( ملفوظ 309) کشف میں بڑی مصیبتیں ہیں

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ یہ حق تعالی کا احسان اور فضل ہے کہ ضرورت کی باتیں ذہن میں ڈال دیتے ہیں ـ ورنہ ہر شخص کو کشف نہیں ہوتا اور مجھ کو تو ہوتا بھی تو سلب کی دعاء کرتا ـ کشف میں بڑی مصیبتیں ہیں ـ ایک تو یہ ایک بات ہونے والی ہے ـ دس روز بعد ، معلوم ہو گئی آج ،اب گھل رہے ہیں ـ ایک یہ کہ اب تو سب مسلمانوں سے حسن ظن ہے اور اس وقت دوسروں کا عیب بھی منکشف ہوتا اجتنبوا کثیرا من الظن ( بہت سے گمانوں سے بچا کرو ) کو صاحب کشف نہیں بجا لا سکتا ـ اور جس کو کشف نہ ہو تو وہ اس کو بجا لا سکتا ہے تو کشف نہ ہونے میں یہ کیا تھوڑی نعمت حاصل ہوتی ہے کہ حکم شرعی پر عامل ہونے کی توفیق ہوگئی ـ اسی طرح الہام بھی کوئی کمال کی چیز نہیں ـ فالھمھا فجورھا وتقواھا کی رو سے ہر شخص ملہم ہے ـ ہاں بڑی چیز یہ ہے کہ اپنے کو فنا کر رہا ہو یہ ہے دولت اس کے سامنے کیا الہام اور کیا کشف اور کیا کرامت اسی کو کہتے ہیں ـ
ہوفنا ذات میں کہ تو نہ رہے گم ہستی کی رنگ و بو نہ رہے
اور اسی کو کہتے ہیں
تو درو گم شو و صال ایں است و بس گم شدن کم کن کمال ایں است و بس
( تو ایں میں فنا ہو جا ـ یہی وصال کا حاصل ہے ـ فنا ہونے کی طرف بھی توجہ نہ کرو یہی کمال فنا ہے )

( ملفوظ 308) فضول گوئی اس طریق میں زہر قاتل ہے

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ یہاں پر خاموش بیٹھا رہنا طالبین کو بے حد مفید ہوا ہے جو لوگ چندے خاموش بیٹھ کر واپس جاتے ہیں ـ وطن پہنچ کر اس کا نفع لکھتے ہیں اور لکھتے ہیں کہ اس وقت تو یہ معمول تلخ معلوم ہوتا تھا مگر اس قدر نفع طویل مجاہدات سے بھی شاید نہ ہوتا جو دس دن کےاندر خاموش بیٹھنے سے ہوا ـ بد فہم لوگ اس کو ٹالنا سمجھتے ہیں ـ حالانکہ یہ بھی مجاہدہ کی ایک قسم ہے اور قسم بھی وہ جو سلف سے خلف تک معمول یہ ہے کیونکہ مجاہدہ کی چار قسمیں ہیں ـ قلت الطعام ، قلت الکلام ، قلت المنام ، قلت الاختلاط مع الانام ان میں سے محققین نے اس وقت لے لوگوں کی قوت اور صحت کو دیکھتے ہوئے دو کو حذف کر دیا ہے ـ قلت الطعام اور قلت المنام اور دو کو باقی رکھا ہے ـ قلت الکلام اور قلت الاختلاط مع الانام سو کم بولنا نہایت مفید چیز ہے ـ زیادہ بولنا اور بلا ضرورت بولنا نہایت مضر چیز ہے ـ اس سے قلب میں ظلمت پیدا ہوتی ہے ـ اور نورانیت فنا ہوتی ہے چناچہ بلا ضرورت اگر کوئی کسی سے اتنا بھی چوچھ لے کہ کہاں جاؤ گے اس سے بھی قلب میں ظلمت پیدا ہو جاتی ہے اور قلب مردہ ہو جاتا ہے اور اگر کسی کو حس ہی نہ ہو تو اس کا کیا علاج ہے اور ضرورت میں اگر شب و روز کلام کرے مثلا ایک شخص ہے کنجڑ وہ بیوی کی وجہ سے تجارت کرتا ہے اور سر پر کربوزوں کا ٹوکرا لئے دن بھر آواز لگاتا ہے کہ لے لو تو خربوزے اس سے ایک ذرہ برابر بھی قلب پر ظلمت نہ ہوگی ـ غرض فضول گوئی اس طریق میں سم قاتل ہے اس سے قلب برباد ہو جاتا ہے ـ باقی فضول کو ضروری پر قیاس کرنا مع الفارق ہے ـ مثلا شیخ اپنے کو قیاس کرنے لگے کیونکہ اسکا بولنا بضرورت ہے ـ پس یہ قیاس ایسا ہوگا جس کو فرماتے ہیں ـ
کار پا کان را قیاس از خود مگیر گرچہ مانند در نوشتن شیر و شیر
( مرشد کے کاموں کو اپنے کاموں پر قیاس مت کرو ( کہ جو کچھ شیخ کرے وہی تم بھی کرنے لگو ـ
کیونکہ اگرچہ دونوں فعل یکساں ہیں مگر باطنی طور پر بہت فرق ہے تا ہے دیکھو شیر ( یعنی جانور ) اور شیر ( یعنی دودھ ) دونوں لفظ ایک ہی طرح لکھے جاتے ہیں مگر دونوں میں جو فرق ہے وہ ظاہر ہے ) باقی فضول و ضروری کے امتیاز کے لئے خود الجھن میں پڑنے کی ضرورت نہیں ـ اپنے کو جس کے سپرد کیا ہے وہ جو تعلیم کرے اس پر عمل کرتا رہے ـ کیونکہ اس کو وہی سمجھتا ہے کہ ہر چیز کا موقع محل ہے ؟ چناچہ سکوت بھی مطلقا فضیلت کی چیز نہیں ـ بعض نطق سکوت سے افضل ہے بلکہ سکوت کی فضیلت تو بولنے ہی کی بدولت معلوم ہوئی ہے ـ جیسے خلوت کی فضیلت بدولت جلوت ہی کے معلوم ہوئی ـ غرض یہ ہے کہ موقع ہے ہر چیز کا کہیں سکوت مناسب ہے ـ کہیں بولنا مناسب ہے ـ کبھی خلوت کی ضرورت ہے ـ کبھی جلوت کی ضرورت ہے ـ اس اختلاف موقع کی ایک مثال ذکر کرتا ہوں ـ یہ مثالیں مقصود کی توضیح کے لئے ہوتی ہے ـ ایک بہو کی حکایت ہے نئی نئی شادی ہو کر سسرال میں آئی مگر بولتی نہ تھی ـ ساس نے کہا کہ بہو تو بولتی کیوں نہیں کہنے لگی کہ میری ماں نے مجھے منع کر دیا تھا کہ ساس کے گھر بولنا مت ـ ساس نے کہا کہ ماں تیری بیقوف ہے ـ ضرور بولا کر بہو نے کہا کہ تو پھر کچھ بولوں ساس نے کہا کہ ضرور بول ـ اب بہو بولتی ہیں تو دیکھو کیا نور برساتی ہیں ـ کہتی ہے کہ اماں ایک بات تم سے پوچھتی ہوں وہ یہ کہ اگر تمھارے لڑکے کا انتقال ہو جاوے اور میں بیوہ ہو جاؤں تو میری کہیں اور شادی کر دوگی یا یونہی بٹھلائے رکھو گی ـ ساس نے کہا کہ بہو بس تو خاموش ہی رہا کر تیری ماں کا منع کرنا ہی صحیح رہا ہے ـ امام ابو یوسف املا لکھوایا کرتے تھے طلباء میں سے ایک شخص بالکل نہ بولتا تھا ـ آپ نے فرمایا کہ میاں تم کبھی نہیں بولتے کچھ پوچھتے پاچھتے نہیں ـ عرض کیا کہ اب پوچھا کروں گا ـ ایک مجلس میں امام صاحب نے مسئلہ فرمایا کہ آفتاب کے غروب ہونے پر روزہ افطار کر لیا جاوے تو وہ شخص کہتا ہے کہ میں کچھ پوچھنا چاہتا ہوں فرمایا پوچھو کہتا ہے کہ اگر روز آفتاب غروب نہ تو کیا کرے ـ امام صاحب نے فرمایا کہ بس بھائی تمھارا نہ بولنا ہی مناسب ہے ـ حاصل یہ کہ موقع و محل ہوتا ہے ہر چیز کا جس کو مربی مناسب سمجھے گا اس کی تعلیم کرے گا ـ

( ملفوظ 307)اھل باطل کی کوششیں اور مسلمانوں کی حفاظت

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اہل باطل ہر وقت اہل حق کی فکر میں لگے رہتے ہیں ـ چھیڑ چھاڑ کرنا تو ان کا ایک ادنی مشغلہ ہے ـ ایک شخص اپنا واقعہ بیان کرتے تھے کہ میرے ایک دوست تھے وہ قادیانی ہو گئے تھے ـ مجھے چھیڑا کرتے تھے میں نے کہا کہ بھائی قیل وقال سے کیا فائدہ بس مختصر یہ ہے کہ میں تمھارے پاس مرزا کے پاس چلتا ہوں ـ اگر مجھ پر اثر ہو گیا تو میں قادیانی ہو جاؤں گا ـ اور اگر نہ ہوا تو تم قادیانیت سے توبہ کر لینا یہ طے ہو گیا دونوں وہاں گئے اول جاتے ہی وہاں منشی نے اس مرید صاحب سے پوچھا کہ تمہارا کیا نمبر ہے ؟ نمبر بتلایا تو رجسٹر دیکھ کر چندہ کا تقاضا کیا ـ اس کے بعد مرزا سے ملے مرید صاحب نے مرز سے تمام واقعہ باہمی معاہدہ کے ذکر کیا ـ مرزا نے ان پر اثر ڈالنے کے لئے بہت زور لگایا ان پر کوئی اثر نہ ہوا ـ اللہ نے ایمان کو سلامت رکھا اور واپس آکر ان صاحب نے بھی توبہ کر لی ـ ایہ ایک معمولی خوش عقیدہ کے تعلق کا اثر تھا اور بزرگوں کے تعلق میں تو اور زیادہ برکت ہوتی ہے ـ چناچہ ایک اور صاحب بیان کرتے تھے کہ ایک عسائی مجھ کو اپنی طرف مائل کرتا تھا ـ ایک روز مجھ کو کہنے لگا کہ تمھارا کسی عالم یابزرگ سے تعلق ہے ـ کہتے تھے کہ میں نے حضرت مولانا گنگوہی رحمتہ اللہ علیہ کا نام لیا کہ ان سے تعلق ہے فورا اٹھ کر چلدیا ـ پھر کبھی نہ آیا ـ واقعی یہ حضرات سپر اور ڈھال ہوتے ہیں ـ ان حضرات سے صرف تعلق رکھنا بھی ایک قوی سبب ہے فلاح اور بہبود کا دیکھئے مولانا کا نام سن کر اس کی طمع قطع ہو گئی ـ بعض اسباب اس برکت قطع طمع کے محض معمولی امور بھی بن جاتے ہیں ـ چناچہ میں نے ایچولی کے وعظ میں کہا تھا اس وعظ کا نام محاسن الاسلام ہے کہ گائے کا گوشت کھانا مت چھوڑو جب تک اسکو کھاتے رہو گے کوئی تم کو شد ہی کرنے کی ہوس نہ کرے گا چناچہ اسی کے قریب ایک گاؤں والوں کو شد ہی ہونے پر رضا مند کر لیا گیا تھا وہ لوگ وعظ میں بھی آئے تھے اور وعظ کے بعد آنے والوں کو گائے کے گوشت کا پلاؤ کھلایا گیا ـ پس اسی روز دونوں جانب سے شدہی سے مایوس ہوگئ اور اسی لئے تو کہا کرتو ہوں کہ ہندستان میں گاؤ کشی شعائر اسلام سے ہے ـ اس قصد سے اس کا گوشت کھانا موجب اجر ہے ـ

( ملفوظ 306) مولانا اسماعیل شہید کی ایک عبارت پر شبہ کا حکیمانہ جواب

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ مولانا احمد علی صاحب سہارنپوری ہمارے اساتذہ میں سے ہیں ـ ان سے کسی نے یہ اعتراض کیا کہ مولانا شہید صاحب نے لکھا ہے ـ کہ خدا اگر چاہے تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم جیسے سینکڑوں بنا ڈالے اور محاورہ میں بنا ڈالنا تحقیر کے لئے اور تحقیر حضور کی کفر ہے ـ مولانا احمد علی نے فرمایا کہ تحقیر فعل کی ہے یعنی بنانا مشکل نہیں ـ مفعول کی نہیں تو حضور کی تحقیر وہ کوڑ مغز کیا سمجھتا ہے اس جواب کو اور کیا قدر کرتا کہنے لگے آپ لوگ بناتے ہیں ـ تحقیر صاف ہوئی یہ حضرات بڑے متین ہوتے ہیں ـ مولانا خاموش ہوگئے ـ ایک مرتبہ اتفاق سے وہی صاحب مولانا سے کہنے لگے کہ حضرت فلاں فلاں کتاب آپ نے چھاپی اگر بیضاوی چھپوا ڈالتے تو اچھا ہوتا مولانا نے فرمایا کہ جناب یہ ڈالنا وہی ہے جس پر مولانا شہید صاحب پر فتوی دیا گیا تھا ـ اس سے تحقیر ہوئی بیضاوی کی اور بیضاوی مشتمل ہے قرآن پر اور کل کی تحقیر مستلزم ہے جزء کی تحقیر کو اور قرآن کی تحقیر کفر ہے ـ اب بتلایئے کیا جواب ہے ـ اب وہ صاحب کہتے ہیں کہ حقیقت میں میرا مقصود فعل ہی کی تحقیر تھی ـ مفعول کی نہ تھی ـ نہایت عجیب جواب ہے محققانہ جواب ہے ـ حکیمانہ جواب ہے ـ اس میں مناظرانہ طرز نہیں اور یہ طرز بہت مفید ہوتا ہے ـ

( ملفوظ 305)حضرات چشتیہ کی خاص دولت فنا

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ عشاق کے حالات پڑھ لیا کرے ان کے پاس بیٹھ لیا کرے اس سے ہی بہت کچھ ہو رہتا ہے ـ بالخصوص حضرات چشتیہ سے تعلق رکھنے سے ایک خاص دولت ملتی ہے یعنی فنا ـ کیونکہ ان کے یہاں یہی خاص چیز ہے ـ کہ اپنے کو مٹا دو فنا کر دو بعض حضرات کے یہاں بقا مقصود ہے ـ فنا تابع اور حضرات چشتیہ کے ہاں فنا اصل ہے ـ بقا تابع ـ حضرت حاجی صاحب رحمتہ اللہ علیہ پر فناء کی ایک خاص شان غالب تھی ـ چناچہ حضرت سے کوئی عرض کرتا کہ حضرت کی وجہ سے یہ ہوا کہ وہ ہوا فرماتے میاں میں نے کچھ نہیں کیا ـ تمھارے اندر دولت تھی میرے پاس آکر تعلیم پر عمل کرنے سے اس کا ظہور ہو گیا ـ یہ شان فنا کی تھی اور یہ بھی فرماتے کہ تم یہ مت سمجھنا یہ مصلحت طالب کی تھی ـ قاری محمد علی صاحب جلال آبادی کہتے تھے یہ مولانا شیخ محمد صاحب کے مرید تھے کہ مولانا مظفر حسین صاحب کاندہلوی حضرت حاجی صاحب کے متعلق فرماتے تھے کہ حاجی صاحب بزرگان سلف میں سے ہیں ـ اس وقت کے بزرگوں میں سے نہیں ـ واقعی حضرت حاجی صاحب رحمتہ اللہ علیہ کی یہی شان تھی ـ
20 محرم الحرام 1351 ھ مجلس بعد نماز جمعہ

( ملفوظ 303)اخلاق کے دو درجہ ہیں ایک فطری دوسرا کسبی

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ الحمدللہ میرے ذہن میں کبھی یہ بات نہیں آئی کہ لوگوں کو اپنے ساتھ مربوط رکھا جائے جو اپنا طرز ہے کھلم کھلا ہے اب کیا اپنا طرز بدلیں گے اور طبعی بات کیسے بدل سکتی ہے ـ اپنا تو یہ مشرب اور مسلک ہے ـ
ہر کہ خواہد گو بیاؤ ہر کہ خواہد گوبرو دار گیر و صاحب ودربان دریں درگاہ نیست
( جسکا جی چاہے آوے اور جسکا جی چاہے چلا جاوے اس دربار میں کسی کی دارو گیر نہیں ہے )
اور حضرت یہ مربوط رکھنا تو ایک مستقل شغل ہے کہ وہ چلا نہ جاوے وہ ناراض نہ ہو جاوے استغفراللہ پھر فطریات کے بدل سکنے کے سلسلہ میں فرمایا کہ اگر کوئی فطری بات ہے تو اس کے بدلنے کی کوشش کرنا بے ادبی ہے گویا دوسری عبارت میں قدرت کا مقابلہ ہے اور قدرتی طور پر اس میں حکمتیں بھی ہیں ـ جیسے بخل ہے ـ طمع ہے تو ان میں جہاں تک فطری درجہ ہے وہ مصالح کے سبب خود مطلوب ہے چناچہ بدون اس فطری درجہ کے بعض ضروری انتظام نہیں ہو سکتا اس لئے ایسے درجہ کی ضرورت ہے تاکہ انتظام کر سکے ـ البتہ جو درجہ فطرت سے زائد کسی عارض کے سبب پیدا ہو گیا ہے ـ اس کے تبدیل بدرجہ تعدیل کی ضرورت ہے اور اسی تفصیل کے نا جاننے سے بعض لوگوں کو دھوکہ ہو گیا ہے کہ تہذیب اخلاق کی کوشش کرنا بے کار ہے ـ کیونکہ اخلاق فطری ہے مگر محققین نے وہی جواب دیا ہے ـ جو میں نے ابھی عرض کیا ہے جو درجہ فطری ہے وہ اعتدال کے خلاف نہیں ہے ـ اس میں حکمتیں ہیں کہ وہ بعض مقاصد کا معین ہے میرا بڑا جی خوش ہوا ـ جس روز یہ بات سمجھ میں آئی ـ

( ملفوظ 304)اصول کے خلاف کرنے سے محبت کا ختم ہو جانا

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اللہ کا شکر ہے کہ مجھ کو احباب سے بے حد محبت ہے مگر جب کوئی اصول کے خلاف کرتا ہے تو ایک دم قلب اس سے خالی ہو جاتا ہے یہ بھی ایک بہت بڑی نعمت ہے ـ خدا کی اس میں بھی میرا کوئی کمال نہیں ـ حق تعالی ہی سب انتظام فرمادیتے ہیں ـ

( ملفوظ 302)اجنبی شخص کا ہدیہ اور حضرت کا کمال ادب

ایک نو وارد نا شنا سا صاحب آئے انہوں نے حضرت والا کی خدمت میں کھجوریں پیش کر کے عرض کیا کہ یہ مدینہ طیبہ کی ہیں ـ حضرت والا نے فرمایا کہ ایک کھجور لے سکتا ہوں ـ بالکل نہ لینے کو مدینہ کی بے ادبی سمجھتا ہوں ـ آپ نے ہدیہ دینے میں غلطی کی ـ جس سے بے تکلفی نہ ہو ـ میں اس سے ہدیہ لیا نہیں کرتا ـ آپ کو دینا نہ چا ہئے تھا اب مجھ کو دونوں پہلوؤں کے جمع کرنے میں تنگی ہوئی پھر فرمایا کہ بعض مرتبہ آدمی دو پاٹ کے بیچ میں آجاتا ہے ـ اسی پر بعض نے گھبر اکر کہہ دیا ـ
درمیان قعر دریا تختہ بندم کردہ بازمی گوئی کہ دامن تر مکن ہشیار باش
( دریا کی تہ میں مجھ کو باندھ کر ڈال دیا ہے اور حکم یہ دیا جاتا ہے کہ خبردار دامن تر بھی نہ ہو )
مگر ایسے موقع پر وہ شخص نہیں گھبرائے گا جو جامع بین الاضداد ہوگا ـ بحمد اللہ کوئی ایسا موقع پیش نہیں آتا جس پر مجھ کو گھبراہٹ ہو ـ اس کے قبل بھی ایسا ہی واقعہ پیش آیا کہ ایک صاحب جو میرے مخالف تھے وہ مدینہ طیبہ کی کھجوریں لائے ـ اور بطور ہدیہ مجھ کو دیں ـ میں نے ایک کھجور لے لی اور مزاحا کہہ دیا کہ ایک مدینہ کی ہے اور سب تمہاری ہیں ـ غرض بین الاضداد ہونے کی ضرورت ہے ـ پھر کچھ دشواری پیش نہیں آتی ـ

( ملفوظ 301)شکایت سے متاثر نہ ہونا اور عدل کرنا

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آجکل عدل کا نام و نشان نہیں رہا اس کو تو دین کی فہرست سے خارج ہی سمجھ رکھا ہے ـ الحمدللہ میں ہمیشہ اسکا خیال رکھتا ہوں ـ بھائی مرحوم کے یہاں حاجی عبرالرحیم ملازم تھے ـ بڑے گھر میں سے مجھ سے ان کی کچھ شکایت کی میں نے ان کو بلا کر پوچھا ـ انہوں نے نفی کی ـ میں نے گھر میں سے کہا کہ شرعی ثبوت لاؤ تو انکار کرتے ہیں ـ وہ ثبوت پیش نہیں کر سکیں ـ تب میں نے کہا کہ بدون ثبوت شرعی کے کسی پر الزام نہیں لگانا چاہئے ـ انہوں نے توبہ کی ایسے موقع پر بڑی مشکل ہوتی ہے ـ جہاں دونوں طرف تعلق ہو مگر شریعت کے اصول پر عمل کرنے کی صورت میں کچھ بھی مشکل یا دشواری نہیں ہوتی اور گود و شخص سے جو تعلق ہوتا ہے ـ اس میں فرق ضرور ہوتا ہے مگر عدل کے وقت دونوں کے مساوات ہونا چاہئے ـ میں نے خاص یہ صفت یعنی شکایت سے متا ثر نہ ہوتا ـ دو بزرگوں میں ایک خاص شان کی دیکھی ہے ـ یوں تو سب ہی بزرگوں میں اچھی صفات ہوتی ہیں مگر پھر بھی تفاوت ضرور ہوتا ہے ـ ایک حضرت مولانا قاسم صاحب رحمتہ اللہ علیہ ہیں اور ایک حضرت حاجی صاحب رحمتہ اللہ علیہ میں سو حضرت مولانا صاحب تو شکایت سنتے نہیں تھے فرمادیتے کہ میں سننا نہیں چاہتا اور حضرت حاجی صاحب کی اس عادت کی دلیل قرآن میں ہے ـ وہ یہ کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا پر منافقین نے تہمت لگائی ـ حق تعالی اس باب میں فرمادیتے ہیں ـ لو لا جاؤا علیہ باربعۃ شھداء فان لم یا تو با لشھداء فاولٰئک عنداللہ ھم الکاذبون ( یہ لوگ اپنے قول پر چار گواہ نہ لائے ـ سو اس صورت میں کہ یہ لوگ موافق تاعدہ کے گواہ نہیں لائے تو بس اللہ کے نذدیک یہ جھوٹے ہیں ـ اور ” عنداللہ سے مراد ہے فی دین اللہ فی قانون اللہ ” اللہ کے دین میں اللہ کے قانون میں ) آگے ارشاد ہے ـ ولو لا اذ سمعتموہ قلتم ما یکون لنا ان نتکلم بھذا سبحانک ھذا بھتان عظیم ۔ ( اور تم نے جب اس بات کو اول سنا تھا تو یوں کیوں نہ کیا کہ ہم کو زیبا نہیں کہ ہم ایسی بات منہ سے بھی نکالیں معاذاللہ یہ تو بہت بڑا بہتان ہے ) اس سے صاف معلوم ہوا کہ حسن ظن کیلئے دلیل کی ضرورت نہیں ـ سوء ظن کی دلیل کا نہ ہونا یہی ہی کافی دلیل ہے ـ حسن ظن کی پس حضرت حاجی صاحب پر یہ شبہ نہیں ہو سکتا ـ کہ بلا دلیل شا کی کو کیسے کاذب فرما دیا ـ البتہ با وجود غلط سمجھنے کے اگر کسی دوسری بناء پر عمل کیا جاوے تو دوسری بات ہے جیسا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے سعد بن ابی وقاص کے متعلق شکایت کو جھوٹ سمجھا مگر انتظامی مصلحت کی بناء پر ان کو معزول کر دیا ـ

( ملفوظ 300) دین کے لئے کچھ کرنا پڑتا ہے پھر آسان ہے

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اگر صحیح طریقہ سے کام کرنا چاہیں ـ افراط تفریط نہ کریں تو میں سچ عرض کرتا ہوں کہ دین میں بہت آسانی ہے اب تو جواڈ الکر بالکل الگ ہو گئے ـ یہ چاہتے ہیں کہ کچھ بھی نہ کرنا پڑے خود بخود سب کام ہو جائیں ـ دنیا کی چھوٹی چھوٹی چیز تو بدون مشقت کے حاصل ہوتی نہیں ـ دین کیسے حاصل ہو جائے آدمی کچھ تو کر لے کچھ نہ کچھ ہو ہی جاتا ہے ـ