(ملفوظ 258) ایک گائے کے آٹھ حصے

فرمایا کہ ایک بڑے تماشہ کا خط آیا ہے ـ لکھا ہے کہ ایک گائے قربانی کے لئے خریدی تھی اس میں آٹھ حصہ دار ہوگئے تھے ـ جب ذبح کر چکے تب معلوم ہوا کہ آٹھ حصہ دار ہیں تو کیا اگر اب ایک کو الگ کر دیں تو قربانی صحیح ہو جائے گی یا نہیں ـ اس پر فرمایا کہ اس الگ کردینے پر یاد آیا کہ ایک شخص نماز میں ایک ٹانگ الگ اٹھا ئے ہوئے نماز پڑھ رہا تھا جب نماز ختم کر چکا کسی نے پوچھا کہ میاں یہ ٹانگ الگ کئے ہوئے نماز کیوں پڑھ رہے تھے ـ کہتا ہے کہ اس ٹانگ میں نجاست لگی تھی اور نماز کا وقت تھا تنگ دھوسکا نہیں ـ اس وجہ سے اسکو نماز سے الگ کردیا ـ قربانی کے بعد ان کا اٹھواں حصہ دار کو الگ کر دینا بھی ایسا ہی ہوگا ـ لوگوں میں فہم اور عقل کا تو بالکل نام و نشان نہیں رہا ـ
12 محرم الحرام 1351 ھ مجلس بعد نماز ظہر یوم پنجشنبہ

( ملفوظ 257) آمدنی اختیار میں نہیں مگر خرچ اختیار میں ہے

فرمایا کہ ایک مہتمم مدرسہ کا خط آیا ہے لکھا ہے کہ خرچ مدرسہ کا بڑھا ہوا ہے اور آمدنی ہے نہیں سخت پریشانی ہے فرمایا میں تو ہمیشہ کہا کرتا ہوں کہ اسکی وحی تو ہوئی نہیں کہ فلاں خاص پیمانہ پر ہو مدرسہ کہلائیگا ورنہ نہیں ـ ارے بھائی کام کم کردو خرچ خود کم کو جائے گا ـ اور اگر بالکل بھی آمدنی نہ ہو مدرسہ بند کردو کوئی فرض نہیں واجب نہیں اور ظاہر ہے کہ آمدنی کا ہونا تو اختیاری بات نہیں مگر خرچ کا کم کر دینا اختیاری بات ہے ـ ایک رئیس تھے میرٹھ میں انہوں نے بڑے کام کی بات کہی تھی کہ لوگ عموما آمدنی بڑھانے کی فکر کرتے ہیں جو غیر اختیاری ہے خرچ گھٹانے کی فکر نہیں کرتے ـ جو اختیاری ہے واقعی بڑے کام کی بات کہی ـ اکثر دنیا داروں کو تو ایسی حکمت کی باتیں سوجھتی بھی ہے ان کو تو اپنے تنغم اور عیش ہی سے فرصت نہیں ملتی ـ

( ملفوظ 256) غیروں میں شادی کرنے کا نقصان

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ لڑکی کا معاملہ بڑا نازک ہے ـ بڑے بڑے عالی دماغ اور آزاد لوگ اس معاملہ میں مغلوب ہو جاتے ہیں ـ محض اپنی لڑکی کے خیال کی وجہ سے بعض اوقات ذلت گوارا کرنی پڑتی ہے ـ یہ ایسا نازک تعلق ہے کہ کچھ بنائے نہیں بنتا پہلے بزرگ جو غیر خاندان میں تعلق نہیں کرتے تھے اس کا منشاء کبر نہ تھا ـ بلکہ واقعات کی بنا پر ایسا کرتے تھے اس میں بڑی مصلحت تھی کہ غیروں کا حال زیادہ نہیں معلوم ہوتا ـ اب تجربہ سے معلوم ہوتا ہے کہ بالکل صحیح رائے تھی ـ

( ملفوظ 255) محبیبن مال ظاہرا متقی ہوتے ہیں

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ محبین مال اکثر ظاہری متقی ہوتے ہیں ـ اس لئے کہ معصیت میں روپیہ صرف ہوتا ہے اور یہ ان سے ہو نہیں سکتا ـ

( ملفوظ 254) ظاہری تقوی سے دھوکہ نہ کھانا چاہیئے

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ کسی کا ظاہری تقوی طہارت دیکھ کر دھوکہ نہ کھانا چاہیئے جبتک اس سے معاملہ نہ پڑا ہو بدون اس کے کیا خبر ہے کہ کیا حالت ہے حضرت عمر نے حاضرین سے سوال کیا کہ کوئی اس کو جانتا ہے ـ ایک شخص نے عرض کیا کہ میں جانتا ہوں ـ نیک ہے دریافت فرمایا کہ کبھی سفر میں تمھارا اس کا ساتھ ہوا ہے کہا نہیں فرمایا کہ کبھی اس سے دوستد کا معاملہ ہوا ہے عرض کیا نہیں فرمایا کہ کبھی اس کے پڑوس رہے ہو کہا نہیں بس معلوم ہوتا ہے کہ تم نے اسے مسجد سے نکلتے دیکھ لیا ہوگا ـ عرض کیا جی فرمایا تو تم نہیں جانتے ـ

( ملفوظ 253) ہندو مسلم اتحاد کی شرائط

ایک مولوی صاحب نے سوال کیا کہ حضرت اگر ہندو مسلمان باہم حاکم محکوم نہ ہوں ـ بلکہ باہم مساوات ہوتو اس وقت مل کر ہندوؤں کے ساتھ کام کر سکتے ہیں ـ فرمایا قواعد سے تو گنجائش معلوم ہوتی ہے مگر اس وقت تجربہ کی بنا پر یہ دیکھا جائیگا کہ اشتراک میں نفع کس کو ہوگا اور ضرر کس کا ـ سو یہ تجربہ یہی کہہ رہا ہے کہ اگر صرف ہندو مسلمان کے ہاتھ میں حکومت آجائے اور تیسری قوم کے بے دخل ہو جانے میں کامیابی بھی ہو جائے تب بھی وہ حکومت ہندوؤں کی ہوگی ـ مسلمانوں کی نہ ہوگی ـ ایک تو ترکیب کی خاصیت سے دوسرے ان کی اکثریت کی وجہ سے تیسرے ان کے طبائع کی حالت پر نظر کر کے اور عقلی طور پر بھی مقصود حکومت عادلہ آمنہ ہے اور ہندو مسلمانوں کے اشتراک میں یہ احتمال ہی نہیں کہ عدل ہو ، امن جیسا کہ ہندوؤں کی کارگزاریوں سے اس وقت ظاہر ہے کہ وہ مسلمانوں کیو ہندستان سے مٹانا چاہتے ہیں یہ اپنے اس دلی مزاق سے باز نہ آئیں گے ـ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ فساد اور خونریزی ہوگی اور جو مقصود ہے حکومت سے وہ حاصل نہ ہو گا ـ اسی بناء پر میں نے تحریکات کے زمانہ میں ایک مولوی صاحب سے کہاتھا کہ اول تو کامیابی موہوم اور اگر ہوئی بھی تو ہندوؤں کی ہوگی ـ اگر مسلمانوں کو بھی ہوئی تو تم جیسے مسلمانوں کی نہ ہوگی ـ غور کرو کہ وہ کامیاب کس قسم کے مسلمان ہوں گے ـ بددین ملحد فرعون ہامان پھر دیکھنا تمہاری کیا گت بنتی ہے ـ
11 محرم الحرام 1351 ھ مجلس بعد نماز ظہر یوم چہار شنبہ

( ملفوظ 252)چشتیہ کے یہاں فنا اول قدم ہے

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ طریق میں اصل چیز تو یہ ہے کہ قلب کا حق تعالی کے ساتھ صحیح تعلق ہو جائے باقی اورسب چیزیں اس کے تابع ہیں اور یہ پیدا ہوتا ہے اس وقت جب شیخ کامل کی تعلم پر بے چون و چرا عمل کرے ـ شیخ اسی چیز کے پیدا کرنے کے لئے جس کے لئے جو مناسب سمجھتا ہے تعلیم کرتا ہے ـ اقویا کے لئے اور تجویز ہوتی ہے ـ ضعفاء کے لئے اور جیسا جس کے لئے تجویز کر دے اس کو چاہیئے کہ وہ اسی میں اپنی مصلحت سمجھے اصل چیز تو وہی ہے کہ جس کو میں ابھی کہہ چکا ہوں کہ قلب کا صحیح تعلق حق تعالی کے ساتھ ہو جائے ـ بس یہی طریق ہے باقی سب کچھ اسی کے پیدا کرنے کی تدابیر ہیں ـ
11 محرم الحرام 1351 ھ مجلس خاص بوقت صبح یوم چہار شنبہ

( ملفوظ 251)اعلاء السنن کا کام

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ بفضلہ تعالی دین کا بعض کام جو یہاں پر ہوا ہے وہ بڑی جگہوں میں بھی نہیں ہوا ـ امام صاحب کے مذہب کی تائید میں حدیثیں جمع کی گئیں اس سلسلہ کا نام اعلاءالسنن ہے ـ ان احادیث پر نظر نہ ہونے سے غیر مقلدوں کو تو شبہ تھا ہی مگر بعض حنفیوں کو بھی شبہ ہو گیا تھا کہ امام صاحب کا مذہب قرآن و حدیث کے مطابق نہیں ـ الحمدللہ کہ کتاب مذکور کے تدوین سے یہ ظاہر ہو گیا کہ کوئی مسئلہ بھی امام صاحب کا قرآن و حدیث کے خلاف نہیں گو اس میں بہت وقت اور بہت کچھ روپیہ صرف ہوا مگر حق تعالی کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ انہوں نے اپنے فضل و کرم سے اس کام کو انجام کو پہنچایا ـ الحمدللہ

( ملفوظ 250) تصوف آسان ، فقہ مشکل

ایک استفتاء کا جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ میں سب علوم سے زیادہ آسان تصوف کو سمجھتا ہوں اور سب سے زیادہ مشکل فقہ کو ـ

( ملفوظ 249)اہل اللہ کی عقل کامل ہوتی ہے

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آج کل ہر طبقہ میں ایک عجیب ہڑبونگ مچا ہوا ہے ـ رودلی میں عین مسجد کے اندر سماع ہوتا ہے اس کی اصل یہ سنی ہے کہ حضرت شیخ عبدالحق کو ایک مرتبہ اتفاقا عین حالت سماع میں وجد کا غلبہ ہوگیا اور وہ اس حالت میں اٹھ کر مسجد کے اندر چلے گئے تھے اور ساتھ ساتھ قوال بھی چلے گئے ـ مگر وہ تو مغلوب تھے اور یہ لوگ محفل نقل کرتے ہیں ـ اب اسی ترتیب سے مجلس ہوتی ہے یعنی سماع شروع ہوتا ہے مسجد کے باہر اور درمیان میں اٹھ کر مسجد میں جاتے ہیں اور ڈھولک سارنگی مسجد میں بجتی ہے ـ ان نقالوں سے کوئی یہ بھی پوچھے کہ کیا حضرت شیخ بھی ڈھولک سارنگی سے سماع سنتے تھے ـ یہ خوب تحقیق ہوگیا ہے کہ حضرات اہل سماع نے معازف مزامیر کبھی نہیں سنے اسی طرح ایک مسجد کے باہر سماع ہورہا تھا ـ ڈھولک سارنگی بج رہی تھی ـ نماز کا وقت آگیا ـ باجہ والے نماز کے لئے تو آلات کو بھی مسجد میں لے گئے ـ ایک صاحب نے اعتراض کیا ـ میں مسجد میں آلات معصیت ان اہل سماع میں ایک مولوی صاحب بھی تھے وہ جواب میں کیا کہتے ہیں کہ آپ بھی تو آلات زنا لئے ہوئے مسجد میں آئے ہیں ـ کیا بیہودہ جواب ہے ـ جس چیز کو انہوں نے آلہ معصیت کیا ہے وہ آلہ معصیت کہاں ہے آلہ معصیت تو وہ چیز ہے جو وضع کیا جاوے معصیت کے واسطے اور یہ معصیت کے لئے وضع کیا گیا یہ تو ایک حلال ضرورت کے لئے وضع کیا گیا ہے ـ یوں کوئی سوراستعمال معصیت کا ذریعہ بنالے تو اس سے وہ آلہ معصیت تھوڑا ہی ہوگیا ـ بخلاف آلات غناء کے کہ وہ تو موضوع ہی ہوئے ہیں ـ معصیت کے لئے دوسرا فرق یہ ہے کہ اس میں تو ضرورت ہے اس کو کیسے کر سکتا ہے ـ تیسرے اپنے معدن میں ہے ـ معدن میں ہونا ایسا مؤثر ہے کہ جو چیز معدن میں ہے اس پر نجاست کا حکم نہیں ـ کیا جاتا مثلا پیشاب ہے ، پاخانہ ہے کس کے اندر نہیں مگر اسپر نجاست کا حکم نہیں اس لئے کہ وہ اپنے معدن میں ہے ـ