ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ میں تو عورتوں کے اعتراض کرنے والوں میں بھی ایک خوبی ثابت کیا کرتا ہوں اور کہا کرتا ہوں کہ مولویوں کو یہ لوگ مقدس سمجھتے ہیں ـ جب ہی تو تقدس کے خلاف پرواویلا مچاتے ہیں اور مولویوں کا بھی اس میں نفع ہے اس لئے اعتراض ہونا ہی اچھا ہے ـ اسی اعتراض کی وجہ سے مولوی لوگ بچیں گے گو معترضین ک نیت یہ نہیں بلکہ ان کے نذدیک تو خود آجکل مولوی ہونا جرم ہے ـ ان کو مولویوں سے عناد ہے ان سے عداوت کرتے ہیں ڈھونڈ ڈھونڈ کر عیوب چپکاتے ہیں ـ
Author: حبیب اللہ
( ملفوظ 267) عقیقہ میں حدود کی قید مستحب ہے
ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت عقیقہ میں جو لڑکے اور لڑکی کے لئے جانور کی عدد کی قید ہے تو کہا یہ بھی قید ہے کہ لڑکی کہ لئے مونث اور لڑکے کے لئے مذکر ہو فرمایا کہ یہ قید اور عدد کی قید بھی مستحب ہے ـ واجب نہیں ـ
( ملفوظ 266)قصبات میں عورتوں کی عفت
ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ آجکل جہاں جہاں اس جدید تعلیم کا اثر ہو گیا ہے وہاں عورتوں کی حالت بھی بدلنے لگی ہے ـ مگر بحمدللہ ان قصبات میں ابھی تک اکثر حیا شرم والی ہیں ـ بلکہ باہر پھرنے والی بھی اکثر عفیف ہوتی ہیں ـ واقعی اس نواح کی عورتیں حوریں ہیں ـ جن کی شان میں آیا ہے ” فیھن قصرات الطرف ” ( وہ ایسی ہونگی کہ شوہروں کے سوا کسی مرد کی طرف نگاہ نہ اٹھائی ہوگی ) یہاں کی عورتیں بھی ایسی عفیف ہیں ان میں کافی حیاء اور شرم ہے ـ
( ملفوظ 265)عشق عجیب چیز ہے
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اللہ والوں نے بڑا خیال رکھا ہے کہ ایسی جگہ رہیں کہ جہاں ان کو کوئی پہچانے نہیں ـ حیدرآباد کے ایک بزرگ تھے اجمیر میں ناشناسائی کی حالت میں ریاضیات مجاہدات میں لگے رہے اور بارہ برس تک پاخانہ کمایا کسی کوبھی پتہ نہ چلا ـ عشق بھی عجیب چیز ہے کیا کچھ نہیں کرادیتا ـ
ایں چنیں شیخ گدائے کو بہ کو عشق آمدلا ابالی فا تقوا
( ایسا شیخ کامل اور عشق کی بدولت گلی گلی میں فقیر بنا پھرتا ہے ـ عشق میں جوشان استغناء ہے لہذا اس کو کسی کی پرواہ نہیں ـ ذرا ہوشیار رہنا ـ )
اس عشق اور محبت کا ایک واقعہ یاد آیا کہ ایک قاری صاحب تھے ـ ریاست رامپور میں انہوں نے حج کا ارادہ کیا ـ خرچ پاس نہ تھا سفر شروع کیا ـ دن کو روزہ رکھتے ـ پیدل چلتے اور شام جہاں ہوجاتی ٹھر جاتے کچھ چنے ساتھ لے لئے تھے ـ دن کو روزہ رکھتے شام کو ایک مٹھی چنوں سے افطار فرمالیتے غرض اسی طرح بمبئی پہنچ گئے ـ کوئی جہاز تیار ہوا کپتان جہاز سے ملے کہ ہم جدہ جانا چاہتے ہیں اور خرچ ہمارے پاس نہیں ـ ہم کوئی نوکری جہاز میں دیدو ـ اس نے نورانی صورت دیکھ کر سمجھا کہ ان کو ایسی نوکری بتاؤں جس کو یہ قبول ہی نہ کر سکیں ـ کہا کہ بھنگی کی جگہ خالی ہے ـ انہوں نے کہا کہ مجھے منظور ہے اس نے دیکھا یہ تو اس پر آمادہ ہیں تو اور بات گھڑی کہ محض بھنگی ہی کا کام نہیں اس کےساتھ بوجھ بھی اٹھانا پڑتا ہے ـ انہوں نے کہا وہ بھی منظور ہے ـ اس نے کہا کہ اچھا بوجھ اٹھانے میں امتحان دو ایک بورا تھا جس میں اڑھائی تین من وزن تھا کہا کہ اس کو اٹھاؤ انہوں نے اس بورے کے پاس پہنچ کر حق تعالی سے دعا کی کہ یہاں تک تو میرا کام تھا ـ اب آگے آپ کا کام ہے ـ مجھ میں قوت دیدیجئے پس بسم اللہ کہہ کر بورے کو سر سے اونچا اٹھا لیا تب تو کپتان جہاز مجبور ہوا ـ انہوں نے بھنگی کا کام شروع کر دیا ـ شب کے وقت قاری صاحب حسب معمول تہجد پڑھتے ـ ایک روز جہاز کے کنارے پر کھڑے تہجد پڑھ رہے تھے اور اس میں جہر کے ساتھ تلاوت کررہے تھے کہ اتفاق سے وہ انگریز کپتان جہاز اس طرف آ نکلا ـ قرآن شریف بہت ہی عمدہ پڑھتے تھے ـ انگریز کو سن کر بہت اچھا معلوم ہوا ـ قاری صاحب نے جب سلام پھیر دیا تو اس نے پوچھا کہ تم کیا پڑھتے تھے ـ کہا کہ قرآن پوچھا کہ قرآن کس کو کہتے ہیں کہا کہ ایک کتا ہے خدا کا کلام ـ اس نے کہا کہ ہم کو بھی سکھا دو انہوں نے کہا کہ ہر شخص نہیں سیکھ سکتا ـ اس لئے پاک ہونے کی ضرورت ہے ـ اس پر کہا کہ ہم غسل کر لیں گے ـ انہوں نے کہا کہ ظاہری غسل سے کچھ نہیں ہوتا ـ باطنی غسل کی ضرورت ہے ـ کہنے لگا باطنی غسل کیسے ہوتا ہے ـ فرمایا : لا الہ الااللہ محمد رسول اللہ پڑھنے سے ہوتا ہے یہ سن کر کہنے لگا کہ ہم کو سکھلا دو انہوں نے سکھلا دو اور وہ اسکو یاد کرتا پھرتا تھا ـ دوسرے انگریزوں نے اس کی میم سے کہہ دیا ـ میم نے پوچھا کیا تم مسلمان ہو گئے کہا نہیں پھر اس نے قاری صاحب سے کہا کہ کیا ہم کلمہ پڑھنے سے مسلمان ہو گئے ـ انہوں نے فرمایا آج کیا مدت ہوئی اول کچھ گھبرایا ـ اس کے بعد کہا کہ اچھا ہم مسلمان ہی ہوتے ہیں اور میم سے کہہ دیا کہ اگر ہمارا ساتھ دینا ہے تم نے بھی مسلمان ہو جاؤ اس نے انکار کیا ـ آخر جدہ پہنچ کر اپنے نائب کو چارج دے کر خود قاری صاحب کے ساتھ ہو لیا ـ اور خادموں میں داخل ہوکر حج کوچلا گیا ـ تو حضرت یہ عشق وہ چیز ہے کہ اس میں آبرو مال و جان سب کچھ دے بیٹھتا ہےکچھ بھی پروا نہیں کرتا ـ ہم میں اسی کی کمی ہے ـ ورنہ جس کے اندر یہ حالت پیدا ہو جائے اس پر خدا کا بڑا فضل ہے ـ
( ملفوظ 264)اپنی غلطی کی تاویل نہ کرنا سچی محبت کی دلیل ہے
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اگر مرید کو شیخ سے سچی محبت ہو تو کبھی اس کے سامنے اپنی غلطی کی تاویلیں نہیں کر سکتا ـ محبت کا یہی اقتضاء ہے کہ وہ محبوب سے اونچ نیچ نہیں کرتا ایسا کرنا خود علامت ہے ـ عدم محبت کی ـ غزوہ تبوک میں بعض صحابہ شریک نہ ہوئے تھے ـ جس وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لائے تو منافقین نے تو تاویلیں کیں ـ کسی نے کہا بیوی بیمار تھی ـ کسی نے کہا کہ کھیتی پک رہی تھی مگر کعب ابن مالک جس وقت حضور کے سامنے آئے کچھ بھی تاویل نہیں کی اور عرض کیا یا رسول اللہ اگر میں کسی اور بادشاہ کے سامنے ہوتا تو ایسی بات بناتا کہ مجھ پر جرم ثابت نہ ہوتا مگر سچی بات یہ ہے کہ کوئی عزر نہ تھا ـ محض سستی تھی ـ حضور نے فرمایا انہوں نے نے سچ بولا ہے حکم فرمایا کہ کوئی مسلمان اس سے نہ بولے اور دو صحابی اور بھی تھے ـ ان کا بھی یہی معاملہ ہوا ایک صاحب نے حضرت والا سے عرض کیا کہ جب حضرت کعب بن ابن مالک نے سچ بول دیا تھا ـ پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو ان سے بولنے کو کیوں منع فرمادیا ـ فرمایا کہ حضور اپنی طرف سے تھوڑا کچھ کر رہے تھے جو وحی سے حکم ہوتا تھا ـ فرمادیتے تھے نیز پورے طور پر پاک کس طرح ہوتے ـ بعض زخم تو آپریشن ہی سے صاف ہوتا ہے ـ غرض پچاس دن تک اسی حالت میں رہے ـ ایک مسلمان بھی ان سے نہیں بولا بڑا طویل قصہ ہے اس میں یہ بھی ہے کہ کعب ابن مالک فراماتے ہیں کہ مجھ کو اس زمانہ میں بڑی فکر یہ رہی کہ اگر میں حضور کے سامنے مر گیا ـ اسی حات میں تو حضور میرے جنازہ کی نماز نہ پڑھیں گے ـ اور اگر حضور کی میرے سامنے وفات ہوگئی تو پھر مجھے عمر بھر کوئی مسلمان نہیں بولے گا میں ساری عمر یونہی رہا یہ یقین کے ساتھ اتنا جانتے تھے کہ صحابہ اس قدر جان نثار ہیں کہ حضور کی وفات کے بعد بھی حضور کے حکم کے خلاف نہ کریں گے اور آجکل یہ رنگ ہے لوگ اپنے مشائخ کے ساتھ تاویلیں کرتے ہیں ـ جھوٹ بولتے ہیں ـ میرے سامنے اپنی غلطی کی کوئی تاویل کرتا ہے میں تو کہہ دیتا ہوں کہ جب تم میں یہ امراض نہیں تو پھر آئے کیوں اور اصل سبب ان تاویلات کا یہ ہوتا ہے کہ یہ سمجھتے ہیں کہ اگر اس کے سامنے بات کھل گئی یا امراض ظاہر ہو گئے تو اس کی نظر میں ہماری حقارت اور ذلت ہوگی ـ استغفراللہ کیا ایسا شخص کسی کو ذلیل سمجھے گا جو خود ہی اپنے کو سب سے بدتر اور ذلیل سمجھتا ہے ـ اور سب کو معزز سمجھتا ہوفضول اسکے سامنے معزز بننا چاہتے ہیں ـ
( ملفوظ 263) بچوں کی شوخی شرارت محبوب ہوتی ہے
ایک صاحب نے اپنے لڑکے سے کہا جس کی عمر تقریبا سات یا آٹھ سال کی تھی کہ حضرت کو سلام کرو فرمایا کہ ان کا یہی اسلام ہے ـ جس میں یہ خوش رہیں فرمایا کہ اسلام بریاد آیا ـ حضرت مرزا صاحب مظہر جان جاناں رحمہ اللہ نے اپنے ایک مرید سے فرمایا کہ ہم تمہارے لڑکوں کو دیکھنا چاہتے ہیں ـ انہوں نے یہ خیال کیا کہ حضرت ہیں نازک مزاج اور لڑکے ہوتے ہیں شوخ اور شریر ایسا نہ ہو کہ بے ڈھنگا پن کریں اور حضرت کے مزاج کے خلاف ہو اس سے حضرت کو تکلیف پہنچے کوئی بہانہ کر کے ٹال دیا ـ حضرت نے پھر دریافت فرمایا اب یہ سمجھے کہ بدون لڑکوں کے لائے پیچھا نہ چھوٹے گا ـ آخر لائے اور لانے سے پہلے ان کو تعلیم دی کہ دیکھو نیچی نظر کئے بیٹھے رہنا جو بات حضرت پوچھیں جواب دینا کوئی حرکت خلاف متانت نہ کرنا ـ اب آئے تو حضرت نے ان سے خوش مزاجی کی باتیں شروع کیں اب وہ لڑکے ہیں کہ سر نیچا کئے بیٹھے ہیں ـ کچھ حرکت نہیں کرتے حضرت نے بے حد کوشش کی کہ یہ کھلیں مگر ان میں کوئی تغیر نہ ہوا ـ حضرت نے فرمایا میاں تم اپنے لڑکوں کو نہیں لائے ـ عرض کیا کہ حضرت یہ حاضر تو ہیں فرمایا کہ یہ لڑکے ہیں یہ تو تمہارے بھی باوا ہیں ـ لڑکے تو ایسے ہوتے ہیں کہ کوئی ہمارا عمامہ اتار لے جاتا ـ کوئی گود میں چڑھ بیٹھتا کوئی کندھے پر سوار ہو جاتا ہے ـ واقعی یہ حضرات بڑے حکیم اور عادل ہوتے ہیں اس قدر تو نازک مزاج مگر بچوں سے وہی چاہتے تھے جو ان کا زیور ہے ـ شوخی شرارت کیونکہ ان کی تو یہی باتیں محبوب معلوم ہوتی ہیں ـ
( ملفوظ 262) ایک طالبعلم کی طلب سفارش پر نصیحت
ایک طالبعلم نے عرض کیا کہ حضرت مجھ کو مہتمم مدرسہ دیوبند نے ایک غلطی پر مدرسہ سے خارج کر دیا ـ حضرت والا ایک سفارشی خط تحریر فرمادیں کہ وہ مجھ کو مدرسہ میں داخل فرمالیں فرمایا کہ مجھ کو واقعہ کا علم نہیں کہ وہ غلطی کیا ہے جس کی وجہ سے تم کو مدرسہ سے نکالا گیا ـ دوسرے یہ بتاؤ کہ مدرسہ کے قواعد ہی کے ماتحت فرمایا کہ تو اب سفارش کا مطلب یہ ہوگا کہ قواعد کوئی چیز نہیں ـ جس کو جی چاہا خارج کر دیا ـ جس کو جی چاہا داخل کر لیا اور بڑی بات تو یہ ہے کہ واقعہ نہ معلوم ہونے کی وجہ سے یہ معلوم نہیں کہ وہ غلطی ثقیل ہے یا ثقیل نہیں آیا وہ کسی کہ لئے مضر ہے یا مضر نہیں ـ نیز آئندہ احتمال اس غلطی کے ہونے کا ہے یا نہیں ـ اس کو مہتمم مدرسہ ہی سمجھ سکتے ہیں تم ایک عرصہ مدرسہ میں رہ چکے ہو ـ وہ تمہاری حالت سے بخوبی واقف ہیں ـ سفارش کس بنا اور کس اطمنان پر کروں ـ دوسرے یہ کہ میں سفارش کے باب میں بہت محتاط ہوں اگر کوئی کام واجب ہو تب تو سفارش مطلقا جائز ہے ـ باقی مباح میں بھی آجکل میاں سفارش کو جائز نہیں سمجھتا ـ مخاطب پر ایک قسم کا بار ڈالنا ہے جو شرعا بھی جائز نہیں ـ البتہ اگر ایسی سفارش ہو کہ یقین ہو کر مخاطب بالکل از درہیگا چاہے عمل کرے یا نہ کرے یہ شفاش بے شک جائز ہے اور یہ سفارش حقیقت میں مشورہ کی ایک فرع ہے ـ باقی جس سفارش میں یہ احتمال بھی ہو کہ مخاطب خلاف نہ کر سکے گا ـ ایسی سفارش کرنا گویا کہ تنگ کرنا ہے ـ اسکو میں شرعا جائز نہیں سمجھتا ـ پھر ان طالب علم کی طرف حضرت والا متوجہ ہو کر نہایت شفقت آمیز لہجہ میں فرمایا کہ میں ایک بات بتلاتا ہوں ـ محض تمہاری ہمدردی اور خیر خواہی کی بناء پر وہ یہ کہ سفارش کا تو اکثر اثر بھی اچھا نہیں ہوتا ـ سب سے بہتر یہ ہے کہ تم خود جا کر ہاتھ پاؤں جوڑ کر معافی چاہو اس سے اکثر اوقات اچھا اثر ہوتا ہے ـ دل پگھل جاتا ہے اور سفارش پر اگر داخل ہو بھی گئے اور پھر کوئی نہ کوئی بات ہوگئی تو سفارش کرنے والے پر بھی الزام کہ صاحب ایسے شخص کی سفارش کی پھر کہاں سے سفارش لاؤگے ـ اور یہ ایسی چیز ہے کہ ہر وقت اپنے پاس ہے فورا معافی چاہ لی جاؤ یہی کرو انشاءاللہ تعالٰی اثر اچھا ہوگا ـ اور میں دعا بھی کرتا ہوں ـ
13 محرم الحرام 1351 ھ مجلس بعد نماز جمعہ
( ملفوظ 261)شمشیر و سناں اول
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ مسلمانوں کی اصلی کام نہ زراعت ہے نہ تجارت ہے ان کا کام تو شمشیر زنی ہے اور تجارت وغیرہ کے کام تو ہندوؤں کے ہیں ـ ایک صاحب نے بیان کیا کہ مسلمان ڈنڈی نہیں اٹھا سکتے ـ ان کا کام حکومت تھا ـ اگر کہیں مقابلہ کا مقابلہ ہو یا پولیس اور فوج میں بھرتی کی ضرورت ہو یہ کام ان کا ہے اور ڈنڈی اٹھانے کا کام ہندوؤں کا فرمایا کہ اس کا ایک راز ہے وہ فطری مناسبت اسی چیز سے ہوتی ہے جو آباء اجداد کا پیشہ ہو ـ چناچہ مسلمانوں میں بھی بعض ایسی نو مسلم قومیں ہیں جن کا آبائی پیشہ تجارت ہے ان کو اصول تجارت خوب یاد ہیں قریب قریب تمام قوم متمول ہے ـ
( ملفوظ 260)قبول ہدیہ سے انکار
ایک صاحب نے پرچہ کے ذریعہ سے حضرت والا سے درخواست کی کہ میرا جی چاہتا ہے پنچ روپیہ پیش کرنے کو ان صاحب نے بھی بذریعہ خط حاضری کی اجازت چاہی تھی ـ اور اس ہی شرط پر اجازت ملی تھی کہ یہاں پر آکر مجلس میں خاموش بیٹھے رہو ـ مکاتبت مخاطبت نہ کروـ اور ان کی تعلیم حضرت والا کے ایک اجازت یافتہ صاحب کے سپرد تھی ـ اس پر حضرت والا نے مواخزہ فرمایا کہ مکاتبت مخاطبت کی اجازت نہ تھی ـ تو یہ پرچہ لکھنا مکاتبت مخاطبت میں داخل نہیں ہے اور کیا یہ صریح امر کی مخالفت نہیں ہے ـ عرض کیا کہ میں یہ سمجھتا تھا کہ اصلاح کے متعلق مکاتبت مخاطبت کی اجازت نہیں ـ فرمایا کہ یہ تم نے کیسے سمجھ لیا اور یہ اجتہاد کیسے کر لیا ـ نیز اصلاح تو دین ہے اور روپیہ دینا دنیا ہے تو جب دین ہی کے لئے اجازت نہ تھی مکاتبت مخاطبت کی تو دنیا کے لئے تو کیسے ہو سکتی ہے ـ کیا مجھ کو آپ نے بے حس ، بے غیرت ، بے شرم ، بے حیا ، سمجھا ہے ـ دوسری تکلیف مجھ کو یہ ہوئی کہ میں نے آپکو مکاتبت مخاطبت کی بھی اجازت نہ دی اور آپ مجھ کو روپیہ دیں تو کیا مجھ کو غیرت نہ آئے گی کہ ایک شخص تو میرے ساتھ ایسا برتاؤ کر رہا ہے اور میں اسکے ساتھ ایسا برتاؤ کر رہا ہوں ـ تیسرے محسن کا خواہ مخواہ قلب پر اثر ہوتا ہے تو میں آزادی سے تمھاری اصلاح لئے نہیں کر سکتا اس وقت تم نے مجھ کو سخت تکلیف پہنچائی ـ بے حد دل دکھایا تمھارے نفس کا کید ہے ـ تم یہ سمجھے کہ روپیہ لیکر نرم ہو جائے گا ـ مراعات کرے گا اور یہ حقیقت بھی ہے کہ محسن کے ساتھ دل چاہتا ہے کہ ہماری طرف سے بھی کوئی ایسی بات ہو کہ جس سے اسکا دل خوش ہو ـ غرض تم نے کئی طرح کی تکلیف دی ـ ایسی حالت میں تمہارا روپیہ لینا کیا بے غیرتی اور بے حیائی نہیں ہے ـ
( ملفوظ 259)اصلاح ضروری ہے بیعت ضروری نہیں
ایک نو وارد صاحب نے حضرت والا سے بیعت کی درخواست کی مگر حضرت والا کہ دریافت فرمانے پر بھی نہ اپنا پورا تعارف کرایا ـ نہ ضروری سوالات جا جواب دیا ـ اس پر حضور والا نے مواخزہ فرماتے ہوئے فرمایا کہ جس چیز کو انسان سمجھے گا نہیں ـ اس کی طلب کی کیا خاک کرے گا ـ سب سے پہلے طریق کی حقیقت کو سمجھ لینے کی ضرورت ہے تب آگے بڑھے میرے یہاں مرید ہونے میں اس واسطے دیر لگتی ہے کہ میں یہ چاہتا ہوں کہ پہلے مطلوب کی حقیقت سے باخبر ہو جائے ـ حقیقت سمجھ لینے کے بعد پھر مریدی کا مضائقہ نہیں مگر لوگ اسکو ٹالنا سمجھتے ہیں ـ اور بدون کسی چیز کے سمجھے ہوئے اور حقیقت معلوم کئے ہوئے اس میں قدم رکھنا نہایت غلطی ہے محض مرید ہونا کافی نہیں بلکہ اس کی تو ضرورت ہی نہیں ـ اصل ضرورت تو کام کرنے کی ہے اور وہ بلا مرید ہوئے بھی ہو سکتا ہے اور اس میں وہی نفع ہوتا ہے ـ جو مرید ہوجانے کے بعد کام کرنے سے ہوتا ہے ـ معلوم نہیں لوگ بیعت پر اسقدر اصرار کیوں کرتے ہیں یہ تو محض رسم ہی رسم ہے ـ اصل چیز کام کرنا ہے اور اگر محض برکت سمجھتے ہیں تو قرآن پاک کی تلاوت میں نفلیں پڑھنے میں اس سے زیادہ برکت ہے اس کو اختیار کریں یہاں پر تو کام کرنے والوں کی کھیت ہے ویسے ہی جمع کر کے فوج تھوڑا ہی بھرتی کرنا ہے یا محض نام کرنا تھوڑا ہی مقصود ہے کہ ہمارے اسقدر مرید ہیں اور اگر کسی کو محض ہو یہ ہی مقصود ہے تو ایسے پیر بھی بکثرت ہیں ـ انکے یہاں رجسٹر بنے ہوئے ہیں ـ مریدوں کے نام مع نشان درج کئے جاتے ہیں ـ جاؤ وہاں کسی قسم کی روک ٹوک بھی نہیں ـ خواہ مرید کے کیسے ہی افعال ہوں ـ صرف اس کی ضرورت ہے کہ ششماہی یا سالانہ فیس ادا کردو اور جب تک پیر کے پاس رہو دونوں وقت لنگر میں کھانا کھاؤ اور یہ لنگربازی بھی ایسی جگہ ہوتی ہے ـ جہاں اس قسم کی رسمی آمدنی ہو ـ ہم بیچارے غریب آدمی ہمارے یہاں رسمی آمدنی کہاں ـ ہم کو تو اگر دیتا بھی ہے تو اس میں سوفی نکالی جاتی ہیں کوئی ہفتہ اس سے خالی جاتا ہوگا کہ ایک دو منی آڑو واپس نہ ہوتا ہو ـ میں اپنے آپ کو مستثنی نہیں کہتا مگر ہاں اتنا ضرور ہے کہ بے طریقہ اور بے اصول اگر کوئی دیتا ہے لیتے ہوئے غیرت آتی ہے ـ اگر کسی کو دینا ہو طریقہ سے دے لینے سے انکار نہیں یہ ہیں وہ باتیں جن کی وجہ سے میں سخت مشہور ہوں ـ اور بدنام ہوں ـ خیر بدنام کیا کریں میری جوتی سے کیا میں نہیں سمجھتا کہ اس طرز معمول میں میری آمدنی کا نقصان ہے ـ میں کوئی دیوانہ تھوڑی ہی ہوں کہ میں اپنا نقصان چاہوں مگر لعنت ہے اس نفع پر کہ طالب تو جہل میں مبتلا رہے اور میں رقمیں اینٹھا کروں ـ میرے اس طرز سے میرے دو نقصان ہیں ـ ایک مال کا اور ایک جاہ کا ـ مال کا تو یہ نقصان کہ وہ لوگ پھر نہ دیں گے اور جاہ کا یہ نقصان کہ لوگ غیر معتقد ہو جائیں گے ـ مگر بلا سے غیر معتقد ہوجائیں ـ میں اپنے طرز کو نہیں بدل سکتا ـ اور متعارف اخلاقی مجھ سے نہیں اختیار کئے جاتے یہ طرز کسی کو نہ پسند ہے ـ یہاں نہ آوئے اور اگر آتا ہے تو جس طرح ہم کہیں گے چلنا پڑیگا ـ اتباع کرنا پڑیگا ـ لوگ چاہتے ہیں کہ مرید کر کے یونہی آزاد چھوڑ دو ـ جیسے ہندو سانڈھ چھوڑ دیتے ہیں ـ میں بد اخلاق ہوں ـ مگر دوسروں کے اخلاق کو درست کر دیتا ہوں ـ پھر اسکی رفتار سے گفتار سے نشست برخاست سے ہاتھ سے پاؤں سے زباں سے کسی کو تکلیف نہیں پہنچ سکتی ـ ایک پکے اور سچے مسلمان کی جو شان ہوتی ہے الحمدللہ وہ اسکے اندر پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہوں ـ مگر آجکل لوگوں نے بزرگی کا انحصار صرف تسبیح میں نفلوں میں ٹخنوں سے اونچے پا جامہ میں گھٹنوں سے نیچے کرتہ میں کر رکھا ہے ـ خواہ کتنا ہی گندہ ہو جس کو ایک بزرگ فرماتے ہیں ـ
سبحہ برکیف توبہ برلب پر از ذوق گناہ معصیت را خندہ می آید بر استضفار ما
( ہاتھ میں تسبیح زبان سے توبہ توبہ ـ اور دل گناہ کے لطف سے بھرا ہوا ہو ـ تو گناہ کو بھی ہماری استغفار پر ہنسی آتی ہے ـ )
اور دوسرے بزرگ فرماتے ہیں ـ
از برون چوں گور کافر پر حلل واندروں قہر خدائے عزوجل
از برون طعنہ زنی بر بایزید وز درونت ننگ دارد یزید
ظاہری حالت تو ایسی ـ جیسے کافر کی گور پر پرتکلف غلاف ہوں ـ اور باطنی حالات ایسے جو خدائے عزوجل کے قہر کے موجب ہیں ـ ظاہری حالت تو ایسی کہ حضرت بایزید بسطامی پر بھی طعنہ کرتے ہو کہ وہ بھی ایسے نہ تھے جیسے ہم ہیں اور تمہارے باطنی حالات ایسے ہیں ـ یزید بھی شرما جاوے کہ اتنا شوقی تو میں بھی نہیں ـ
حضرت اصلاح تو اصلاح کے طریقہ سے ہی ہوتی ہے اب لوگ یہ چاہتے ہیں کہ جو حساب ہم گھر سے لگا کر چلے ہیں ـ اس میں فرق نہ آئے ـ اسکا تو صاف مطلب یہ ہوا کہ کہ دوسرا ہمارے تابع رہے ـ ہم کسی کا اتباع نہ کرنا پڑے تو پھر گھر سے لانے کی تکلیف ہی کیوں گوارا فرمائی ـ گھر پر رہتے آزاد رہتے تو بلانے تو نہ گیا تھا کیا میرید ہونا کوئی پالا چھونا ہے ـ نام ہو جائے گا کہ ہم بھی مرید ہو گئے ـ اس سلسلہ میں بکثرت لوگ آتے ہیں خطوط بھی آتے ہیں مگر سب کے سب اس جہل عظیم میں مبتلا ہیں کہ مرید کرلو اور عجیب بات یہ ہے کہ اگر میں مقصود کا طریقہ بتلاتا ہوں تو اس میں بھی باتیں بنا کر اینچ پینچ لگا کر پھر نتیجہ میں وہی بیعت کرے ـ بیعت کوئی فرض ہے ـ واجب ہے جو اس قدر اصرار ہے ـ اسی وجہ سے میں نے اب یہ قید لگائی ہے کہ اگر یہاں آؤ تو مکاتبت مخاطبت بھی نہ کرو خاموش بیٹھے باتیں سنا کرو تاکہ طریق کی حقیقت تو تم کو معلوم ہو جائے مگر بعضے ذہین ہیں کہ خاموش بیٹھے رہنے کی شرط پر آتے ہیں مگر پھر گڑبڑ کرتے ہیں ـ میں تو کہا کرتا ہوں یا تو لوگوں میں فہم کا قہط ہے یا مجھ کو عقل کا ھیضہ مگر ہر حال میں قحط زدہ اور ہیضہ زدہ میں مناسبت نہیں ہو سکتی لہذا ایسوں سے کہہ دیتا ہوں کہ کہیں اور جا کر تعلق پیدا کر لو مجھ سے تم کو مناسبت نہیں اور یہ طریق ایسا نازک ہے کہ بلا مناسبت نفع نہیں ہو سکتا ـ ایسی کھلی حقیقت پر بھی اگر کوئی برا بھلا کہے تو کہا کرے مجھ سے کسی کی غلامی نہیں ہوتی اگر کسی کو مجھ سے تعلق رکھنا ہے تو اس کو اس کا مصداق بننا چاہیئے ـ
یا مکن با پیلبا ناں دوستی یا بنا کن خانہ برانداز پیل
یا مکش پر چہرہ نیل عاشقی یا فرد شو جامہ تقوی نہ نیل
( یا تو فیلبان سے دوستی مت کرو یا پھر ایسا بناؤ جس میں ہاتھی آسکے اور یا تو چہرہ پر عاشقی کی علامت مت ظاہر کرو ـ اور اگر کرتے ہو تو جامہ تقوی کو دریائے نیل میں دھولو کہ عاشقی کے ساتھ تقوی کہاں رہ سکتا ہے ـ

You must be logged in to post a comment.