ایک شخص نے تعویز کی درخواست کی کہ حضرت جی ایک عورت کو تکلیف ہے ـ تعویز دو ـ یہ کہہ کر خاموش ہو گیا ( اور تکلیف کا نام نہیں لیا ) حضرت والا نے فرمایا نواب بن کے آیا ہے ادھوری بات کہہ کر خاموش ہو گیا پوری بات کہو جب تک پوری بات نہیں کہے گا جواب کیا دیا جائے ـ عرض کیا کہ اوپر اثر ہے فرمایا اس پر تو ہے یا نہیں مگر تو بھی اسی مرض میں مبتلا ہے ـ پہلے ہی پوری بات کیوں نہیں کی تھی ـ جا اب تو دل برا کر دیا ـ پھر تھوڑی دیر میں پوری بات کہنا تعویز مل جائے گا ـ وہ شخص اٹھ کر چلا گیا ـ فرمایا کہ تعویز وغیرہ میں زیادہ تر عامل کے خیال کا اثر ہوتا ہے اگر اس کو مکدر کر دیا جائے تو پھر اس میں اثر نہیں ہوتا ـ ہر فن کے کچھ خاص احکام ہیں ـ فن عملیات کا یہی حکم ہے ـ اس لئے ضرورت ہے کہ عامل کو مکدر نہ کرو اور یہ جو میں کہہ دیتا ہوں کہ پھر آکر پوری بات کہو ـ اس میں علاوہ اس حکم مذکور کے یہ بھی مصلحت ہے کہ اس کو اپنی غلطی معلوم ہو جائے ـ اور یاد رہے اور آئندہ پھر ایسی حرکت نہ کرے ـ بس یہی وہ باتیں ہیں جن پر مجھ کو بدنام کیا جاتا ہے ـ
Author: حبیب اللہ
( ملفوظ 288)آج کل الگ الگ رہنا مصلحت ہے
ایک دیہاتی شخص نے عرض کیا کہ حضرت ایک تعویز دے دو میرا بھائی مجھ سے ناراض ہو کر جدا ہو گیا ہے ـ وہ مجھ سے محبت کرنے لگے فرمایا کہ الگ ہو گیا ہے ـ ہو جائے ـ جانے دو تمھارا کیا ضرر ہے ـ آجکل تو ایک جگہ رہنا فساد کی بات ہے ـ الگ ہی الگ رہنا مصلحت ہے ـ اس سے محبت بنی رہتی ہے ـ اور ساتھ رہنے میں محبت جاتی رہتی ہے ـ یہ الگ ہو جانا تو شکایت کرنے کی بات نہیں بلکہ خود الگ کر دینا چاہئے تھا ـ پھر اس میں تعویز سے کیا کام چلے گا ـ ایسی باتوں کے لئے تعویز نہیں ہوتا تم اپنا کھاؤ کماؤ وہ اپنا کیوں دوسروں کے غم میں پڑے مسلمان کا تو یہ مذہب ہونا چاہئے ـ
بہشت آنجا کہ آزا رے نباشد کسے رابا کسے کارے نباشد
( ملفوظ 287)صاحب نسبت میں شبہ ہو تو صالح ہونا یقینی ہے
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ فلاں صوفی صاحب ایک بی بی کے متعلق فرماتے تھے کہ صاحب نسبت ہیں ـ میں نے کہا خدا معلوم کہ ہیں بھی یا نہیں ـ مگر اس شہادت سے اتنا ضرور ثابت ہوا ـ نیک ہیں ـ مولانا شیخ محمد صاحب فرمایا کرتے تھے کہ جس کی نبوت میں اختلاف ہو اس کی ولایت تو یقینی ہے اور جس کے کفر میں اختلاف ہو اس کا فسق یقینی ہے ـ اور اس طرح جس کے صاحب نسبت ہونے کا شبہ ہو صالح ہونا یقینی ہے ـ
( ملفوظ 286) مشائخ طریق سے کسی کے ساتھ بدگمانی نہ ہونا
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ مجھ کو مشائخ طریق میں سے کسی سے بھی بدگمانی نہیں کسی کا کسی درجہ میں بھی وحشت ناک قول ہو وحشت ناک فعل ہو مگر الحمدللہ میرے ذہن میں اسکی توجیہ ایسی آجاتی ہے ـ کہ ذرا برابر بدگمانی میرے قلب میں رسد نہیں ہوتی ـ
17 محرم الحرام 1351 ھ مجلس بعد نماز ظہر یوم سہ شنبہ
( ملفوظ 285)طریق کا احیاء اور حق تعالٰی کا فضل
ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ یہ تو میں نہیں کہہ سکتا کہ یہ طریق مجھ کو ملہم ( الہام کے ذریعہ بتلایا گیا ) ہو گیا ہے یہ تو بڑا دعوی ہے مگر ہاں یہ ضرور ہے کہ اجمالا تو حضرت حاجی صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے ارشادات سے تفصیل اس کی حق تعالی نے محض محبت سے قلب میں وارد فرمادی ہے ـ اسکو چاہے الہام سے تعبیر کر لیا جائے اختیار ہے ـ خدا کا فضل ہے ـ انعام ہے ـ احسان ہے جو چیز عطا فرمائی گئی ہے ـ میں اسکی نفی کر کے کیوں کفران نعمت کروں ـ یہ طریق مردہ ہو چکا تھا ـ مفقود ہو چکا تھا ـ حق تعالی نے اس کے احیاء کی توفیق فرمادی یہی وجہ ہے کہ نا واقفی سے لوگوں کو وحشت ہے قدیم طریق سلف کا گم ہو چکا تھا ـ یہاں وہی طریق ہے جو سلف کا تھا ـ مگر اس کے مفقود ہو جانے کی وجہ سے لوگوں کو نیا معلوم ہوتا ہے حالانکہ ہے پرانا ـ
( ملفوظ 284) کسی صاحب کے آنے نہ آنے سے حضرت کا خالی ذہن ہونا
ایک صاحب نے عرض کیا کہ کہ فلاں مولوی صاحب کو لکھ دیا جائے کہ اگر آنا چاہیں تو اجازت ہے اور یہ بات میں لکھ دوں گا آپ کو آنے کی اجازت ہے ـ فرمایا کہ اس سے ان کو میری نسبت یہ شبہ ہوگا کہ وہ ان کا آنا چاہتا ہوگا حالانکہ میں بالکل خالی الذہن ہوں ـ مجھ کو نہ اس میں موافقت ہے نہ مخالفت بلکہ میرا تو مذاق تو یہ ہے کہ جس قدر کم تعلقات ہوں ـ میں ہلکا پھلکا رہتا ہوں ـ معتقدین کی کثرت کوئی امر مطلوب نہیں ـ خود طالبین کا نفع ہے اگر وہ اپنا نفع سمجھیں تعلقات رکھیں مجھے کوئی ضرورت نہیں ـ مجھ کو نہ اس میں موافقت ہے نہ مخالفت بلکہ میرا تو مزاق یہ ہے کہ جس قدر کم تعلقات ہوں ـ میں ہلکا پھلکا رہتا ہوں معتقدین کہ کثرت کوئی امر مطلوب نہیں ـ خود طالبین کا نفع ہے اگر وہ نفع سمجھیں تعلقات رکھیں مجھے کوئی ضرورت نہیں ـ نہ اس میں میرا کوئی نفع اس حالت میں تمھارا مشورہ دینا اس کو موہم ہوگا ـ اور اس نے یعنی میں نے کہا ہوگا پھر ایسی صورت میں مجھ کو یہ شبہ رہے گا کہ نہ معلوم ان کا تعلق خلوص سے ہو یا نہیں ـ ہاں یہ ضرور ہے کہ انہوں نے جو اپنی غلطیوں کا اعلان کیا ہے ـ اس اعلان سے مظنون یہی ہے کہ خلوص ہے مگر یقین کا درجہ اب بھی نہیں ـ اس لئے کہ جب پہلے عدم اعلان لوگوں کے کہنے سے ہوا تھا ـ ممکن ہے اب اعلان کسی کے کہنے پر سے کر دیا ہو ـ دوسرے مجھے یہ بھی اندازہ نہیں کہ وہ آئندہ بھی خلوص سے تعلق رکھیں گے یا نہیں اس کو تو ان سے گفتگو کرنے والے ہی سمجھ سکتے ہیں ـ میرا تو کسی حالت میں بھی ضرر نہیں ـ آخر دس برس تک انہوں نے اپنی غلطی سے رجوع نہیں کیا میرا کیا ضرر ہوا اب رجوع کرنے کا اعلان شائع کر دیا تو مجھ کو کونسا نفع ہو گیا کہ میں نے ابتداء ہی میں جب انہوں نے اعلان سے عزر کیا تھا ـ پوچھا تھا کہ کیا عار اور استکبار اس اعلان سے مانع ہے ـ انہوں نے کہا کہ جی ہاں تو ظاہرا ایسے شخص سے آئندہ کیا توقع ہو سکتی ہے مگر میں با وجود اس کہ بھی بدظنی نہیں کرتا ـ ہر زمانہ انسان پر یکساں نہیں ہوتا ـ ممکن ہے کہ اب جو وہ کر رہے ہیں ـ خلوص پر منبی ہو ـ مگر مجھ کو کسی حال میں نہ اس سے بحث کہ وہ تعلق رکھیں نہ اس کا خیال کہ وہ تعلق نہ رکھیں ـ جس میں وہ اپنا نفع دیکھیں کریں ـ میں باکل اس معاملہ میں خالی الزہن ہوں ـ نہ مجھ کو انتظار نہ مجھ کو ضرورت اور اب کیوں دوسروں کے معاملات میں ٹانگ پھنسانا چاہتے ہیں ـ کوئی کچھ کرے یا نہ کرے آپ اپنے کام میں مشغول رہیں ـ دوسروں کی تو انسان جب فکر کرے جب اپنے سے فراغت کر چکا ہو ـ
( ملفوظ 283)امتیوں کی محبت حضور کی محبت کا نتیجہ ہے
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ایک انگریز مصنف کا قول ہے کہ کسی امتی کو اپنے نبی سے اتنی محبت نہیں ـ جس قدر مسلمانوں کو اپنے رسول سے محبت ہے ـ واقعی بدون محبت کے کچھ نہیں ہوتا ـ بڑی چیز محبت ہے گو ظاہرا ادب و تعظیم بھی زیادہ نہ ہو مگر محبت ہو اس سے سب کچھ حاصل ہو جاتا ہے ـ وجہ یہ ہے کہ میں محب اپنے محبوب کے خلاف نہیں کر سکتا اور ظاہر ہے کہ اتباع کتنی بڑی چیز ہے آجکل لوگ ادب و تعظیم کو بڑی چیز خیال کرتے ہیں ـ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ہی کے تو کرشمے ہیں کہ حضور کی شان میں گستاخی کرنے والوں کو جو قتل کیا ہے وہ محبین ہی نے کیا ـ کسی خشک مولوی صاحب نے نہیں کیا ـ زیادہ جاہلوں ہی نے کیا ہے جن کے دل میں کامل محبت تھی اور دیکھا تو یہی گیا ہے کہ مسلمان اگر فاسق فاجر بھی ہے اس کے دل میں بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت رچی ہوئی ہے ـ ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت کوئی شخص تنخواہ دے کر بھی اس درجہ کا جان نثار نہیں بنا سکتا ـ فرمایا کہ تنخواہ کیا چیز ہے ـ حضور نے تو وہ چیز دی ہے جو دوسرا دے ہی نہیں سکتا ـ آپ ہی کی بدولت ایمان ملا ـ جنت ملی اور حضور کی محبت کی زیادہ درجہ یہ ہے کہ خود حضور ہی کو امت سے بہت زیادہ محبت تھی ـ یہی ترتیب محبت کی شیخ اور طالب میں ہے ـ حضرت حاجی صاحب رحمتہ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ اگر کسی کو شیخ سے محبت ہو وہ ناز نہ کرے کہ یہ ہمارا کمال ہے ـ نہیں بلکہ اول شیخ ہی کو تم سے محبت ہوتی ہے ـ البتہ لون و ( رنگ ) محبت کا جدا جدا ہے جس کو مولانا رومی نے ایک خاص عنوان سے ظاہر فرمایا ہے ـ
عشق معشوقان نہان ست دستیر عشق عاشق با و صد طبل ونفیر
( محبوبوں کو جو محبت عاشق سے ہوتی ہے وہ تو پوشیدہ ہوتی ہے ـ اور عاشق کی محبت ( بوجہ آہ فغاں کے ) ظاہر ہوتی ہے ـ )
ایک بزرگ کا واقعہ ہے کہ اپنے ایک مرید سے دریافت فرمایا کہ ہمیں تم سے محبت ہے ـ یا تم کو ہم سے محبت ہے ـ عرض کیا کہ حضرت مجھ کو زیادہ محبت ہے ـ بزرگ خاموش ہو گئے ـ مگر اس کی طرف سے توجہ ہٹالی ـ لہذا مرید کو جو ایک خاص گرویدگی تھی اور ہر وقت پاس رہتا تھا ـ اب یہ ہوا کہ آنے کی بھی توفیق نہ رہی ـ پھر ان بزرگ نے توجہ کی تو وہ آگئے ـ دریافت فرمایا کہ بولو تم کو زیادہ محبت تھی یا ہم کو ـ بہت شرمندہ ہوا ـ سو اگر کسی کی طرف اللہ کا مقبول بندہ متوجہ ہو جائے ـ بڑی نعمت ہے ، بڑ دولت ہے کیونکہ ان کو کسی کی خوشامند کرنا نہیں ـ اس کو کسی کی ضرورت نہیں ـ پھر بھی اگر توجہ کریں تو حق تعالی کا فضل ہی سمجھنا چاہئے ـ اپنا کمال ہرگز نہ سمجھے ـ
17 محرم الحرام 1351 ھ مجلس خاص بوقت صبح یوم سہ شنبہ
( ملفوظ 282)حضرت گنگوہی اور حضرت تھانوی کا وعظ
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ یہاں تو جو کچھ ہے بزرگوں کی جوتیوں کا صدقہ ہے ـ ان ہی حضرات کی وجہ اور دعاؤں کی برکت ہے عمل وغیرہ جیسے ہیں ـ وہ مجھکو خود معلوم ہے ـ توجہ کا ایک قصہ عرض کرتا ہوں میں ایک مرتبہ گنگوہ گیا ـ بعض لوگوں کے اصرار سے وعظ ہوا ـ میں نے حضرت مولانا سے وعظ کو چھپایا تھا ـ کہ حضرت کی اطلاع میں وعظ کہنا گستاخی ہے ـ یہ واعظ ایک مسجد میں تھا ـ حضرت کو کسی ذریعہ سے اطلاع میں وعظ کہنا گستاخی ہے ـ یہ واعظ ایک مسجد میں تھا ـ حضرت کو کسی ذریعہ سے اطلاع ہو گئی ـ اس وقت جو شخص آتا فرماتے کہ دیکھو وہاں جاؤ آج حقانی وعظ ہو رہا ہے ـ اس قدر شفقت تھی ـ
( ملفوظ 281)اصلاح کا طریقہ اور شیخ کی تشخیص و تجویز پر اعتماد
ایک صاحب کی غلطی پر مواخزہ فرماتے ہوئے فرمایا کہ میرا مقصود مواخزہ یا کھود کرید کرنے سے تنگ کرنا نہیں ہوتا ـ مقصود یہ ہوتا ہے کہ جو منشاء ہے اس غلطی کا اس شخص کو اس کا علم ہو جائے تاکہ جہل سے نجات ہو مگر اس نجات کو لوگ چاہتے ہی نہیں ـ اب بتلایئے کہ اصلاح کس طرح ہو اگر غلطی پر آگاہ نہ کیا جائے تو جہل میں مبتلا رہے گا تو آنے سے فائدہ ہی کیا ہوا بس لوگ تو یہ چاہتے ہیں کہ بات گول مول رہے اور معاف ہو جائے اچھا اگر اس نے معاف بھی کر دیا اور گول مول بھی رکھا مگر تم کو کیا نفع ہوا جو مرض ہے وہ تو زائل نہ ہوا ـ اسی لئے اس پیری مریدی کے جھگڑے سے میرا دل کٹھا ہو گیا ـ اس کی بالکل ایسی مثال ہے کہ مریض نے بد پرہیزی کی اور طبیب سے کہا کہ معاف کر دیجئے ـ اس نے کہہ دیا کہ اچھا معاف ہے نتیجہ کیا ہوا ـ علاج تو مرض کا نہ ہوا ـ مادہ فاسد تو بدستور رہا ـ پھر اس حالت میں طبیب سے تعلق رکھنا ہی بیکار ہے ـ آدمی اپنے گھر بیٹھا رہے کیوں خود پریشان ہو اور کیوں درسرے کو پریشان کرے ـ مادہ فاسد تو آپریشن سے ہی نکل سکتا ہے ـ کبھی ڈاکٹر سے بھی کہا کہ معاف کر دیجئے ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ حضرت عوام بے چاروں کی آپ کیا شکایت کرتے ہیں ـ اہل علم اس بلا میں مبتلا ہیں کہ غلطی کا تدارک نہیں کرتے ـ ایک صاحب کو جو صاحب علم بھی ہیں اور غلطی کے اقراری بھی تھے ـ تحریکات کے زمانے میں میں نے ایک غلطی پر کہا کہ تم اس کا تدارک کرو کہ اپنی غلطی بذریعہ اشتہار اعلان کرو کہا کہ یہ تو نہیں ہو سکتا میں نے کہا کہ میں ایسے شخص سے کوئی تعلق نہیں رکھنا نہیں چاہتا کہ اعتراف کے بعد بھی اظہار حق سے عار کرتا ہو ـ اب دس دس برس کے بعد وہی صاحب اپنے نفس کو پامال کرنے کے لئے آمادہ ہو گئے اور اعلان کیا میں صاف ہو گیا مجھ کو تو یہ ہی دیکھنا مقصود تھا ـ صاحب اس طریق میں پہلا قدم اپنے کو فنا کردینا ہے ـ اگر یہ بھی حاصل نہ ہو تو وہ شخص بالکل محروم ہے ـ یہ طریق ایسا نازک ہے کہ بعض اوقات اس میں کسی تشخیص کے بعد بھی سمجھنا مشکل ہوتا ہے ـ میں نے ایک شخص سے کہا تھا کہ تم میں کبر کا مرض ہے ـ صاف انکار کیا کہ مجھ میں کبر ہر گز نہیں بلکہ برا مانا کہ یہ مرض میرے اندر کیسے تشخیص کیا ـ پانچ برس کے بعد خود اقرار کیا کہ آپ کی وہ تشخیص میرے متعلق صحیح تھی ـ اب معلوم ہوا کہ میرے اندر کبر کا مرض ہے ـ میں نے کہا کہ بندہ خدا اگر جبھی مان لیتا تو اب تک علاج بھی ہو جاتا ـ پانچ برس کی مدت بہت ہوتی ہے ـ یہ سب ضائع ہو گئی ـ اسی واسطے میں کہا کرتا ہوں کہ اس طریق میں طالب کا فرض تقلید محض ہے ـ یعنی جو مربی کہے اس کو بے چوں و چرا مان لے قیل و قال سے اس میں کام نہیں چلتا ـ اس کا انجام محرومی ہے ـ ایک مثال سے سمجھ لیجئے اگر طبیب کسی شخص سے یہ کہے کہ تیرے اندر دق کے آثار ہیں تو اگر وہ تشخیص غلط بھی ہو تب بھی احتمال ہی کے درجہ میں بھی علاج کر لینے میں کیا حرج ہے ـ اس تقلید کی ایک محل مثال کہ طور پر عرض کرتا ہوں کہ لوگوں کی یہ حالت ہے کہ اگر میں کسی سے یہ کہوں کہ تمام شب جاگو اور بیٹھ کر مجھکو پنکھا جھلو ـ اس ریاضت کے لئے تیار ہو جائیں گے ـ اور سمجھیں گے کہ اب قطب بنادیں گے ـ اتنا بڑا کام ہم سے لیا ہے اور اگر یوں کہوں کہ خوب آرام کرو ـ تمام شب سوؤ خوب کھاؤ پیو فلاں گناہ چھوڑ دو ـ اس پر برا مانیں گے ـ اور اس پر اتباع نہ کریں گے ـ اور اس کو محض معمولی بات سمجھیں گے ـ یہ حالت ہے عقل اور فہم کی ـ
( ملفوظ 280) تحریکات میں شرکت سے اجتناب
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ تحریکات حاضرہ کے دور میں عجیب عجیب الزامات اور بہتان میرے سر تھوپے گئے ـ بعض لوگ کہتے تھے ان کو حس نہیں ـ اس لئے خاموش بیٹھے ہیں میں کہتا ہوں کہ بیٹھنے کا سبب بے حسی نہیں ـ بلکہ حس ہی بسبب ہے ـ وہ یہ کہ جو تم کو معلوم ہے ـ ہم کو بھی معلوم ہے اور تم سے زائد ہم کو ایک اور بات معلوم ہے ـ جس کیوجہ سے ہم خاموش ہیں ـ وہ یہ کہ بدون قوت کے مقابلہ کرنے میں ہم فنا ہو جائیں گے ـ مٹ جائیں گے کیونکہ ان تحریکات کی کامیابی کا نتیجہ ظاہرا ہندوؤں کا غلبہ ہے اور ہندو انگریزوں سے زیادہ دشمن ہیں ہر شخص شب و روز اسکا مشاہدہ کرتا ہے ـ دیکھ لیا جائے تمام دفاتر اور محکموں میں مسلمانوں کے ساتھ کیا برتاؤ کیا جا رہا ہے ـ اگر واقعات اور مشاہدات کو بھی نظر انداز کیا جائے تو اسکا کسی کے پاس کیا جواب ہے ـ

You must be logged in to post a comment.