ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ حدیث شریف میں جو آیا ہے فمن تشبہ بقوم فھو منھم اس کی حکمت یہ ہے کہ اہل باطل سے امتیاز ہو مگر تشابہ جائز ہے تشبہ جائز نہیں ـ تشابہ وہ ہے جو فطری ہو اور تشبہ وہ ہے جو قصد سے ہو ـ
21 ـ محرم الحرام 1351 ھ مجلس بعد نماز ظہر یوم شنبہ
Author: حبیب اللہ
( ملفوظ 318)پوری عبارت بیان نہ کرنے پر مواخزہ
ایک شخص آ کر خاموش بیٹھ گئے ـ حضرت والا کے دریافت فرمانے پر بھی پوری بات اور اپنا تعارف نہ کرایا ـ اس پر حضرت والا نے مواخزہ فرماتے ہوئے فرمایا کہ جو شخص حاجت لے کر آوے اس کو خود کہنا چاہئے کیا یہ میرا ذمہ ہے کہ میں پوچھا کروں کس کس سے پوچھوں ـ میں ان چیزوں کی بھی تعلیم کرتا ہوں ـ اس لئے بدنام ہوں ـ مگر لوگ تو یہ چاہتے ہیں کہ ساری دنیا کے غلام ہو جاؤ سو مجھ سے غلام نہیں بنا جاتا ـ اس غلامی کا نام رکھا ہے ـ اخلاق قیامت تک بھی اختیار کرنے کہ لئے تیار نہیں یہ تو اعلی درجہ کی بد اخلاقی ہے ـ جس سے لوگوں کا دین خراب ہو اور وہ جہل میں مبتلا رہیں ـ
( ملفوظ317 )پیغبروں کا بکریوں کا چرانا ثابت ہے :
ایک صاحب نے آکر عرض کیا کہ حضرت محنت مزدور تمام پیغبروں نے کی ہے اس کی کوئی اصل ہے فرمایا کہ یہ کلیہ تو منقول نہیں مگر اتنا ثابت ہے کہ بکریاں سب نے چرائی ہیں ـ
( ملفوظ 316) ذلت اور تواضع کے درمیان فرق
ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت ذلت اور توضع کے درمیان کیسے فرق معلوم ہو کہ یہ ذلت ہے یہ تواضع فرمایا کہ تواضع کی حقیقت سمجھ لینے کی ضرورت ہے ـ اس کے بعد ذلت کا درجہ خود سمجھ آ جائے گا تواضع کی حقیقت ہے اپنے کو حالا یا مالا سب سے کمتر سمجھنا مثلا کسی کافر کی نسبت اگر یہ سمجھے کہ ی برا ہے اس اعتبار سے کہ ہم مسلمان ہیں لیکن مال کی کیا خبر ہے تو یہ توضع مامور بہ ہو گئی اور یہ سمجھنا اعتقادی تواضع ہے اور عملی تواضع یہ ہے کہ بلا ضرورت کسی کی تحقیر نہ کرے ـ یہ حقیقت ہے تو تواضع کی ـ
( ملفوظ 315) دفن کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنا
ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت جنازہ دفن کرنے کےبعد ہاتھ اٹھا کر میت کے لئے دعاء کرنا جائز ہےـ فرمایا کہ منقول نہیں ـ اس لئے ترک اولی ہے اور منہی عنہ بھی اگر لازم نہ سمجھے تو دعا بھی جائز ہے اور رفع یدین اس کے آداب میں سے ہے ـ
(ملفوظ 314) نفس قید میں ہو تو اس کا کید نہیں چلتا
ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ نفس اگر قید میں ہو تو اس کا قید مضر نہیں آزاد نفس کا کید مضر ہے ـ
( ملفوظ 313)مالی خسارہ سے مجاہدہ
فرمایا کہ ایک صاحب کا خط آیا ہے ـ ان کا لڑکا بھاگ گیا تھا لکھا ہے کہ ایک مہینہ کے بعد خود واپس آ گیا اور آکر تعلیم میں مصروف ہو گیا لیکن بقدر نصاب رقم سفر میں برباد کر آیا ـ میں نے جواب میں لکھا ہے کہ اس مالی خسارے سے آپ کا مجاہدہ ہو گیا سو اس کے ثمرہ کے مقابلہ میں نصاب کیا چیز ہے ـ
( ملفوظ 312)چشتیہ کی مسکنت اور انکساری
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ چشتیوں کے اندر نہایت مسکنت غربت انکساری اور شکستگی ہے ـ مگر ان ہی میں جو اللہ کا نام لینے والے ہیں باقی جو صرف گانے بجانے کودنے ناچنے ہی کو اصل شغل سمھتے ہیں وہ چشتی ہی نہیں پھر شکستگی پر ایک حکایت بیان فرمائی کہ حضرت مولانا محمد قاسم صاحب رحمتہ اللہ علیہ کی ایک طالب علم نے دعوت کی ـ اپ نے فرمایا کہ ایک شرط سے منظور ہے کہ خود کچھ مت پکانا بلکہ گھروں پر جو تمہاری روٹیاں مقرر ہیں ـ وہی ہم کو بھی کھلا دینا اس کو اس نے منظور کر لیا یہ ہے شان مسکنت اور غربت اور انکساری اور عاجزی کی کہ اتنا بڑا شخص اور اس طرح اپنے کو مٹائے ہوئے تھا ـ
( ملفوظ 311) بدعتی اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تنقیص
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ میں نے ایک وعظ میں بیان کیا تھا کہ یہ بدعتی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو الہ مانتے ہیں مگر باقص اور ہم عبد کہتے ہیں مگر کامل تو تم حضور کی تنقیص کرتے ہو اور ہم کمال کے قائل ہیں ـ
( ملفوظ 310)آجکل کی تہذیب تعذیب ہے
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آج کل کے مدعیان تہذیب میں تہذیب تو خاک نہیں ـ ہاں تعذیب ہے ان نیچریوں سے میں کہا کرتا ہوں کہ تم چالیس روز پاس رہو ـ تب سوال پیدا کرنے کی قابلیت پیدا ہو اور صاحب میری تو بڑے بڑے مدعیوں سے گفتگو ہوئی ـ سچ جانے چار منٹ بھی نہ چلے اور بک بک کرنا یہ کوئی کمال کی بات نہیں ـ

You must be logged in to post a comment.