عطاء خدا وندی کے لیے طلب شرط ہے ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ان کی رحمت کی کیا ٹھکانہ ہے وہ تو ہر وقت اپنے بندوں پر رحمت فائض فرمانے کو تیار ہیں حتی کہ مایوسین کی بھی امیدیں اور مرادیں بر لاتے ہیں فرماتے ہیں وھو الذی ینزل الغیث من بعد ماقنطوا وینشر رحمتہ ( اور وہ اللہ تعالی ایسا ہے جو لوگوں کے نا امید ہو جانیکے بعد مینہ برساتا ہے اور اپنی رحمت پھیلاتا ہے 12) وہاں کیا دیر ہے مگر اتنا ضرور ہے کہ دیکھتے ہیں کہ یہ بھی کچھ کرتا ہے وہاں پر عطاء کے لیے قاعدہ طلب شرط ہے عدم طلب کے متعلق فرماتے ہیں انلز مکمو ھا و انتم لھا کر ھون ـ اور اس طلب کی استعداد تام پیدا ہوتی ہے کسی کامل کی جوتیاں سیدھی کرنے سے اس راہ میں راہزم بہت ہیں بدوں راہبر کے بہت سے خطرات ہیں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جان تک جاتی رہتی ہے اور ہلاک ہو جاتا ہے شیخ اس خطرہ سے نکال کر منزل مقصود پر پہنچانے کی تدابیر کرتا ہے اور دعا کرتا ہے اور اس دشوار گزار گھاٹی سے نکال کر لے جاتا ہے بدوں رہبر کے ایک قدم رکھنا بھی نہایت خطرناک بات ہے اسی کو فرماتے ہیں ؎ یار باید راہ را تنہا مرد ٭ بے قلا و زاندیں صحرا مرد ( راستہ کے لیے ساتھی چاہیے تنہا مت چلو ـ بغیر رہبر کے اس جنگل میں مت جاؤ )
