( ملفوظ 299)چشتیہ کا خاص رنگ

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ چشتیوں میں ایک خاص رنگ ہے ـ تعلق مع اللہ اور قطع تعلق عن غیراللہ میں اس رنگ کے غلبہ میں ان کو دوسروں کو ترجیح دیتا ہوں ـ

( ملفوظ 298)تصوف کا عطر ، خوف ، رجا اور محبت ہیں

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ میں نے حضرت خوجہ معین الدین چشتی رحمتہ اللہ علیہ کا ایک ملفوظ دیکھا ہے جو عطر ہے ـ تمام طریق کار میں اس کو اس لئے بیان کرتا ہوں کہ اس سے میرے دوست کام لیں وہ فرماتے ہیں کہ آدمی تین چیزیں اختیار کر لے ـ بس کافی ہیں ـ ایک خوف اور دوسری رجاء تیسری محبت یہ سب سنت کا رنگ ہے ـ خوف سے تو یہ ہوگا کہ گناہ نہ ہونگے اور رجاء سے یہ ہوگا کہ طاعت کی رغبتی ہوگی ـ اور محبت سے یہ ہوگا کہ تکلیف برداشت کرے گا اور جو امور غیر اختیاریہ ہیں ـ جیسے حوادث و مصائب وہ تو محبت کی وجہ سے برداشت کر لیگا اور جو امور اختیاریہ ہیں جیسے طاعات یا معصیت ان میں خوف اور رجاء سے کام ہو جائے گا اگر آدمی کچھ بھی نہ کرے یہ باتیں اختیار کر لے ـ بس کافی ہیں ـ خواجہ صاحب نے کیا اچھی بات فرمائی آخر بڑے ہیں ـ کسی وجہ سے تو بڑے ہیں بس یہی باتیں ہیں ـ بڑے ہونے کی میرا اس ملفوظ سے آج بڑا ہی جی خوش ہوا کیونکہ ایک ضرورت ہے گناہ سے بچنے کی اس کے لئے خوف ہے اور ایک ضرورت ہے طاعات کی ـ اس کے لئے رجاء ہے اور ایک ضرورت ہے معصیت اور تکلیف کے وقت ثابت قدم رہنے کی اس کے لئے محبت ہے مجھے تو یہ ملفوظ دیکھ کر یہ معلوم ہوا کہ جیسے بڑی دولت نصیب ہوگئی ـ

( ملفوظ 297)بالغ ہونے کے بعد ختنہ کا حکم

ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت کیا لڑکے کے بالغ ہونے کے بعد بھی ختنہ کرانا چاہئے ـ یا نہیں فرمایا کہ اگر وہ برداشت کر سکے ـ یعنی گھبرائے نہیں ، ڈرے نہیں تو ختنہ کرانا چاہئے ـ عرض کیا کہ اس لڑکے پر تو نہ کرانے میں گناہ نہیں فرمایا اگر برداشت کر سکتا ہے اور نہیں کراتا تو گناہ ہوگا ورنہ گناہ نہیں ـ

( ملفوظ 296)زہد کی حقیقت اور اس کا صحیح مطلب

ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ ( زہد یہ نہیں کہ حلال کو عملا حرام کر لو مثلا خربوزہ حلال ہے مگر زہد کے سبب نہ کھاتا ہوسو یہ زہد نہیں بلکہ زہد یہ ہے کہ جو چیز اپنے ہاتھ میں ہو اس پر اتنا بھروسہ نہ ہو جتنا بھروسہ اس پر ہو جو خدا کے ہاتھ میں ہے ـ یہ حقیقت ہے زہد کی اور یہ مضمون حدیث مرفوع کا ہے ـ جس کو ترمزی نے روایت کیا ہے
16 ـ محرم الحرام 1351 ھ مجلس بعد نماز ظہر یوم پنجشنبہ

( ملفوظ 295) یورپ میں خود کشی کا بازار گرم ہونے کی وجہ :

ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت یورپ میں بوجہ دہریت کے خود کشی کا بازار گرم ہے اسلئے کہ جب اسباب کے اعتبار سے کسی کام سے مایوس ہوتے ہیں تو بوجہ مسبب کے قائل نہ ہونے کے آگے تو کوئی چیز دل کی تھامنے والی ہے ہی نہیں ـ فرمایا کہ حقیقت میں بدون دین کے راحت نہیں ـ حتی کہ راحت کے سامان بھی راحت نہیں یہی خودکشی کرنے والے چونکہ آخرت کے قائل نہیں ـ اس لئے کچھ خبر نہیں کہ خود کشی کا نتیجہ کیا ہوگا ؟ اگر دین ہوتا تو مصیبت میں بھی دیکھتے کہ شریعت میں ہر چھوٹی سے چھوٹی مصیبت پر اجر کا وعدہ ہے تو پریشان نہ ہوتے ایسی مثال ہوتی کہ اگر کسی کا ایک روپیہ کھویا جائے اور ایک شخص کہے کہ گبھراؤ مت ایک گنی دوں گا ـ تو اس وقت کچھ عجب نہیں کہ اس کھوئے جانے کو غنیمت سمجھے بلکہ یہ تمنا کرے کہ ہر روز کھویا جایا کرے کہ کئی ملا کریں ایک رئیس تھے ـ میرٹھ میں اپنے نوکر کے ایک چپت مار دیا مگر تھے رحمدل ـ اس لئے اس کے بعد اسکو ایک روپیہ دیا پھر پوچھا کہ کیا حال ہے کہا کہ حضور کی جان و مال کو دعاء کر رہا ہوں اور یہ چاہتا ہوں کہ ایک چپت ہر روز مار دیا کریں تو تیس روپیہ مہینہ میں مل جایا کریں ـ غرض جب تکلیف عوض ملتا ہے تو اسکی تمنا ہوتی ہے ـ اسی طرح دیندار آدمی آخرت کے عوض کے اعتقاد سے مصیبت کو بھی خیر سمجھتا ہے

( ملفوظ 294)آج کل کے کامل ناقص ہو کر اپنا نقص چھپاتے ہیں

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آج کل کے کامل ایسے ہیں کہ باوجود ناقص ہونے کے اپنے نقص پر پردہ ڈالتے ہیں گو اخیر میں ان ہی کے اقوال و افعال سے نقص ظاہر ہوتا ہے ـ جیسے ایک شخص سے کسی نے کہا کہ خط لکھ دو کہ میری ٹانگ میں درد ہے ـ اس نے کہا کہ لکھنے کا ٹانگ سے کیا تعلق کہ میرا لکھا ہوا میں ہی پڑھ سکتا ہوں ـ دوسرا نہیں پڑھ سکتا ـ مگر یہ نہیں کہا کہ مجھ کو لکھنا نہیں آتا گو اخیر ظاہر ہو گیا ـ اس بد خطی پر ایک قصہ یاد آیا کہ ایک عالم متقدمین سے ہیں بہت بڑے شخص ہیں ـ ان کا قلم نہایت بد خط تھا ـ ایک روز بازار گئے تو اپنے سے بھی برے خط کی ایک کتاب نظر پڑی اس کو گراں قیمت پر خریدا ـ طاعنین کے جواب کے واسطے کہ لوگوں کو دکھاؤں کہ مجھ سے بھی زیادہ بدخط لوگ ہوئے ہیں ـ مگر گھر پہنچ کر معلوم ہوا کہ وہ بھی میرا ہی ابتداء کا خط ہے ـ مگر سادگی دیکھئے کہ خود ہی اپنے اس قسم کے کچے چٹھے کھول رہے ہیں ـ آجکل کو مدعیوں کی طرح اپنے نقص کو چھپایا نہیں ـ

( ملفوظ 293)شورش و غلبہ کمال نہیں

ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ سب کچھ سہی مگر یہ شورش اور غلبہ کی حالت کمال نہیں ـ کمال وہی ہے جو حضرات انبیاء علیہم السلام کی حالت تھی کہ قلب میں بلکہ رگ رگ میں تو آگ بھری ہوئی ہے ـ اور ظاہرا سکون ہے اسی طرح چشتیہ میں ایک آگ ہے جو سامنے پڑتا ہے وہ بھی جلنے لگتا ہے ان کی یہ شان ہے ـ
عشق آں شعلہ است کوچوں بر فروخت ہرچہ جز معشوق باقی جملہ سوخت
( عشق وہ آگ ہے کہ جب یہ بھڑکتی ہے تو معشوق کے سوا اور سب چیزوں کو جلا دیتی ہے )
تو ایسے جلے بھنوں کے پیچھے سے کیا فائدہ بات یہ ہے کہ یہ چشتی بیچارے بولتے نہیں کسی سے اس لئے ان ہی پر سب کی مشق ہوتی ہے ـ
18 ـ محرم الحرام 1351 ھ مجلس بعد نماز ظہر یوم چہار شنبہ

( ملفوظ 292)ادب المعذور یعنی بعض صاحب عذر مشائخ کا ادب

ملقب بہ ادب المعذور ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ مشائخ کے کلام میں جو کہیں دلیل صحیح کے ساتھ تعارض ہوتا ہے ـ اسکی توجیہ میں بڑی مشکل پڑتی ہے ـ آجکل ایک رسالہ شروع کر رکھا ہے ـ وہ رسالہ مشائخ چشتیہ کی نصرت میں لکھ رہا ہوں ـ یہ حضرت بہت بدنام ہیں کہ ان کے افعال سنت کے خلاف ہیں ـ نام بھی اس رسالہ کا میں نے تجویز کر دیا ہے ـ السنۃ الجلیۃ فی چشتیۃ العلیۃ یہ محض شاعری ہی نہیں بلکہ حقیقت بھی ہے ـ اس لئے کہ چشتیہ کے یہاں سنت کا بہت زیادہ اہتمام ہے ـ اور اصل مذہب ان حضرات کا سنت ہی ہے مگر بعض جگہ غلبہ کی حالت کی وجہ سے معذور ہیں ـ آخر جب کوئی مضطر ہو تو کیا کرے باقی اصل مذہب ان حضرات کا کتاب و سنت ہی ہے مگر عذر میں کیا الزام ہے ـ معترضین ان کی خواہ مخواہ بدنام کرتے ہیں ـ البتہ ایک بات ظاہرا کھٹکی ہے کہ ان کے جو اشغال ہیں ان کو بعض مصنفین صوفیہ نے کتاب و سنت کی طرف مستند کر دیا ہے حالانکہ یہ ایک طب ہے جو تدبیر کا درجہ ہے ـ جیسے مسہل ہے اس میں اطباء مریض سے کہتے ہیں کہ دوسری طرف مشغول نہ ہونا چلنا پھرنا نہیں بولنا نہیں ، دیکھئے یہ بھی خلوت ہے ـ یہ بھی یکسوئی ہے ـ اسی طرح ریاضت تصوف کا بھی ایک فن ہے جس کا درجہ محض تدابیر کا ہے ـ اس کو کتاب و سنت کی طرف مستند کر دینا بیشک کھٹکتا ہے ـ ان مصنفین سے غلطی یہ ہوئی کہ اس کو مقاصد میں سے سمجھ لیا اگر مقاصد میں داخل نہ کرتے تو لوگوں کو دلائل کی ضرورت نہ ہوتی ـ بلکہ یہی سمجھتے کہ یہ تدابیر ہیں ـ دلائل کی تلاش مقاصد سمجھنے کی بناء پر ہوئی ورنہ بعد تحقیق کوئی اشکال نہیں ـ تو بعض مصنفین کے اس فعل کو دیکھ کر تمام سلسلہ پر اعتراض کرنا نہایت بے انصافی ہے ـ اسی واسطے مجھے بعضے نقشبندیوں کی شکایت ہے ج وبے حد غلو کرتے ہیں ـ چشتیوں پر اعتراض کرتے ہیں اور اعتراض بھی حد سے گزرے ہوئے جن کے نہ اصول ہیں ـ نہ حدود بڑا ہی افسوس ہے ـ آخر کیوں دوسروں کو اس قدر حقیر سمجھتے ہیں ـ ان کے تمام طریق پر الزام رکھتے ہیں کیا یہ کوئی تحقیق کی شان ہے ـ یہ تو اچھا خاصا عناد ہے ـ ورنہ جیسے چشتیہ بیچارے کسی کو کچھ نہیں کہتے اور نہ کسی سے تعرض کرتے ہیں ـ دوسروں کو بھی چاہئے کہ ان کے پیچھے نہ پڑیں ـ یہ ہی چیز مجھ کو داعی ہوئی ـ رسالہ لکھنے کے لئے میں تو انشاءاللہ اہل حق کی نصرت ہی کروں گا گو اس میں مجھ کو تعجب زیادہ ہورہا ہے ـ میں نے خود رسالہ میں چشتیہ کے مشرب کی حقیقت لکھی ہے کہ ان کے مشرب کی حقیقت حنفیہ کے مذہب جیسی ہے کہ سب مذاہب سے زیادہ کتاب و سنت کے مطابق ان کے افعال و اقوال ہیں مگر سب میں زیادہ وہی بدنام ہیں کہ یہ سنت کے خلاف ہیں ۔۔ اسی طرح چشتیہ بدنام ہیں کہ ان کے یہاں خلاف سنت کی تعلیم ہے ـ یہ اعتراض کرنا حقیقت سے بے خبری ہے ـ باقی اضطراری حالت میں اگر کبھی لغزش ہوئی ہے اس پر متنبہ ہونے کے بعد نادم ہوئے اور توبہ کی اور اس میں انکا وہی طریقہ رہا ـ جیسا ایک شیخ سے منقول ہے کہ ان کے مریدوں نے کہا کہ حضرت آپ خاص حالت میں یہ کلمہ غیر مشروعہ کہتے تھے ـ فرمایا کہ اگر اب کے کہوں تو مجھ کو قتل کر دینا مریدین صاحب شریعت تھے ـ شیخ کے انتشال امر کے لئے تیار ہو گئے ـ شیخ پر پھر غلبہ ہوا اور وہی کلمہ کہنا شروع کیا ـ مریدوں نے چھریوں سے ان پر حملہ کیا مگر جو شخص جس جگہ شیخ کے مارنا چاہتا تھا خود اس کے اسی جگہ چھری لگتی تھی ـ اس طرح سے تمام مجلس زخمی ہوگئی ـ جب شیخ کو ہوش آیا تو مریدین نے عرض کیا کہ واہ حضرت اچھی تدبیر بتلائی اور تمام قصہ سنایا ـ فرمایا بس تو معلوم ہوا میں نہیں کہتا تھا ورنہ میں سزا کا مستحق ہوتا اس سے استدلال کیا اپنے معزور ہونے پر بہرحال شریعت کا مقابلہ نہیں کیا ـ سزا کے لئے تیار ہو گئے ـ یہ تو قدماء کی حکایت ہے باقی اسی زمانہ کا واقعہ عرض کرتا ہوں ـ ماموں صاحب میں ایک خاص شورش تھی ـ بعضے طریقے ان کے ہمارے بزرگوں کے مسلک کے خلاف تھے ـ میں نے ان کو خیر خواہی و ہمدردی سے ایک خط لکھا اور آخر میں لکھا کہ میں آپ کے لئے دعا کرتا ہوں کہ حق تعالی آپ کو طریقہ سنت پر قائم فرمائیں جواب لکھا کہ بیٹا تم جوان صالح ہو ـ قبول الدعاء کرتا ہو میرے لئے ایسی دعاء نہ کرنا میری تو ساری عمر کا ذخیرہ ہی ہاتھ سے نکل جائے گا ـ میں تو یہ دعاء کرتا ہوں کہ میں جس چیز میں ہوں ـ اسی پر ختم ہو جاؤں تمہارا طریق تم کو مبارک ہو اور میرا طریق مجھ کو مبارک ہو غرض میرے ساتھ دو قدح نہیں کیا ـ دیکھئے یہ تو حالت اختلاف کی اور اس پر یہ جواب

( ملفوظ 291)سائل کے لئے چندہ کرنا صحیح نہیں

ایک سائل نے آکر کچھ خرچ کا سوال کیا فرمایا کہ اگر آنہ دو آنہ لینا منظور ہو تو میں خدمت کر سکتا ہوں ـ اس سے زائد کا خیال ہوتو اس سے معزور ہوں ـ عرض کیا کہ اور حاضریں سے امداد کر دیجئے فرمایا کہ یہ میرے معمول کے خلاف ہے ـ اول تو میرے پاس بیٹھنے والے اکثر مسافر ہیں ـ کسی کو کیا خبر کہ ان میں مالی حالت کے اعتبار سے کون کس حالت میں ہے ـ اور اگر خبر بھی ہو تب بھی یہ طریق نا پسندیدہ ہے ـ نہ معلوم کوئی دل سے دینا چاہتا ہے یا نہیں اب اگر کہا گیا تو دو حال سے خالی نہیں ـ یا تو دے گا یا نہیں دیگا ـ اگر دیا تو جبر کی صورت ہے نہ دیا تو رسوائی سی معلو م ہوتی ہے ـ ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ ان مسافر سائلوں کی بھی کچھ خطا نہیں ـ مشائخ ایسا کرتے ہیں کہ خود تو کچھ دیتے نہیں اور دیں بھی کہاں سے ـ اپنے ہی لینے سے فرصت نہیں ـ ہر وقت اینٹھنے کی فکر میں رہتے ہیں ـ ہاں اپنے متعلقین سے فرمائش کردیتے ہیں کہ ان کی خدمت کر دو یہاں معاملہ اس عکس ہے میں خود تو خدمت کر دیتا ہوں مگر اہل تعلق سے کبھی فرمائش نہیں کرتا ـ پھر یہ کہ سائل تو روزانہ ہی آتے رہتے ہیں اگر روزانہ ایسی فرمائیشیں کی جاویں تو اس کا انجام یہ ہوگا کہ لوگ تنگ ہوں گے ـ بعض مشائخ کی شکایت خود ان کے مریدین نے مجھ کو لکھی کہ روزانہ فرمائیشیں کرتے ہیں ہم تنگ آ گئے ہیں کیا کرنا چاہئے پھر اس سائل کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا کہ جو میں کہہ چکا ہوں اگر وہ قبول اور منظور ہو تو میں پیش کروں ـ اس پر وہ سائل خاموش رہا ـ فرمایا کہ مجھ کو صرف یہی ایک کام نہیں اور بھی کام ہیں ـ ہاں نہ کا جواب دو تاکہ میں اپنے کام میں لگوں ـ عرض کیا کہ آپ کو اختیار ہے فرامایا کہ صاف بات اب بھی نہیں کہی مجھ پر ہی بوجھ رکھ دیا ـ خدا معلوم یہ مرض کم بخت کہاں سے لوگوں کو چمٹ گیا ہے ـ بدون اینچ پینچ کے بات ہی نہیں کرتے فرمایا کہ اختیار ہے بیٹھے رہو ـ جب تک صاف بات نہ کہو گے ادھر سے بھی اب کوئی بات نہ ہوگی ـ عرض کیا کہ مجھے منظور ہے ـ فرمایا کہ اتنا دق کر کے کہا پہلے کیا کسی نے چھینک دیا تھا ـ حضرت والا نے چار آنہ پیسہ دیئے ـ وہ سائل لیکر چل دیا ـ اس پر فرمایا کہ اب خوش ہوگا کیونکہ دو آنہ سے زیادہ توقع نہ تھی ـ اب ملے چار آنہ اس میں یہی مصلحت ہوتی ہے کہ زائد از امید پر زیادہ مسرت ہوتی ہے اگر پہلے ہی چار آنہ کہتا تو چار آنہ پر بھی خوش نہ ہوتا ـ اب خوش ہو گیا ـ ایک شخص ہیں جو میرے دوست ہیں ان پر قرض ہو گیا تھا تقریبا ڈھائی ہزار روپیہ انہوں نے مجھ سے کسی کو سفارش لکھنے کو کہا میں نے کہا کہ خطاب خاص تو میرے معمول اور مسلک کا خلاف ہے اگر تم کہو تو خطاب عام کی صورت میں کچھ لکھدوں ـ انہوں نے اس کو منظور کر لیا میں نے ایک عام خطاب کی صورت میں لکھ دیا ـ وہ یہاں سے اول میرٹھ پہنچے اور ایک رئیس سے ملے انہوں نے رقم کی مقدار کو دیکھ کر کہا کہ میاں اتنی بڑی رقم کہیں اسطرح پر ادا ہو سکتی ہے ـ اور کون اتنی بڑی رقم دے سکتا ہے ان کو اس وقت ایک طیش آیا اور قسم کھا کر یہ کہا کہ اب میں بھی جب تک ایک ہی آدمی ساری رقم نہ دے گا کسی سے کچھ نہ لوں گا ـ یہ کہہ کر اٹھ کر چل دیئے ـ پھر ان رئیس نے ان کو کچھ دینا بھی چاہا مگر انہوں نے نہیں لیا ـ اور وہاں سے دھلی پہنچے ـ ایک صاحب خیر سے ملے اس کے متعلق کچھ گفتگو ہو رہی تھی ـ ان کے یہاں ایک بمبئی کے سیٹھ مہمان تھے ـ ان کے کانوں میں کچھ الفاظ پہنچ گئے ـ ان سیٹھ صاحب نے دریافت کیا کہ معاملہ ہے ـ میزبان نے کہا کہ یہ صورت ہے اور فلاں شخص کی تصدیق ہے ـ اس سیٹھ نے ڈھائی ہزار کے نوٹ نکال کر ان کے حولے کئے یہ بھی معلوم ہوا کہ وہ سیٹھ اپنے بزرگوں کے مسلک اور مشرب کے بھی نہ تھے وہ دوست تیسرے چوتھے ہی روز یہاں پر آگئے ـ میں سمجھا کہ نا کامیاب آئے انہوں نے کہا کہ میں کامیاب آٰیا ہوں ـ میں ان کے اس کہنے کو بھی غلط ہی سمجھتا رہا ـ پھر انہوں نے بالتفصیل واقعہ سنایا تب یقین ہوا ـ دیکھئے خدا تعالی نے کس طرح بے گمان سامان کر دیا ـ جب ان کی یہ رحمت ہے تو پھر خدا ہی سے مانگنا چاہئے جو مانگنے پر خوش ہوتے ہیں اور دیتے ہیں اور نا مانگنے پر ناراض ہوتے ہیں ـ جو شخص ایسے کریم ک وچھوڑ کر لئیم کی خوشامد کرے اس سے زیادہ بیقوف کون ہوگا ـ اسی سلسلہ میں فرمایا کہ مولانا رحمت اللہ صاحب مہاجر مکی میں توکل اور زہد کی شان بہت بڑھی ہوئی تھی ـ سلطان عبدالحمید خان صاحب نے خود بلایا تنخواہ مقرر کرنا چاہی ـ انکار کر دیا ـ مدرسہ کیلئے مقرر کرنا چاہا صاف انکار کر دیا مولوی صاحب مجھ سے خود فرماتے تھے کہ اللہ تعالی نے میرے دل میں اس قدر قوت دی ہے کہ اگر ہفت و اقلیم کے بادشاہ جمع ہو کر مجھ سے خشونت کے ساتھ گفتگو کریں تب بھی میرے دل پ ررائی کے دانہ کے برابر بھی اثر نہ ہوگا ـ حالانکہ محض ظاہری عالم تھے مگر قلب میں اس قدر قوت تھی کہ کسی کا اثر نہ پڑتا تھا ـ یہ سب خدا داد عطائیں ہوتی ہیں ـ
18 محرم الحرام 1351 ھ مجلس خاص بوقت صبح یوم چہار شنبہ

( ملفوظ 290)دینی تعلقات رکھنا ہو تو میرے طرز پر رہو

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ جو مجھ سے دین کا تعلق رکھنا چاہتا ہے ـ میں اس کو اپنے طرز پر لانا چاہتا ہوں ـ اور طرز بالکل سیدھا سادا ہے ـ لوگ اس پر نہیں آنا چاہتے سو میں اس کا کیا علاج کروں ـ