ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ غیر مقلدین کے مشرب کی حقیقت ایک خواب میں مجھ پر ظاہر ہوگئی تھی جو میں نے طالب علمی میں دیکھا تھا گو خواب حجت شرعیہ نہیں لیکن اگر نصوص شرعیہ سے موید ہوجائے تو سکون ضرور ہوتا ہے ـ اسلئے کہ بروئے حدیث مبشرات میں سے ہے ـ میں نے خواب میں دیکھا کہ میں دہلی ہوں اور ایک غیر مقلد مولوی صاحب کے مکان کے دروازہ میں طلبہ جمع ہیں ـ میں بھی ہوں اور اچھاچ تقسیم ہو رہی ہے ـ مجھ کو بھی دینا چاہا مگر میں نے انکار کر دیا ـ حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ علم دین کی صورت مثالیہ دودھ کی سی ہے اور جچاچ مشابہ ہوتی ہے ـ دودھ کے تو خواب کے معنی یہ ہووے کہ ان کا مشرب دین کی صورت تو ہے مگر اس میں دین کے معنی نہیں ـ
Author: حبیب اللہ
( ملفوظ 328) رذائل کے ازالہ کی نہیں امالہ کی ضرورت ہے
ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ حضرت حاجی صاحب رحمتہ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ فطری رذائل کے ازالہ کی ضرورت نہیں ـ امالہ کی ضرورت ہے ـ وہ چیزیں اپنی ذات میں مذموم نہیں اس لئے کہ فطری ہیں ـ ان کا فطری ہونا دیک کر حکماء کی ایک جماعت اس طرف گئی ہے ـ کہ ریاضت اور مجاہدہ سے کچھ نفع نہیں ہوتا ـ جو چیزیں جبلی ہیں وہ نہیں بدل سکتی ـ اس لئے سعی اور کوشش بیکار ہے ـ یہ حکماء سمجھے نہیں ـ مجاہدہ سے جبلی اور فطری کا ازالہ نہیں کیا جاتا ـ اس میں تو حکمتیں ہیں ـ اس لئے ااس کو باقی رکھا جاتا ہے ـ البتہ وہ کبھی اپنے اختیار سے اعتدال سے بڑھ جاتی ہیں ـ ریاضت اور مجاہدہ سے وہ اعتدال پر آجاتی ہیں ـ
( ملفوظ 327) توسل کی حقیقت کا انکشاف
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ مجھ کو توسل کی حقیقت معلوم نہ تھی ـ سوال کرنے سے بھی مقصود حاصل نہ ہوا ـ ایک روز دفعتا قلب پر اس حقیقت وارد ہوگئی اور وہ یہ کہ حدیث میں ہے ـ ” المرء مع من احب ” جب اس سے معلوم ہوا کہ مقبولین کی ساتھ محبت اور تعلق رکھنے سے رحمت خاص کا وعدہ ہے ـ پس کسی صالح سے توسل کا حاصل یہ ہوا کہ اے اللہ مجھ کو فلاں شخص سے تلبس ہے اور اس تلبس پر آپ کا رحمت خاص کا وعدہ ہے پس میں اس رحمت خاص کا سوال کرتا ہوں اور جس جگہ یہ بات سمجھ میں آئی تھی وہ جگہ بھی یاد ہے اس وقت اس قدر خوشی ہوئی تھی کہ اگر دس ہزار روپیہ بھی ملتا تو اتنی خوشی نہ ہوتی اور توسل بالاعمال می بھی ذرا تغیر الفاظ کے ساتھ یہی حقیقت ہے کہ فلاں عمل سے آپ کو محبت ہے اور اس عمل پر رحمت خاص کا وعدہ ہے ـ اور ہم کو اس عمل سے صدور کا تلبس ہے ـ اب ہم اس رحمت خاص کا سوال کرتے ہیں ـ
( ملفوظ 326)حضرت تھانوی پر حضرت گنگوہی کی شفقت
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ میں ایک مرتبہ گنگوہ حاضر ہوا ـ حضرت کی شفقت کی یہ حالت تھی یہ فرمایا کہ تم جب آجاتے ہو ـ دل تازہ ہو جاتا ہے ـ میں نے واپسی کی اجازت چاہی کہ حضرت جاؤں فرمایا کہ اتنی جلدی میں نے کہا کہ کپڑے میلے ہوگئے ہیں ـ زیادہ ٹھرنے کے ارادہ سے نہیں آیا تھا ـ فرمایا کہ کپڑے تو ہم دیدیں گے میں نے عرض کیا کہ حضرت اور بھی کام ہے ـ پھر حضرت نے کچھ نہیں فرمایا ـ حضرت کے کپڑے پہننے کو جی نہیں چاہا ـ بے ادبی معلوم ہوئی ـ
( ملفوظ 325)مولویوں کو مالیات سے بچنا چاہئے
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ مولویوں کو مالیات سے بچنا چاہئے ـ اس معاملہ میں ان کو پڑنا ہی نہیں چاہئے ـ میں ایک مرتبہ نواب صاحب ڈھاکہ کو مدعو کیا ہوا ڈھاکہ گیا ـ نواب صاحب نے بدون میری تحریک کے مدرسہ دیوبند کے لئے روپیہ دینا چاہا ـ مجھے لیتے ہوئے بھی غیرت آئی لیکن اگر انکار کرتا ہوں تو خواہ مخواہ کا تقوی بگھاڑنا تھا ـ اور ان کی دل شکنی کی بھی خیال تھا اور مدرسہ کا بھی نقصان ـ میں نے کہا کہ میرا سفر ہوگا اور سفر میں اتنی بڑی رقم کا پاس ہونا خطرہ سے خالی نہیں ـ ہر وقت یہ ہی کھٹک رہے گی کہ کہیں گم نہ ہو جائے ـ کوئی نکال نہ لے ـ اسلئے مناسب یہ ہے کہ آپ بیمہ کر کے روانہ کر دیجئے وہ سمجھ گئے کہا کہ بہت اچھا ـ آپ مہتمم صاحب کو رقعہ تو لکھ دیں میں بیمہ کر دوں گا ـ میں نے کہا کہ بہت اچھا ـ میں لکھ دوں گا ـ تو مالیات میں مولویوں کا پڑنا ہی برا ہے ـ
( ملفوظ 324)حضرت گنگوہی اور حضرت حاجی صاحب
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ حضرت حاجی صاحب رحمتہ اللہ علیہ کا با کمال ہونا اس سے ظاہر ہے کہ حضرت مولانا گنگوہی رحمتہ اللہ علیہ جیسے شخص کا تعلق عقیدت حضرت سے تھا ـ حضرت مولانا قاسم رحمتہ اللہ علیہ کا معتقد ہونا تو اس درجہ کی حجت نہیں ـ اس لئے کہ وہ خود ہی اخلاق میں اور عشق میں مغلوب تھے ـ البتہ حضرت مولانا گنگوہی رحمتہ اللہ علیہ میں ایک خاص انتظامی شان تھی ـ جیسے انبیاء علیہم السلام کے ورثاء میں ہونا چاہئے ـ وہی شان تھی ـ حضرت مولانا گنگوہی رحمتہ اللہ علیہ کی جس کا اثر تھا ـ لا یخافون فی اللہ لومۃ لائم حق میں ذرہ برابر کسی کی پرواہ نہیں کرتے تھے ـ اگر حضرت حاجی صاحب میں ذرا بھی کمی ہوتی تو مولانا علی الاعلان تعلق قطع فرمادیتے ـ
( ملفوظ 323) تعلق مع اللہ میں استغناء کی خاصیت ہے
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ تعلق مع اللہ میں استغناء کی خاصیت ہوتی ہے ـ جس کو بھی اللہ تعالی یہ دولت عطا فرمادیں یعنی ایمان کی معرفت کی ـ تعلق مع اللہ ہے ـ حضرت محمد یوسف صاحب تھانوی تحصیلدار یا قلعہ دار تھے ـ بھوپال میں اس وقت مولوی عبدالجبار صاحب بھی وزیر تھے ـ انہوں نے حافظ صاحب سے ملنے کی کوشش کی ـ بلایا حافظ صاحب نے تین شرطیں لگائیں کہ اگر یہ منظور ہوں تو آ سکتا ہوں ـ اول تو یہ ہے میری تعظیم نہ کریں ـ دوسرے یہ کہ میں جہاں بیٹھ جاؤں اٹھایا نہ جاوے ـ تیسرے یہ کہ میں جس وقت واپس آنا چاہوں مجھ کو روکا نہ جائے ـ وزیر صاحب نے تینوں شرطیں منظور کر لیں ـ پہنچے وزیر صاحب کے پاس وہ دیکھ کر کھڑے ہو گئے کہا کہ دیکھئے شرط اول کی مخالفت ہو رہی ہے پھر ہی ادنی جگہ میں بیٹھ گئے ـ وزیر صاحب نے کہا کہ حضرت یہاں آجایئے فرمایا کہ شرط ثانی کی مخالفت ہو رہی ہے ـ وزیر صاحب نے کہا کہ میری تمنا ہے کہ حضرت جو عہدہ منظور فرمائیں اسکا انتظام کردوں ـ فرمایا کہ اس وقت میری تنخواہ پچاس روپیہ ہے بیوی منتظم ہوتی تو پچاس روپیہ سے کم میں بھی گزر ہو سکتی ہے مگر اب پچاس روپیہ میں بحمداللہ بخوبی گزر ہو جاتا ہے ـ سو میں یہ چاہتا ہوں کہ اس پچاس میں تو کمی نہ ہو ـ رہا عہدہ سو اس کے متعلق یہ ہے کہ چاہے بھنگیوں کا جمعدار بنا دیجئے ـ ہاں پچاس روپیہ دئے جائیں ـ بس کافی ہے ـ یہ کہہ کر اٹھ کر چلدئے ـ یہ اپنے باپ کے رنگ پر تھے ـ حافظ ضامن صاحب رحتہ اللہ علیہ کی بھی یہی شان تھی ـ بھوپال میں ایک فقیر آیا تھا ـ امراء کو معتقد بناتا پھرتا تھا چونکہ حافظ صاحب بڑے آدمی تھے ـ ان کو بھی مسخر کرنے آیا ـ مسند پر بیٹھے تھے کہ کونے میں کھڑے ہو کر توجہ کی حافظ صاحب کو محسوس ہو گیا اس پر اس فقیر کی طرف متوجہ ہو کر کہا ـ سنبھل کے رکھنا قدم دشت خار میں مجنوں کہ اس نواح میں سودا برہنہ بپا بھی ہے یہ کہنا تھا کہ دہڑام سے زمین پر گر پڑا ـ اور اٹھ کر ہاتھ جوڑ کر کہنے لگا کہ میں بھی حضور ہی کا شغال رنگین ( رنگا گیدڑ ) ہوں کہا کہ جاؤ ان باتوں میں کیا رکھا ہے ـ اتباع سنت اختیار کرو ـ یہ حافظ صاحب حضرت حاجی صاحب رحنتہ اللہ علیہ سے بیعت تھے اور حضرت ہی سے مجاز تھے ـ
( ملفوظ 322)کیفیات مقصود نہیں رضاء حق مقصود ہے
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ خدا کے ساتھ صحیح تعلق ہونا چاہئے ـ پھر چاہے کچھ جائے یار ہے پرواہ نہ کرنا چاہئے ـ بعض لوگ کیفیات کے پیچھے پڑجاتے ہیں ـ اس میں کیا رکھا ہے ـ بعض منافع کے اعتبار سے وہ بھی خدا کی نعمت ہے مگر مقصود نہیں ـ ان کی رضاء کے سوا سب غیر مقصود ہے ـ
( ملفوظ 321) مولویوں کو چندہ جمع کرنا نہیں چاہئے
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ مولویوں کا کام نہیں ـ چندہ جمع کرنے کا یہ کام تو دنیا داروں ہی کے سپرد رہنا چاہئے ـ مولویوں کو مالیات میں پڑنا ہی نہیں چاہئے اس باب میں ان کا مذہب تو یہ ہی ہونا چاہئے ـ
لنگے زیرو لنگے بالا نے غم دزد نے غم کالا
حضرت مولانا محمد قاسم صاحب رحمتہ اللہ علیہ کا قصہ ہے کہ بریلی کے ایک رئیس نے غالبا چھ ہزار روپیہ پیش کیا کہ کسی نیک کام میں لگا دیجئے فرمایا کہ لگانے کے بھی اہل ہو تم ہی خرچ کر دو ـ اس نے عرض کیا کہ میں کیا اہل ہوتا فرمایا میرے پاس اسکی دلیل ہے ـ وہ یہ کہ اگر اللہ تعالی مجھ کو اہل سمجھتے تو مجھ ہی کو دیتے ـ تبسم فرماتے ہوئے حضرت والا نے فرمایا کہ اسکا جواب تو یہ تھا کہ حضرت اللہ میاں دے تو رہے ہیں ـ
( ملفوظ 320)مسمانوں میں اتحاد مگر کونسا
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ضرورت ہے کہ مسلمانوں میں باہم تفرق نہ ہو اس کا اثر یہ ہوتا ہے کہ دوسری قوموں کو ان کو ضرر پہنچانے کی جرات ہوتی ہے ـ اس لئے باہمی اتحاد کی سخت ضرورت ہے ـ مگر یہ اتحاد نہیں جو آجکل کے لیڈر اور ان کے ہم خیال مولوی کراتے پھرتے ہیں ـ جس میں شریعت بھی محفوظ نہیں رہی بلکہ وہ اتحاد مقصود ہے ـ جس کو حق تعالی فرماتے ہیں ـ واعتصموا بحبل اللہ جمیعا ولا تفرقوا یعنی اعتصام بحبل اللہ کے ساتھ اتحاد یہی اتحاد کارآمد اور مفید ہے ـ ( اور مضبوط پکڑے رہو اللہ کے سلسلہ کو اس طور پر کہ سب باہم متفق بھی ہو ـ )

You must be logged in to post a comment.