ملقب بہ حقوق الا نفاق ) ایک نو وارد صاحب نے حضرت والا کی خدمت میں ایک پرچہ پیش کیا جو کسی دوسرے صاحب نے ان کے ہاتھ بھیجا تھا ـ ملاحظہ فرما کر فرمایا کہ اس میں تو کوئی ایسی بات نہیں لکھی ـ جس کے لئے آدمی کو بھیجنے کی اور اتنا خرچ کرنے کی زحمت گوارا کی ـ خیر اگر آپ کو معلوم ہو تو آپ ہی کوئی بات بتلائیں ـ اس میں تو بالکل گول مول بات لکھی ہے ـ وہ صاحب خاموش رہے کوئی جواب نہیں دیا ـ اس پر حضرت والا نے فرمایا کہ وہ کاتب صاحب سامنے نہیں خط کا مضمون کافی نہیں ـ آپ بولتے نہیں ـ اب کام کیسے چلے فرمایا بعضے لوگ زرا سی بات پر پیسہ کو نہایت بے دردی سے صرف کرتے ہیں ـ خدا کی نعمت کی قدر نہیں کرتے ـ بھلا آدمی کے بھیجنے کی کیا ضرورت تھی ـ ایک کارڈ سے جو کام ہو سکتا ہے اس کے لئے اتنا صرف اگر موقع محل اور ضرورت میں ہزار بھی صرف ہو جائیں تو دل کوقلق نہیں ہوتا فرمایا کہ کبھی ایسا ہوا ہے کہ مثلا دونوں گھروں میں ضرورت کے موقع پر ایک ایک ہزار روپیہ دینے کا ارادہ کر لیا تو قلب میں تقاضا ہوتا ہے ـ کہ جلد یہ کام کردینا چاہیئے ـ مالکی محبت صرف کرنے سے مانع نہیں ہوتی ـ اور بے موقع اور بلا ضرورت ایک پیسہ صرف کرنے کو بھی جی نہیں چاہتا ـ ایک روز ایسا ہوا کہ ایک پیسہ گم ہو گیا دیر تک اس کو تلاش کیا نہیں ملا پھر نیاز سے کہا کہ تم بھی ڈھونڈھنا اب اس کو چاہے کوئی بخل ہی سے تعبیر کرے جب تک مل نہ گیا ـ چین نہیں آئی ـ کیونکہ وہ گم ہو جانا کسی مد میں شمار نہ تھا ـ فضول جانے کا قلق تھا اور اگر باوجود تلاش کے بھی نہ ملتا تو اس بھی ایک مد سمجھ رکھا ہے ـ وہ یہ کہ نہ ملنے پر صبر کا ثواب تو ملا ـ ایک ریاست سے ایک شخص کو محض اجوائن سیاہ مرچ پڑھوانے کے واسطے بھیجا گیا ـ سو جو کام ایک روپیہ میں ہو سکتا تھا ـ ڈاک کے ذریعہ سے اس میں اتنا صرف کیا فائدہ ایک شخص مجھ سے بیان کرتے تھے کہ فلاں نواب صاحب کا ایک چھوٹا سا لڑکا بیمار ہو گیا تھا تو اسی تمارداری میں روزانہ چار سو پانچ سو روپیہ صرف ہوتا تھا ـ یعنی ڈاکٹروں میں طبیبوں میں جھاڑ پھونک والوں میں شائد اتنا وزن لڑکے میں بھی نہ ہوگا جتنے وزن کی چاندی صرف ہو گئی ہوگی ـ اس سے میرا یہ مطلب یہ نہیں کہ صرف نہ کیا جائے یا پیسہ اولاد سے زیادہ عزیز ہے ـ مطلب یہ ہے کہ جیسے اولاد خدا کی نعمت ہے ـ پیسہ بھی ان ہی کی نعمت ہے اس کو بھی طریقہ سے ہی صرف کرنا چاہیئے ـ اور اس موقع پر بہت سا فضول بھی صرف ہو رہا تھا ـ ان نواب صاحب نے یہاں آدمی بھیجا دعاء کے لئے اور دس روپیہ بھیجے کہ ختم میں دعا کر دیجئے میں نے مزاہن کہا کہ وہ چیزیں تو اس قدر صرف کر رہے ہیں اور یہاں پر دس روپے بھیجے کم از کم پچاس تو بھیجے ہوتے اور یہ کہہ کر میں نے دو روپیہ رکھ لئے اور آٹھ واپس کر دیئے اور لکھ دیا کہ دو روپیہ میں ایک مہینہ تک دعاء ہوتی ہے ـ اللہ تعالی سے امید ہے کہ اس مدت میں اس کو آرام ہوجائے گا ـ ایک مرتبہ میں بمبئی گیا ـ چھوٹے گھر سے حج کو جا رہی تھی ـ ان کو جہاز میں سوار کرنے گیا تھا ـ وہاں پر حکیم محمد سعید صاحب نے ہم لوگوں کیلئے ایک مکام کرایہ پر لیا تھا ـ بڑا مکان تھا کرایہ وہاں عموما بہت زیادہ ہوتا ہے ـ غالبا تین سو روپیہ میں لیا گیا تھا ـ حکیم صاحب کے یہاں سے کھانا وہاں ہی آجاتا تھا ـ اس میں غسل خانہ کے نام سے ایک حصہ تھا ـ مگر چونکہ وہ مکان نیا بنا تھا ـ اس میں غسل وغیرہ کرنا شروع نہ ہوا تھا کھا نا جو آتا تھا اس غسل خانے میں رکھ دیا جاتا اور کھانا خرچ سے بہت زائد آتا تھا اور کھا کر بچ جاتا تھا ـ تو کھانا لانے والے نوکر یہ حرکت کرتے کہ بچا ہوا کھانا اس غسل خانہ کی کھڑکی سے باہر نالی میں پھینک دیتے ـ اس نالی میں اس نالی میں گندہ پانی بہتا تھا ـ پھر علاوہ رزق کے احترام کے وہ کھانا صورۃ بھی نہایت عمدہ ہوتا تھا ـ پلاؤ ، زردہ ، قورمہ ، مزعفر مگر نا معقول اس کے نہ معنی کا ادب کرتے نہ صورت کا احترام مجھ کو ایک روز معلوم ہوا کہ کھانا اسطرح پھینک دیا جاتا ہے ـ مجھ کو اس قدر رنج اور صدمہ ہوا کہ میں بیان نہیں کر سکتا ـ میں نے ان لوگوں کو ڈانٹا کہ خدا کی نعمت کی یہ بے قدری کرتے ہو اور پھر میں نے حکیم صاحب سے شکایت کی کہنے لگے کہ یہ ایسے ہی نالائق ہیں ـ ممکن ہے کہ بعد میں زیادہ ڈانٹ ڈپٹ کی ہو پھر بعد میں سمجھ میں آیا کہ وہاں کی فضا اور ماحول میں یہ اثر ہے کہ نعمت کی قدر نہیں کی جاتی ـ اور یہ ملازم گو بمبئی کے رہنے والے نہ تھے ـ ہندستانی ہی تھے مگر وہاں کے برتاؤ کو دیکھتے دیکھتے ان میں بھی بے حسی پیدا ہو گئی ـ اتفاق سے وہاں پر لوگوں کی درخواست پر ایک بیان ہوا ـ میں نے سوچا اگر اختلافی مسائل کا بیان کرتا ہوں تو فتنہ کا اندیشہ ہے ـ یہ وہاں پر بڑی آفت ہے ـ قتل تک کی سازشیں شروع ہو جاتی ہیں ـ اور اگر نماز روزہ کا بیان کرتا ہوں تو اسکو سب جانتے ہیں ـ اس لئے چنداں نفع نہیں ایسا بیان ہو کہ یہ بھی نہ ہوں اور اس میں نزاع بھی نہ ہو ـ اسلئے میں نعمت الہیہ کی قدر کے متعلق اس آیت کا بیان کیا ـ وضرب اللہ مثلا قریۃ کانت اٰمنۃ مطمئنۃ یا تیھا رزقھا رغدا من کل مکان فکفرت بانعم اللہ فاذاقھا اللہ لباس الجوع والخوف بما کانوا یصنعون ۔ کہ تم خدا کی نعمت کی قدر نہیں کرتے ـ اب اس بے قدری کا نتیجہ چند ہی روز ہی میں برآمد ہوا ـ واقف لوگوں سے معلوم ہوا کہ جن کی کئی کئی کروڑ کی حیثیت تھی ـ اب وہ سڑکوں پر رات بسر کرتے ہیں ـ خدا کی نعمت کی بے قدری کرنا ـ بڑی خطرناک بات ہے ـ میں ایک مرتبہ ریل میں سفر کر رہا تھا ـ ہمراہیوں میں خواجہ صاحب تھے اور ایک صاحب رئیس تھے ـ قنوج کے جوبہت دیندار آدمی تھے ـ کھانا ساتھ تھا ـ جب کھانا شروع کیا ـ اتفاق سے ایک بوٹی ان کے ہاتھ سے چھوٹ کر نیچے کے تختے پر گر گئی ـ ان صاحب نے یہ کیا کہ اس کو جوتہ سے تختے کے نیچے سرکا دیا ـ مجھ کو انکی یہ حرکت بے حد ناگوار ہوئی ـ اب سوچا کہ اگر کچھ کہتا ہوں تو نیک آدمی اور رئیس پھر بوڑھے بھی ان کو کیا کہوں مگر تنبیہ ضرور تھی ـ یہ سمجھ میں آیا کہ ان کو عملی تبلیغ کرنا چاہئے میں نے خواجہ صاحب سے کہا کہ یہ خدا کی نعمت ہے ـ اس کو اٹھا کر اور دھو کر مجھ کو دی جائے ـ میں اسکو کھاؤں گا خواجہ صاحب بے حد نفیس آدمی ہیں ـ انہوں نے کہا اگر کوئی اور کھا لے تو کیا اسکو اجازت ہو سکتی ہے ـ میں نے کہا اجازت ہے ـ مشرطیکہ طبیعت گوارا کرے ـ مقصود تو خدا کی نعمت کا احترام ہے خواجہ صاحب نے اٹھا کر دھو کر صاف کر کے اس بوٹی کو کھا لیا ـ وہ صاحب اس وقت تو کچھ نہیں بولے مگر میری غیبت میں کہا کہ اگر پچاس جوتے مار لئے جاتے مجھ اسقدر شرمندگی نہ ہوتی ـ جتنی اس صورت میں ہوئی ہے ـ آئندہ ایسی حرکت کبھی نہیں ہو سکتی ـ میں گھر جاتا ہوں کہ کہیں پر روٹی کا ٹکڑا یا اناج کا دانہ کہیں دیکھتا ہوں کانپ جاتا ہوں ـ فورا اس کو اٹھاتا ہوں اوراحترام سے اسکو حفاظت کی جگہ رکھ دیتا ہوں ـ بعضی مرتبہ چنے وغیرہ گھونگنی کھانے کا اتفاق ہوتا ہے اور اچٹ کر کوئی دانہ گر جاتا ہے اگر شب کا وقت ہوتا ہے تو اس کو لالٹین سے ڈھونڈتا ہوں جب تک پا نہیں جاتا اور اس کو صاف کر کے کھا نہیں لیتا ـ قلب کو چین نہیں آتا ـ حدیث شریف میں آیا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا سے فرمایا کہ ” یا عائشہ اکرمی الخبز ” یعنی اے عائشہ رزق کا احترم کرنا چاہئے ـ یہ جس گھر سے نکل جاتا ہے پھر واپس نہیں آتا ـ یہ عبرت بڑے خوف اور عبرت کا مقام ہے ـ یعنی رزق کا گھر سے نکل جانا اس کو ہر شخص سمجھ سکتا ہے پھر کیا نوبت ہوتی ہے ـ اگر آئے گا بھی تو شائد کسی آئندہ نسل میں آئے گا اس کو میسر ہونا مشکل ہے ـ غالب یہی ہے حق تعالی کی نعمتوں کی بے قدری کرنا اور ان کا قلب میں احترام نہ ہونا صاف کفران نعمت ہے وہ عطا فرمائیں اور یہ قدر نہ کرے اس کا جو کچھ انجام ہوگا ظاہر ہے ـ ایک صحابی ہیں حضرت حزیفہ وہ فارس کی کسی مقام پر بطور دروہ حکام تشریف ہے گئے بڑے بڑے رئیس کفار ملاقات کے لئے آئے ـ آپ اس وقت کھانا کھا رہے تھے اور وہ تمام کفار بھی پاس بیٹھے ہوئے تھے ـ آپ کے ہاتھ سے لقمہ چھوٹ گیا ـ آپ نے اٹھا کر صاف کر کے کھا لیا ـ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جہاں آپ بیٹھے ہوئے کھانا کھا رہے تھے ـ وہ کوئی خاص اور ممتاز جگہ نہ تھی یعنی وہاں قالین گدے نہ تھے ورنہ لقمے کو لگتا ہی کیا زمین میں بیٹھے ہوئے کھا رہے تھے ـ جبھی تو صاف کرنے کی نوبت آئی ـ مٹی میں ملوث ہو گیا ہوگا ـ ایک خادم نے چپکے سے عرض کیا کہ حضرت اس وقت یہاں پر بڑے بڑے دنیا دار کفار کا مجمع ہے ـ اور یہ ایسی بات کو تحقیر کی نظر سے دیکھتے ہیں ـ انہوں نے تولیت پست آواز سے کہا تھا مگر انہوں نے بلند آواز سے فرمایا کہ کیا میں ان احمقوں کی وجہ سے اپنے خلیل اور اپنے محبوب جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ کو چھوڑ دونگا ـ کیا ٹھکانا ہے ان حضرات کے ایمان کا ایمان قلب میں رچا ہوا تھا ـ جو بات آجکل ریاضتوں ، مجاہدو ، مراقبوں ، مکاشفوں سے پیدا کی جاتی ہے ـ وہ ان حضرات کے ویسے ہی حاصل یہ ہے کہ خدا کی نعمتوں کی قدر کرنا چاہئے ـ اسراف سے بچنا بھی اسی قدر میں داخل ہے اور اسراف کا سہل علاج یہ ہے کہ جب خرچ کرو سوچ کر خرچ کرو کہ ضرورت ہے یا نہیں ـ یونہی مت اڑادو ـ اس کے متعلق تو نص ہے ـ فضول مال اڑانے والوں کی نسبت حق تعالی فرماتے ہیں ـ ولا تبزر تبزیرا ان المبزرین کانوا اخوان الشیاطین فضول مال اڑانے والوں کو شیطان کا بھائی فرمایا اس بڑھ کر کیا وعید ہو سکتی ہے ـ ایک مقام پر فرماتے ہیں ـ ان اللہ لا یحب المسرفین غرض جہاں صرف ہو حدود کے اندر ہو ـ
16 محرم الحرام 1351 ھ مجلس بعد نماز ظہر یوم دو شنبہ
Author: حبیب اللہ
( ملفوظ 277) زیادہ محبت سے زیادہ رعب پیدا ہوتا ہے
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ہمارے سلسلہ کی مقبولیت اور نافعیت الحمدللہ کھلی ہوئی ہے ـ حضرت میاں جی صاحب رحمتہ اللہ علیہ اسی کے متعلق فرمایا کرتے تھے کہ ہماری روشنی ہمارے بعد دیکھنا اب وہ روشنی کھلی آنکھوں نظر آرہی ہے ـ
ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت میاں جی صاحب رحمتہ اللہ علیہ کی تو بعض کرامتیں بھی عجیب و غریب سنی ہیں ـ فرمایا کہ جی ہاں ایک مرتبہ کسی کے کھیت میں آگ لگ گئی ـ کھیت والے نے آکر شکایت کی آپ نے سر سے ٹوپی اتار کر دے دی کہ جلدی س جا کر آگ میں ڈال دو ـ وہ لے جا کر ڈال دی گئی آگ فورا بجھ گئی ـ ایک مرتبہ بیوی صاحبہ نے کہا کہ لوگ کہتے ہیں ـ ولی ہیں بزرگ ہیں ، ہاں ہوں گے مگر ہماری تکلیف میں تو کام نہ آئے ـ ان کی آنکھوں کی روشنی جاتی رہی تھی ـ بابینا ہو گئی تھیں ـ حضرت میاں جی صاحب رحمتہ اللہ علیہ یہ سن کر چلدیئے کہ کوئی جواب نہ دیا ـ یہ قضاء حاجت کے لئے چلیں ـ کسی دیوار میں بڑی زور سے ٹکر لگی بیہوش ہو کر گر گئیں اور اسقدر پسینہ آیا کہ کپڑے تر ہو گئے اور آنکھوں سے بھی پسینہ نکلا ہوش آیا تو ایک لڑکی سے کہا کہ مجھ کو تو دیوار پر بیٹھی چڑیا نظر آرہی ہے نظر عود کر آئی آنکھوں سے جو پسینہ نکلا وہ رطوبت کا مادہ تھا ـ اس کے نکلنے سے آنکھ صاف ہو گئی ـ
( ملفوظ 276) وصول میں تاخیر حکمت کی بنا پر ہوتی ہے
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ میں حضرت حاجی صاحب کے پاس سے تازہ آیا ہوا تھا ـ طبیعت میں شورش بہت تھی ـ جی چاہتا تھا کہ جو کچھ ہونا ہو ـ یک دم ہو جائے ـ ایک بار اسی غلبہ میں چند مقدمات ذہن میں جمع ہو کر ایک سوال پیدا ہوا کہ ایک مقدمہ یہ تھا کہ کامل درجہ کی نہ سہی مگر پھر بھی اپنی استعداد کے موافق طالب میں طلب بھی ہے ـ اور دوسرا یہ کہ اس طلب کا ان کو علم بھی ہے ـ تیسرے یہ کہ وہ قادر بھی ہے ـ چوتھا یہ کہ وہ رحم بھی ہے مگر باوجود ان دواعی کے اجتماع کے پھر وصول الی المقصود میں دیر کیوں ہوتی ہے ـ جب اشکال زیادہ بڑھا میں نے مثنوی کھولی تو اس میں یہ اشعار نکلے ـ چار می جوید پے من درد تو ( اس میں طلب کا ذکر ہے ) میثوم دم و دش آہ سرد تو ( اس میں علم کا اثبات ہے ) می توانم نہم کہ بے ایں انتظار رہ نمایم وادہم راہ گذار ( اس میں قدرت کا ذکر ہے ) تا ازیں طوفان دوران وار ہی بر سر گنج و صالم پا نہی ( اس میں لطف و رحمت کا بیان ہے ان سب مقدمات کے بعد یہ شعر ہے
لیک شیر ینی ولذت مقر ہست براندازہ رنج سفر
آنگہ از فرزند و خویشاں بر خوری کز غریبی رنج و محنت ہابری
( ملفوظ 275) آجکل کی متانت کبر سے ناشی ہے
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آج کل کی متانت اکثر کبر سے ناشی ہوتی ہے ـ اسی معنی کے اعتبار سے ماموں صاحب فرمایا کرتے تھے کہ شوخی آدمی کی روح زندہ ہوتی ہے اور نفس مردہ اور متین آدمی کا نفس زندہ ہوتا ہے اور روح مردہ ہنسنا بولنا بے تکلف رہنا یہ روح کے زندہ ہونے کی دلیل ہے مگر اس میں بھی اعتدال کی ضرورت ـ ہے چناچہ کتابوں میں لکھا ہے کہ زیادہ باتیں یا زیادہ مزاح مت کرو ـ اس سے وقار جاتا رہتا ہے ـ یعنی اسکا ضروری درجہ جو کہ مصالح کے لئے مطلوب ہے اور خدا داد ہوتا ہے ـ اس لئے اسکی حفاظت ضروری ہے لیکن اسکی حفاظت کسی خاص اہتمام و تکلف پر موقوف نہیں اور زیادہ باتیں کرنے سے مراد فضول گوئی ہے ـ اس سے ظمت پیدا ہوئی ہے قلب سے نورانیت جاتی رہتی ہے ـ دیکھا جاوے کس کو ترجیح دیتا ہے ـ اصل اور قوی تعلق اس سے سمجھا جاویگا ایسا دو سے نہیں ہو سکتا
( ملفوظ 274)عورتوں کے سر منڈانے سے ڈاڑھی نکل آنا
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ فطری چیزوں میں دخل دینا حماقت اور عقلی ہے ـ امریکہ میں عورتوں نے سر منڈانا شروع کیا تو ان کے ڈاڑھی نکلنا شروع ہوگئی ـ تب ڈاکٹروں نے کہا کہ ہم سے غلطی ہوئی ـ واقعی عورتوں کے سر پر بال رہنے میں یہ حکمت ہے کہ اس طرف کے بخارات اس طرف کو نکلتے ہیں ـ وقوع ضرر کے بعد یہ حکمت سمجھ میں آئی ویسے کون ماننے والا ہے ـ
( ملفوظ 273) حضور کی صحبت کا صحابہ کرام پر اثر
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ صحابہ کا تو کمال ہے ہی مگر اصل کمال تو حضور کا ہے کہ آپ کی تھوڑی سی صحبت سے صحابہ کیا سے کیا ہو گئے اور ان کمالات کے ہوتے ہوئے آپ کی شان امیت ایسی ہے جیسے کسی ایسے حسین کی شان کہ اس کے بدن پر نہ تکلف کے کپڑے نہ بناؤسنگار مگر دلربائی کی یہ کیفیت ہو ـ
دلفریباں نباتی ہمہ زیور بستند دلبر ماست کہ باحسن خدا داد آمد
( وہ محبوب مجازی سب بناؤ سنگار کے متاج ہیں ـ ہمارے محبوب کا حسن حسن خدا داد ہے ـ )
( ملفوظ 272) ذوقیات کا بیان کرنا مشکل ہے
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ بعضی چیزیں ایسی ہی ہیں جو بیان میں نہیں آ سکتیں ـ محض وجدانی اور ذوقی ہوتی ہیں اور اس طریق میں زیادہ چیزیں ایسی ہی ہیں جن کے بیان پر قدرت نہیں ـ یہی شان ان حضرات کے کمالات کی ہے کہ نہ انکی تعبیر ہو سکتی نہ نقل اسی کو فرماتے ہیں ـ
نہ ہر کہ چہرہ برا فروخت دلبری داند
نہ ہر کہ آئینہ دارد سکندری داند
ہزار نکتہ بار یکترز مو اینجائیت
نہ ہر کہ سر بتر اشد قلندری داند
( یہ بات نہیں ہے کہ جس نے بناؤ سنگھار کر لیا وہ ادائے معشوقانہ بھی جانتاہو ـ نہ یہ ہے کہ جس کے پاس آئینہ ہو وہ سکندر بھی ہو ـ یہاں راہ سلوک میں ہزاروں نکتے بال سے باریک ہیں ـ صرف سر منڈانے اور درویشوں کا ظاہری لباس پہن لینے سے قلندری کا علم نہیں ہوتا ـ ) اور فرماتے ہیں
شاہد آن نیست کہ موئے و میانے دارد بندہ طلعت آن باش کہ آنے رارد
( حسن کے لئے زلفیں داراز ہونا اور کمر کا پتلی ہونا کافی نہیں اس محبوب کے طلبگار بنو جس میں ادائیں ہو ـ ) اور فرماتے ہیں ـ
گر مصور صورت آں دلستاں خواہد کشید لیک حیرانم کہ نازش را چسپاں خواہد کشید
( مصور اس محبوب کی صورت کی تصویر تو کھینچ دے گا مگر میں حیران ہوں کہ اس کے نازو انداز کی تصویر کس طرح کھینچے گا ـ )
اور وہ ایک کیفیت ہے وہ مقال میں کس طرح آوے گی وہ تو حال ہے ـ
( ملفوظ 271) اسلامی قانون کی خوبی اور حضرت عمر کا کمال عقل
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ایک انگریز جج تھا ـ وہ انگریزی قانون اور اسلامی قانون کا موازنہ کیا کرتا تھا ـ اس کے یہاں ایک مقدمہ آیا ـ ایک شخص نے بیوی کو قتل کیا تھا ـ اور اس کے ایک سات سال کی بچی تھی ورثاء مقتول کا قصاص نہیں لینا چاہتے تھے اور قانون میں یہ معافی جائز نہ تھی ـ سزائے موت ضروری تھی ـ اس پر جج نے کہا کہ یہاں اسلامی قانون کی ضرورت ہے ـ یعنی معافی جائز ہونا چاہیئے ورنہ ماں تو یوں گئی اور باپ یوں گیا ـ تو اب اس کی پرورش کون کرے گا ـ مگر چونکہ قانون حکومت اس کے خلاف تھا ـ اس نے روئداد بدل دی اور اسکو رہا کر دیا ـ اسی موازنہ کے مناسب ایک اور انگریز کا قول یاد آیا ـ اس کے پاس ایک صاحب سرشتہ دار تھے ـ ان سے اس انگریز نے کہا تھا کہ ہماری جماعت میں بڑے بڑے متعدد بیدار مغز کام کے رہے ہیں اور تقریبا ڈیڈھ سو برس حکومت کرتے ہوگئے مگر حضرت عمر رضی اللہ عنہ تیرہ برس میں انتظام کی جس حد تک پہنچے ہماری جماعت نہیں پہنچے ـ انہوں نے کہا اب آپ قائل ہوں گے کہ ان کے ساتھ یہ تائید غیبی تھی ـ اس نے کہا یہ تو آپ کا عقیدہ ہے مگر ہمارے نزدیک اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ عاقل اعلی درجہ کے تھے ـ انہوں نے کہا ہمارے یہاں عقل کے ایسے ہی درجہ کا نام تائید حق ہے اسی عقل کے متعلق سفیر اسلامی نے ہرقل کے دربار میں جب اس نے حضرت عمر کی حالت کے متعلق پوچھا وہ چھوٹے چھوٹے جملے حضرت عمر کی تعریف میں کہے تھے ـ لا یخدع ولا یخدع ( وہ نہ دھوکہ دیتے ہیں نہ دھوکے میں آتے ہیں ) اس سے ہرقل جو کچھ سمجھا وہ بھی قابل تعریف ہے ـ چناچہ اس نے اہل دربار سے کہا کہ تم کچھ سمجھے لا یخدع خلیفہ کے دین کا کامل ہونے کی دلیل ہے ولا یخدع ان کے فراست اور عقل کے کامل ہونے کی دلیل ہے ہے اور جس شخص میں دین اور عقل جمع ہوں گے وہ سارے عالم پر غالب آ کر رہے گا ـ
( ملفوظ 270)کتابوں سے پیدا ہونے والی بزرگی میں غلو ہوتا ہے
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ بزرگی کی دو قسمیں ہیں ـ ایک وہ جو بزرگوں کی صحبت سے حاصل ہوتی ہے اور ایک جو کتب بینی سے مکتسب ہوتی ہے ـ اس دوسری قسم میں اس کی کوئی بات ٹھکانے کی نہیں ہوتی ـ کوئی خاص رنگ پیدا نہیں ہوتا ـ یہ لوگ ہر بات میں غلو کرکے آگے بڑھ جاتے ہیں ـ
( ملفوظ 269)بزرگوں اور امراء کے خدام میں فرق
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ بزرگوں کے خادم واقعی خادم ہوتے ہیں اور امراء کے خادم خادم نہیں ہوتے ـ محض اجیر اور خود غرض ہوتے ہیں ـ بزوگوں کے خادم خواہ بیوقوفی سے کچھ گڑبڑ کر دیں مگر نیت فاسد نہیں ہوتی ـ جو خدمت کرتے ہیں ـ محبت سے کرتے ہیں ـ

You must be logged in to post a comment.