( ملفوظ 248 )مرد کی زیادتیوں کا ذکر

فرمایا کہ آج ایک بی بی کا خط آیا ہے ، عرصہ تقریبا چالیس برس کا ہوا ، یہ مجھ سے بیعت ہوئی تھیں ۔ یہ بی بی نہایت دیندار ہیں ، خاوند کے ستانے اور بے مروتی اور بے وفائی کی شکایتیں لکھی ہیں جس کو پڑھ کر بے حد دل کو قلق اور صدمہ ہوا ۔ فرمایا کہ ان عورتوں کے بارے میں عدم ادائے حقوق کے متعلق لوگوں نے بے حد ظلم پر کمر باندھ رکھی ہے ۔ اس غریب نے یہاں تک لکھا ہے کہ روتے روتے میری بینائی کمزور ہو گئی ہے ، کبھی کبھی جی میں آتا ہے کہ کپڑے پھاڑ کر باہر نکل جاؤں یا کنویں میں ڈوب مروں مگر دین کے خلاف ہونے کی وجہ سے کچھ نہیں کر سکتی ، دل کو سمجھا کر رک جاتی ہوں ، شب و روز سوائے رونے کے کوئی کام نہیں ، فرمایا کہ بڑے ظلم کی بات ہے آخر رونے کے سوا اور بے چاری کرے بھی کیا ۔ ان بی بی کے عقد ثانی کو تقریبا عرصہ سترہ برس کا ہوا ان صاحب نے بڑی آرزؤں اور تمناؤں سے ان بی بی سے نکاح کیا تھا اس وقت رنگ و روغن اچھا ہو گا اس وقت تو سفارشیں کراتے پھرتے تھے ، لٹو ہو رہے تھے اب ضعیفی کا وقت ہے اب بے چاری کو منہ بھی نہیں لگاتے ۔ حتی کہ نان نفقہ سے بھی محتاج ہے ۔ میاں عمر میں چھوٹے ہیں اور بیوی بڑی ہیں ، فرمایا کہ اتنے زمانہ تک رفاقت رہی ، یعنی سترہ برس اس کا ہی حق ادا کیا ہوتا کیا ٹھکانا ہے اس سنگ دلی اور بے رحمی کا ، کسی بات کا بھی اثر نہیں ، اگر وہ بے چاری کہتی بھی ہے کہ میری دیرینہ خدمات کا کیا یہی ثمرہ ہے تو کہتے ہیں کہ تو نے خدمات ہی کون سی کی ہیں ۔ فرمایا کہ نہ معلوم خدمات کی فہرست ان کے ذہن میں کیا ہے جس کو یہ پورا نہ کر سکیں ۔ میں آج کل ایک رسالہ لکھ رہا ہوں اس میں ان ہی عاجزوں کے حقوق کے متعلق بیان کیا گیا ہے ، حکومت کرنے کو تو سب کا جی چاہتا ہے محکوم پر اس کا مضائقہ نہیں مگر محکوم کے کچھ حقوق بھی تو ہیں ان کی بھی تو رعایت کی ضرورت ہے ۔ فرمایا کہ ذکر کرنے کی تو بات نہ تھی مگر چونکہ ضرورت ہے اس لیے کہتا ہوں کہ میرے گھر والوں سے معلوم کیا جائے میں اپنے گھر والوں پر کس قدر حکومت کرتا ہوں اور ان سے کیا کیا خدمتیں لیتا ہوں ، الحمد للہ میں نہ خود مقید ہوتا ہوں نہ دوسروں کو مقید کرتا ہوں ، بادشاہوں کی سی زندگی بسر ہوتی ہے ۔ میرا معمول ہے کہ گھر جا کر دیکھا کہ تازی روٹی نہیں پکی تو باسی روٹی کھا لی اور اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ دیکھا کہ وہ کسی کام میں مشغول ہیں خود اپنے ہاتھ سے روٹی لے لی ، پانی بھر کر پاس رکھ لیا ، برتن لے کر اپنے ہاتھ سے سالن لے لیا اور بیٹھ کر کھا لیا بلکہ یہاں تک کرتا ہوں کہ دیکھتا ہوں کہ روٹی وغیرہ پکانے میں مشغول ہیں اور ان کو کسی چیز کی ضرورت ہے ، اکثر گھروں میں ایسا ہوتا ہے مثلا پانی کی ضرورت ہے اپنے ہاتھ سے نل سے یا گھڑے سے لوٹا بھر کر دے دیتا ہوں اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ جا کر جب دیکھا کہ فارغ ہیں تو کہہ دیا کہ کھانا لاؤ ، وہ بے چاری دے دیتی ہیں ، ان باتوں کی رعایت رکھنا ضروری ہے اور مشغولی عدم مشغولی ہی پر کیا موقوف ہے انسان ہی تو ہے ہر وقت طبیعت یکساں نہیں رہتی کسی وقت خادم کی طبیعت پر کسل ہوتا ہے اور اپنی طبیعت بشاش دیکھی ، اپنے سب کام اپنے ہاتھ سے کر لیے ، غرض یہ کہ اس کا کوئی معمول یا التزام نہیں کہ وہی کریں سو اگر حدود میں رہتے ہوئے اور ان کے راحت و آرام کا خیال کرتے ہوئے ان سے خدمت بھی لی جائے تو کوئی مضائقہ نہیں آخر ہیں کس مرض کی دعا لیکن بے مروتی اور بے رحمی اور ظلم کا درجہ تو نہ ہونا چاہیے ۔
یہ عورتوں کا طبقہ تو مردوں کے ہاتھ میں مردہ بدست زندہ کا مصداق ہوتا ہے ان کو ستانے سے کتنی رکعت کا ثواب ملتا ہے ۔ اگر ایسی ہی بہادری اور حکومت کا جوش ہے تو کسی قدرت والے پر آدمی حکومت کرے ہم تو جب جانیں مثلا کوئی ملازم ہو اور ہوٹرا اس کو ذرا کچھ کہیں میاں کو حکومت کی حقیقت معلوم ہو جائے ، بعض بے رحم تو حدود سے گزر کر عورتوں کو زدوکوب کرتے ہیں جس کے تصور سے بھی وحشت ہوتی ہے ، عورتوں پر اس قسم کے تشدد کرنا نہایت کم حوصلگی اور بزدلی کی دلیل ہے جو مرد کی شان کے بالکل خلاف ہیں ۔ یہ عرض کر رہا تھا کہ میں بہت سے کام اپنے ہاتھ سے کر لیتا ہوں تو مجھ کو کونسی تکلیف ہوتی ہے اور میرا کون سا کام ہونے سے رہ جاتا ہے بلکہ جیسی مجھے اس سے راحت ہوتی کہ وہ میری خدمت کرتیں اس سے بھی راحت ہوتی ہے کہ ان کو راحت مل گئی ۔ رات کو مجھ کو نیند کم آتی ہے تو گھر والوں کو سوتا دیکھ کر خدا کا شکر ادا کرتا ہوں کہ ان کو تو نیند آ رہی ہے ورنہ دو قلق جمع ہو جاتے ، ایک اپنے نہ سونے کا اور نیند نہ آنے کا ایک ان کا پھر گھر سے چلنے کے وقت پوچھتا ہوں کہ کوئی ضروری کام میرے متعلق تو نہیں ، میں جا رہا ہوں اگر کہا کہ کوئی کام نہیں چلا آیا اگر کہا کہ ہے بیٹھ گیا ، مثلا کوئی خط ہی لکھوانا ہے سو اس کام کو پورا کر کے چلا آیا ۔ کھانا کھا کے فارغ ہوا اور پان کو جی چاہا پوچھ لیا کہ پاندان کہاں ہے انہوں نے بتلا دیا اس میں سے پان نکال کر کھا لیا ، آج کل کے نوجوان کا محاورہ ہے کہ بیوی کو رفیق زندگی کہتے ہیں ارے بھلے مانسوں رفاقت کا کوئی حق بھی ادا کرتے ہو یا محض الفاظ ہی الفاظ ہیں ۔ عملی صورت میں تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ بے چاری کو فریق زندگی بنا رکھا ہے اور سنئے کہ خاوند کی طرف سے تو یہ ظلم اور تشدد اب وہ شکایت کرتی ہے ، ماں باپ سے اکثر وہ بھی اس کو دباتے اور دھمکاتے ہیں ۔ اب بیچاری کے پاس کوئی ذریعہ بظاہر نہیں رہا بجز اس کے کہ وہ خدا سے فریاد کرے اور کوسا کرے اور واقعی وہ کوسنا کوس نہ دو کوس اس قدر قریب ہوتا ہے کہ فورا قبول ہوتا ہے ، مظلوم کی آہ حق سبحانہ تعالی بہت قبول فرماتے ہیں ۔ ایک صاحب نے عرض کیا کہ عورتیں تو خود ہی گھر کے اس قدر کام کرتی ہیں اور مشقتیں اٹھاتی ہیں کہ کسی وقت چین سے نہیں بیٹھتیں تو وہ خود ہی اپنی راحت نہیں چاہتیں ۔ فرمایا ان کا ایسا کرنا ان کی ذاتی مصلحت ہے وہ یہ ہے کہ اس سے ان کی تندرستی ٹھیک رہتی ہے ، مثلا کھانا پکانا ہے ، پیسنا ہے ، کوٹنا ہے ، خود ہمارے گھروں میں سب کام اپنا اپنے ہاتھ سے کرتی ہیں ۔ حتی کہ اگر ضرورت ہو تو سیر دو سیر پیس بھی لیتی ہیں ۔ سو وہ اگر اپنی رائے اور مصلحت سے مشقت اختیار کریں ۔
یہ دوسری بات ہے مگر ان پر ظلم کی راہ سے مشقت ڈالنا نہایت بے رحمی اور بے مروتی کی بات ہے ۔ فرمایا کہ ان بی بی کے خاوند نے ایک مرتبہ مجھ سے خود شکایت کی تھی کہ یہ وظیفہ وظائف میں رہتی ہیں ۔ میری خدمت کی پروا نہیں کرتیں ، بندہ خدا ایسی کون سی خدمات ہیں جو بغیر وظائف ترک کیے ہوئے نہیں ہو سکتیں ، مرد کی خدمات ہی کیا ہیں چند محدود خدمات یہ دوسری بات ہے کہ خدمات کا باب اس قدر وسیع کر دیا جائے جن کا پورا کرنا ہی بے چاری پر دو بھر ہو جائے پھر فرمایا کہ ایک مقولہ مشہور ہے کہ مرد ساٹھا پاٹھا اور عورت بیسی کھیسی سو عورت کے اعضاء کا جلد ضعیف ہو جانا اس کا سبب بھی زیادہ یہی ہے کہ اس پر ہر وقت غم اور رنج کا ہجوم رہتا ہے ۔ سینکڑوں افکار گھیرے رہتے ہیں امور خانہ داری کا انتظام بے چاری کے ذمہ ڈال کر مرد صاحب بے فکر ہو جاتے ہیں وہ غریب کھپتی ہے مرتی ہے اگر یہ حضرت دو روز بھی انتظام کر کے دکھا دیں ہم تو اس وقت ان کو مرد سمجھیں باوجود ان سب باتوں کے کمال یہ ہے کہ اپنی زبان سے اظہار بھی نہیں کرتی کہ مجھ پر کیا گزر رہی ہے یہ سبب ہے عورت کے جلد ضعیف ہو جانے کا ۔ یہاں پر بعض عورتیں عیش اور راحت میں ہیں اور عمر ان کی تقریبا چالیس پینتالیس برس کی کم و بیش مگر یہ معلوم ہوتا ہے کہ ابھی سال دو سال کی بیاہی ہوئی آئی ہیں اور ان کو کوئی پچیس برس کی عمر سے زائد نہیں بتلا سکتا تو بیوی کو عیش و آرام میں رکھنے میں ایک یہ بھی بڑی حکمت ہے کہ وہ تندرست رہے گی ، ضعیفی کا اثر جلد نہ ہو گا دراز مدت تک ان کے کام کی رہے گی مگر لوگ اپنی راحت و مصلحت کا خیال کر کے بھی تو ان کی رعایت نہیں رکھتے اور میں یہ نہیں کہتا کہ جورو کے غلام بن جاؤ ہاں یہ ضرور کہتا ہوں کہ حدود کی رعایت رکھو اور ظلم تک نوبت نہ پہنچاؤ ۔ اگر کبھی ضرورت ہو دباؤ بھی دھمکاؤ بھی کوئی حرج نہیں ، حاکم ہو کر رہنا چاہیے اور محکوم کو محکوم بن کر لیکن جیسے محکوم کے ذمہ حاکم کے حقوق ہیں اسی طرح حاکم کے ذمہ محکوم کے بھی حقوق ہیں ان کو پیش نظر رکھتے ہوئے برتاؤ کرنا چاہیے ایک مولوی صاحب فرماتے تھے کہ عورتوں کے ذمہ واجب ہے کھانا پکانا ۔ میری رائے ہے کہ ان کے ذمہ واجب نہیں میں نے اس آیت سے استدلال کیا ہے عدم وجوب پر ۔
و من ایاتہ ان خلق لکم من انفسکم ازواجا لتسکنوا الیھا و جعل بینکم مودۃ و رحمۃ
حاصل یہ ہے کہ عورتیں اس واسطے بنائی گئی ہیں کہ ان سے تمہارے قلب کو سکون ہو ، قرار ہو جی بہلے ، تو عورتیں جی بہلانے کے واسطے ہیں نہ کہ روٹیاں پکانے کے واسطے اور آگے جو فرمایا کہ تمہارے درمیان محبت و ہمدردی پیدا کر دی ہے ، میں کہا کرتا ہوں ، مودۃ یعنی محبت کا زمانہ تو جوانی کا ہے اس وقت جانبین میں جوش ہوتا ہے اور ہمدردی کا زمانہ ضعیفی کا ہے دونوں کا اور دیکھا بھی جاتا ہے کہ ضعیفی کی حالت میں سوائے بیوی کے دوسرا کام نہیں آ سکتا ۔ اس ضعیفی اور ہمدردی پر ایک حکایت یاد آئی ۔ ایک مقام میں ایک ولایتی رئیس تھے ، گورنمنٹ میں ان کا بڑا اعزاز اور بڑی قدر تھی یہ کابل سے یہاں پر آ کر رہے تھے ۔ گورنمنٹ نے کچھ گاؤں دے دیئے تھے ان کی بیوی کا انتقال ہو گیا ، کلکٹر صاحب تعزیت کے لیے آئے ، ملاقات ہوئی ۔ کلکٹر صاحب نے فرمایا کہ آپ کی بیوی کا انتقال ہو گیا ، ہم کو بڑا رنج ہوا اس پر یہ ولایتی صاحب اپنی ٹوٹی پھوٹی زبان میں فرماتے ہیں کلتر صاحب ( کلکٹر صاحب ) وہ ہمارا بیوی نہ تھا ہمارا اماں تھا ہم کو گرم گرم روتی ( روٹی ) کھلاتا تھا ، پنکھا جھلتا تھا ، تھندا تھندا ( ٹھنڈا ٹھنڈا ) پانی پلاتا تھا ، یہ کہتے جاتے اور روتے جاتے تھے ، خیر وہ تو ولایتی تھے کچھ ایسے لکھے پڑھے نہ تھے اپنی سادگی سے ایسا کہہ دیا مگر ایک ہندو لیڈر نے اپنے ایک لیکچر میں یہ ہی کہا کہ یہ میری بیوی نہیں اماں ہے یہ میں نے خود ایک اخبار میں دیکھا ہے
یہ تو تعلیم یافتہ بیرسٹری پاس کیے ہوئے ہے اس کو کیا سوجھی یہ بھی کوئی فخر کرنے کی بات تھی ۔ میں یہ کہہ رہا تھا کہ ضعیفی میں سوائے بیوی کے کوئی کام نہیں آ سکتا ، ایسے بہت سے واقعات ہیں ۔ شاہ جہان پور میں ایک صاحب نے نوے برس کی عمر میں شادی کی تھی ، لڑکے لڑکیاں بہوئیں سب خلاف تھے اور یہ کہتے تھے کہ ہم خدمت کو موجود ہیں ۔ آپ کو نکاح کی ضرورت ہی کیا ہے بڑے میاں نے کہا کہ تم میری مصلحت کو کیا سمجھ سکتے ہو ، اتفاق سے بڑے میاں بیمار ہو گئے اور بیماری بھی دستوں کی اور ان دستوں میں تعفن بے حد کہ مکان تک سڑ جاتا تھا ، لڑکے لڑکیاں وغیرہ میں سے کوئی پاس نہ آیا ، سب نفرت کرتے تھے ، اس بیوی بے چاری نے خدمت کی اور ذرا نفرت نہیں کی ، باوجود اس کے کہ نئی شادی ہو کر آئی تھی اور عمر بھی تھوڑی تھی ایسا تعلق ہوتا ہے بیوی کو خاوند سے جس کی خاوند صاحب کو قدر بھی نہیں ہوتی ۔
دوسرا واقعہ ایک صاحب بڑے آدمی تھے انہوں نے نکاح کیا مگر ان کو ضعف تھا کشتوں وغیرہ سے کام چل جاتا تھا ایک طبیب نے نہایت گرم کشتہ دے دیا جس سے ان کو جذام کا مرض ہو گیا ، تمام بدن پھوٹ نکلا ، کوئی پاس جانا بھی گوارا نہ کرتا تھا مگر بیوی کے اولاد ہوتی تھی تو ایسی حالت میں بھی اس نے نفرت نہ کی اور کسی خدمت سے عذر نہ کیا ، کیا ٹھکانا ہے اس تعلق اور ایثار کا دوسرا کر نہیں سکتا ۔
تیسرا واقعہ حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے آخر وقت میں نکاح کیا تھا محض اس وجہ سے کہ حضرت کو ناسور کا مرض ہو گیا تھا اس کی دیکھ بھال سوائے بیوی کے ہو نہیں سکتی تھی وہ بی بی بیچاری برابر اپنے ہاتھ سے شب و روز میں کئی کئی مرتبہ دھوتیں اور صاف کرتیں تھیں ، نہایت خوشی کے ساتھ کوئی گرانی یا نفرت ان کو نہ ہوتی تھی ، دنیا میں کوئی اس تعلق کی نظیر پیش نہیں کر سکتا ۔
چوتھا واقعہ حضرت حاجی صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے آخر عمر میں نکاح کیا ۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ حضرت پیرانی صاحبہ نابینا ہو گئیں تھیں ۔ حضرت نے محض خدمت کی غرض سے نکاح کیا تھا ۔ یہ بی بی حضرت کی بھی خدمت کرتیں اور پیرانی صاحبہ کی بھی ۔ ان واقعات سے پتہ چلتا ہے کہ عورت محض شہوت ہی کے لیے تھوڑا ہی ہوتی ہے اور بھی مصالح اور حکمتیں ہیں ۔
ایک صاحب نے عرض کیا کہ بعض عورتیں پھوہڑ ہوتی ہیں اس وجہ سے بعض اوقات خاوند کو اس کی حرکات سے بد دلی پیدا ہو جاتی ہے ۔ فرمایا کہ عورت کا پھوہڑ ہونا تو اپنے ایک خاص اثر کے سبب ایسے کمال کی صفت ہے جو نہایت ہی محبوب اور قدر کی چیز ہے اور وہ خاص اثر عفیف ہونا ہے پھوہڑ عورتیں اکثر عفیف ہوتی ہیں بخلاف غیر عفیف عورتوں کے کہ وہ ہر وقت بناؤ ، سنگھار اور تصنع اور ظاہری تہذیب و صفائی میں رہتی ہیں ۔ اسی طرح بعض عورتیں بد مزاج ، اور بد خلق ہوتی ہیں مگر یہ بھی ان کے کھرے پن کی دلیل ہوتی ہے ۔ بعض تو خاوند تک کو منہ نہیں لگاتیں مگر مجھ کو ایسی عورتوں کی عفت میں شبہ نہیں ہوتا اور غیر عفیف بس چکنی چپڑی رہتی ہیں اور پھر ظاہری اخلاق بھی شائستہ ہوتے ہیں خطرناک ہوتی ہیں اپنی چالاکیوں سے اپنی شرارتوں کو بلی کے گوہ کی طرح چھپاتی ہیں اور مرد کو گرویدہ بنائے رکھتی ہیں ۔ ایسی عورتوں پر مجھے اطمینان نہیں اور پھوہڑ عورت کا پھوہڑ پن گو طبعا ناگوار ہوتا ہے وہ اس لیے کہ بھنگن سی بنی ہوئی ہے نہ بات میں مزا نہ اٹھنے بیٹھنے کی تمیز نہ کھانا پکانے کا سلیقہ ، نہ بچوں کی خبر گیری اور خدمت مگر ایک صفت عفت کی وجہ سے اس کی تمام برائیاں اور بدتمیزیاں مبدل بکمال ہو جاتی ہیں کہ وہ عفیف ہوتی ہیں مجھ کو ایسی عورتوں پر بے حد اطمینان ہے عفیف ہونے کی وجہ سے وہ بناوٹی باتوں سے مستغنی ہے اس بناء پر یہ عورت کا ایک بہت بڑا جوہر ہے اس کی قدر کرنی چاہیے ۔ خیر سب کچھ سہی مگر ہر حال میں ہر شے کی حدود ہیں عورتوں کو مجبور اور کمزور سمجھ کر ظالم تو نہ بننا چاہیے بادشاہ اپنی رعیت پر حکومت کرے گوارا مگر ظلم گوارا نہیں اور یہاں تو خاوند اور بیوی میں محض حاکم اور محکومیت ہی کا علاقہ نہیں بلکہ دو علاقہ ہیں ایک حکومت کا دوسرا محبوبیت کا ، دونوں کے حقوق ادا کرنے کی ضرورت ہے ۔ بڑا شبہ بعضے مردوں کو اس سے ہوتا ہے کہ مرد تو اظہار محبت کرتا ہے اور عورت اظہار محبت نہیں کرتی مگر اس کی وجہ یہ ہے کہ مرد کے لیے تو اظہار محبت زینت ہے اور عورت کے لیے عیب ہے اس کو شرم و حیاء مانع ہوتی ہے گو دل میں میں اس کے سب کچھ ہوتا ہے جس کا رات دن واقعات سے مشاہدہ ہوتا ہے مزاحا فرمایا کہ اگر مجھ کو سلطنت مل جائے تو میں سب سے پہلا اعلان یہ کروں کہ جو عورتیں ستائی جائیں اور ان پر ظلم ہو تو وہ میرے یہاں درخواست کریں میں تحقیق کے کے فیصلہ اور راحت رسانی کا انتظام کروں گا مگر خدا گنجے کو ناخن ہی کیوں دینے لگا جب پہلے ہی سے یہ نیت ہے کہ مردوں کو ماروں گا مرد ووٹ نہیں دیں گے گو عورتیں روٹ پکا کر کھلائیں کیونکہ ان کی نصرت اور اعانت ہو گی اس لیے کہ آج کل سلطنت ووٹ پر موقوف ہے ۔ ایک صاحب نے عرض کیا کہ قرآن میں عورتوں کو مکار فرمایا گیا ہے فرمایا سب کا مکار ہونا تو کہیں قرآن میں نہیں آیا ۔ البتہ حدیث شریف میں ناقص العقل والدین فرمایا ہے پھر حضور نے اس ناقص ہونے کی شرح بھی فرما دی ہے تا کہ اعتقاد میں حدود سے تجاوز نہ ہو جائے ۔ مثلا دین کا نقصان اس کو فرمایا کہ یہ حیض میں نفاس میں نماز نہیں پڑھ سکتیں اور نقصان عقل اس کی شہادت کا نصف ہونا فرمایا ۔ سو یہ نقصان عقل و دین کوئی معصیت نہیں جو مقتضی ہو ان پر تشدد کرنے کو پھر فرمایا کہ آج عورتوں کی میں نے بے حد نصرت کی ہے اس لیے اس ملفوظ کا نام نصرۃ النساء کہہ دینا مناسب ہے ۔
11 ذیقعدہ 1350 ھ مجلس خاص بوقت صبح یوم یک شنبہ