ملفوظ 249 )اعتقاد کا مطلب

ایک سلسلہ گفتگو میں کسی خاص معاملہ کی نسبت فرمایا کہ اس کو اعتقاد ہی نہیں کہتے ، اعتقاد تو اس کو کہتے ہیں جو جازم ہوتا ہے ٹل نہیں سکتا ہٹ نہیں سکتا ، جیسے کوئی کسی پر عاشق ہو جائے تو اس کو کوئی بات بھی ہٹا نہیں سکتی یہ حقیقت اعتقاد کی ۔