض خط کیلئے کیا جاتا ہے کلام بضرورت ہونا چاہیے ـ اس میں خط کا درجہ نہ ہونا چاہیے آدمی کو چاہیے کہ ضرورت کے درجہ تک کلام کو رکھے غیر ضروری کلام میں بڑے ہی نقصان ہیں مزاح کے طور پر فرمایا کہ مگر ایسا بھی نہ ہو کہ ضروری کلام میں بھی اختصار کرنے لگیں جیسے ایک شخص نے نماز کے اندر اختصار کیا تھا ـ وہ انقد کی نماز کہلاتی ہے یعنی الحمد کے شروع کا الف اور ختم کا نون ـ اور قل ھو اللہ کے شروع کا قاف اور ختم کی دال یہ انقد کی قراۃ ہو گئی ـ اسی طرح ایک شخص نے خط میں مجھ کو لکھا تھا السلام علیلم الٰی اخرہ یہ اس لئے عرض کر رہا ہوں کہ کبھی ضروری کلام میں بھی اختصار کرنے لگیں اور چپ شاہ بن کر بیٹھ جائیں آجکل اہل فہم دنیا میں بہت آباد ہیں ( مراد غیر اہل فہم ) جن کو عقل اور فہم دونوں کا ہیضہ ہے یا یوں کہئے کہ قحط ہے ـ غرضیکہ دونوں حالت میں حد اعتدال سے دور رہتے ہیں اس لئے بات میں اس کا خیال رہتا ہے کہ الٹی نہ سمجھ جائیں ـ
