ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ایک صاحب نے سیرت نبویہ لکھی ہے ـ اس میں لکھا ہے کہ انبیاء علیہم السلام کی کامیابی کا بڑا راز یہ ہے کہ ان میں استقلال تھا اور اسکی زندہ نظیر گاندی موجود ہے استغفراللہ نعوذ باللہ سیرت پر کتاب اور ایک مکذب توحید و رسالت سے تشبیہ کیا ـ آفت ہے نہ معلوم کتنے مسلمانوں نے دیکھا ہوگا اور گمراہی میں پھنسے ہوں گے ـ میرے پاس بھی وہ کتاب بھیجی گئی تھی میں نے واپس کے کے لکھ دیا کہ ایسی کتاب کو اپنے پاس رکھنا نہیں چاہتا ہوں ـ کہ جس میں روح سیرت یعنی نبوت کے مکذب کی مدح ہو ـ اس کو جواب آیا کہ یہ زمانہ جاہلیت میں مجھ سے ایسی حرکت صادر ہوئی اب آتے جاتے ہیں ـ اپنے پہلے زمانہ کو جاہلیت سے تعبیر کیا ـ یہ سب جدید تعلم یا صحبت کا اثر ہے ـ اس پر کہتے ہیں کہ یہ لوگ اس کو نئی روشنی کہتے ہیں ـ جس میں ہزاروں ظلمتیں بھری ہیں ـ
Author: حبیب اللہ
( ملفوظ 247)حضور کے چند لفظی لطائف
ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت اکثر کئی کئی مرتبہ گزرنے کا اتفاق ہوتا ہے مگر پھر بھی راستہ یاد نہیں ہوتا بھول جاتا ہوں فرمایا کہ بات تو میرے اندر بھی ہے میاں راستی یاد رہے راستہ یاد رہے نہ رہے اس میں کیا رکھا ہے ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت کے لطائف بھی بڑے معنی خیز اور نصیحت آمیز ہوتے ہیں ـ ایک مولوی صاحب مجھ سے فرماتے تھے کہ حضرت والا کے لطائف ہی کا مجموعہ جمع کر لیا جائے تو اسی میں سب کچھ ہے مثلا ایک صاحب سے تحریکات کے متعلق سلسلہ گفتگو میں آپ نے فرمایا تھا کہ اگر محض کاغزی امیرالمؤمنین بن جاؤں تو نتیجہ یہ ہو کہ آج امیرالمومنین ہوں اور کل کو اسیر الکافرین بن جاؤں اس پر حضرت والا نے فرمایا کہ ایک صاحب یہ واقعہ بیان کرتے تھے کہ خورجہ میں ایک مولوی صاحب کو یہ ہی الفاظ پہنچائے گئے تو سن کر ان پر ایک وجد کی سی کیفیت ہو گئی اور ایک گھنٹہ تک اس کی شرح بیان کرتے رہے کہ بدون کامل قدرت کے اگر آج امیرالمومنین ہوگئے تو کل اسیرالکافرین ہو جائیں گے ـ میں نے یہ واقعہ سن کر اس سے تو مجھ کو بھی استیاق ہو گیا ـ سننے کا وہ شرح کیا ہوگی جو ایک گھنٹہ تک بیان کی گئی ہے میں نے تو محض ایک لطیفہ کے طریق پر شاعری کے انداز پر بیان کر دیا تھا ـ ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت والا نے ایک ایسے ہی موقع پر بھی تو فرمایا تھا کہ آج سردار ہیں اور کل سردار ہونگے ـ فرمایا کہ یہ بھی اسی کا ترجمہ ہے ـ
10 محرم الحرام 1351 ھ مجلس بعد نماز ظہر یوم سہ شنبہ
( ملفوظ 246)آداب المصلح یعنی شیخ کے آداب
ملقب بہ آداب المصلح ) ایک نو وارد صاحب نے جو اصلاح کی غرض سے آئے تھے اور جن کا تھانہ بھون کی حاضری کا پہلا ہی موقع تھا ـ حضرت والا سے ایک فقہی مسئلہ پوچھا ـ اس پر حضرت والا نے فرمایا کہ آجکل مصلح باطن سے مسائل فقہی پوچھنے والوں کو باطنی نفع نہیں ہوتا ـ تجربہ سے اس کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ یہ لوگ بس ان ہی تحقیقات میں رہ جاتے ہیں ـ اصلاح کے متعلق اہتمام کی نوبت ہی نہیں آتی ـ میں خیر خواہی سے عرض کرتا ہوں کہ ان مسائل کی تحقیق کے لئے تو اور بہت جگہ ہیں اور یہاں سے اچھا کام ہو رہا ہے ـ دیوبند ہے ، سہارنپور ہے اور کیا آپ نے یہ سفر مسائل فقہی پوچھنے کے لئے تھا ـ عرض کیا نہیں پھر کیوں بیٹھے بیٹھے جوش اٹھا خاموش نہیں رہا جاتا کیا خاموشی سے پیٹ میں درد ہوتا ہے ـ کیا خاموش رہنا جرم ہے یا اس سے شان میں بٹا لگتا ہے ـ یوں کہئے کہ بک بک کرنے کی باتیں بنانے کی عادتیں پڑی ہوئی ہیں ـ اور یہ بتلایئے کہ اگر آپ نے یہاں آنے کی اجازت لی ہے ـ عرض کیا کہ اس کی اجازت نہیں لی پھر کیوں مخالفت کی پھر جب شروع میں ہی مخالفت کرنا شروع کردی تو آئندہ کا تو اللہ ہی حافظ ہے ـ جس بدفہمی کا کوئی علاج ہے ـ ایک صریح بات اور اس پر عمل نہیں ـ اس ہی ضرورت سے میں اس قسم کی شرطیں لگاتا ہوں ، سمجھتا ہوں کہ فہم کا قحط ہے مگر پھر بھی اپنا ہنر ظاہر کیے بغیر نہیں رہتے اگر ایسا ہی فقہی مسائل کی تحقیق کرنا ہے اور فن کو مدون کرنا ہے ـ ( کیونکہ اکثر سوالات غیر ضروری ہوتے ہیں ) تو میں کہہ چکا ہوں یہ کام اور جگہ یہاں سے اچھا ہو رہا ہے مثلا دیوبند ہے ، سہارنپور ہے وہاں جایئے بلکہ اور لوہار کے یہاں سونا چاندی نہیں لے جاتا اگرچہ وہ دونوں ہی کام جانتا ہو مگر پھر بھی کام وہی لیا جاتا ہے ـ جس کو عادۃ کر رہا ہے ـ افسوس طریق مٹ ہی گیا یہ طریق کے آداب میں سے ہے کہ مصلح سے دوسرے کام نہ لیا جاوے ـ اب یہ کہا جائیگا کہ صاحب ایک مسئلہ پوچھا تھا ـ دین کی بات کی تھی ـ اس پر اسقدر گرفت اگر مسئلہ پوچھنا دین ہے تو جو میں بتلا رہا ہوں ـ یہ بھی دین ہی ہے ـ دوسرے آپ نے اس لئے سفر نہیں کیا اور جس غرض سے سفر کیا ہے اسکا نام و نشان بھی نہیں ـ اسکا جواب یہ ہے کہ جن لوگوں سے پہلے بے تکلفی ہے اور وہ مقصود غیر میں تمیز کرتے ہیں ـ وہ مستثنے ہیں حتی کہ وہ اگر دنیا کی بات بھی پوچھ کر لیں کوئی حرج نہیں ـ پھر بڑی بات یہ ہے تو یہ کام تو اور جگہ یہاں سے اچھا ہو رہا ہے اور جو کام یہاں پر ہو رہا ہے ـ یہ ایسا ہے کہ کہیں بھی نہیں ہو رہا نہ اچھا نہ برا مگر کس سے کہے وہی مثل ہو رہی ہے ـ اندھے کے آگے روئے اپنی آنکھیں کھوئے اور الحمدللہ میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ مسائل فقہی اس طریق سے اعظم ہیں مگر اعظم ہونا اور چیز ہے اور کسی عارض سے اہم ہونا اور چیز ہے ـ مسا ئل فقہی اعظم ضرور ہیں مگر وہ دوسری جگہ سے حاصل ہوتے ہیں اور جو کام یہاں ہو رہا ہے وہ کہیں ہو ہی نہیں رہا ـ اس عارضی سبب یہ اہم ہے ـ میں نے اس لئے اہم کو اختیار کر رکھا ہے ـ بچے کو کہتے ہیں کہ قاعدہ بغدادی پڑھ حالانکہ قرآن شریف اعظم ہے مگر اس کو ضرورت اہم کی ہے اور اسکو قاعدہ میں لگا کر قرآن ہی کی تلاوت کے لئے تیار کیا جا رہا ہے ـ اسی طریق میں لگا کر احکام فقیہ کی تکمیل کے لئے تیار کیا جا رہا ہے اور اس کی اہمیت یہاں تک ہے کہ اکابر کی وصیت ہے کہ شیخ کو کسی کا کلام نہ پہنچائے نہ سلام پہنچائے نہ کسی کا ہدیہ پہنچائے جیسا کہ آجکل دستور ہے کہ کسی آتے جاتے کے ہاتھ کوئی چیز بھیج دی روپیہ بھیج دیا تو ایسا نہیں کرنا چاہیے ـ علاوہ مصالح کے خود غیرت عشقی کا بھی اقتضا ہے ـ
عشاق کی یہ شان ہوتی ہے کہ اپنے محبوب کو دوسری طرف متوجہ نہ کرے ـ یہاں تک لکھا ہے کہ مرید شیخ سے درسی کتاب نہ پڑھے اور نہ پیر اپنے مرید کے خانگی معاملات میں دخل دیا ـ غریبوں کو کچھ خبر تو ہے نہیں ـ مرید ہونے آ جاتے ہیں اگر متنبہ کرتو ہوں اور طریق بتلاتا ہوں اس غرض سے کہ راہ پر پڑیں مقصود معلوم ہو کہ کیونکہ طریق مفقود ہو رہا ہے ـ اس لئے اس کے آداب بھی نہیں تو سخت اور بدخلق اور خدا جانے کیا کیا کہتے ہہیں اجی اگر طبیب شفیق ہے اور حمد درد خیر خواہ ہے تو چاہے منہ بناؤ یا روؤ وہ مرض کی تشخیص کر کے اگر کڑوی دوا مفید ہوگی تو شاہترہ چرائتہ حظل ہی تجویز کرے گا اگر سو دفعہ غرض پڑے پیو ورنہ جاؤ چلتے بنو اور جو سیب کا مربا ورق نقرہ لپیٹ کر دے اس کو مربی بناؤ ـ یہاں تو خود طالب کو بجائے سیب کے چھیل چھال کر کانٹ چھانٹ کر اس کو مربہ بنایا جاتا ہے اور یہ جو لکھا ہے کہ مرید شیخ سے سبق نہ پڑھے وجہ اس کی یہ ہے سبق میں قیل و قال ہوتا ہے ـ جس سے مبادا شیخ کو انقباض ہو جائے اور فیض باطنی سے محروم ہو جائے اور جو لکھا گیا ہے کہ شیخ مرید کے خانگی معاملات میں دخل نہ دے اس میں یہ راز ہے کہ شیخ کو اصل واقعات سے یا مرید کے مصلحت کے خلاف ہو اور اس سے اس کو شیخ سے کیدگی بھی پیدا ہو جائے ـ اس صورت میں بھی باطنی نفع نہ ہو گا البتہ جس صورت میں یہ علت نہ ہو وہ اس سے مستثنی ہے ـ مثلا ایک شخص بیوی کا نان نفقہ نہیں دیتا ـ شیخ کہے کہ نفقہ دو یہ خانگی معاملات میں دخل دینا نہ سمجھا جائے گا کیونکہ اس میں دوسرا احتمال ہی نہیں ـ طاعت خالصہ کا حکم ہے ـ مطلب یہ کہ فصل قضایا میں یا ان مباحات میں جس میں شرعا دونوں جانب کی گنجائش ہے ـ دخل نہ دے ـ جیسے رشتہ وغیرہ آج کل پیر اکثر ایسا کرتے ہیں کہ ایک مرید کی لڑکی ہے ـ دوسرے کا لڑکا ہے کہتے ہیں کہ ہم فلاں کے لڑکے سے تمہاری لڑکی کا رشتہ کرتے ہیں یا نکاح کرتے ہیں ـ مشائخ نے اس کو منع فرمایا ہے یا اسی طرح کوئی نزاعی معاملہ ہے ـ شیخ سے اس کا فیصلہ کوئی کرانے لگے اس میں بھی ممکن ہے کہ ایک کے خلاف ہو تو اس کو رنج ہوگا اور نفع باطن سے محروم ہو جائے گا ـ اور ان باتوں میں دخل دینا تو بری چیز ہے کہ اس میں دنیا کا رنگ ہے ـ تعلیم جو دین محض ہے ـ اس میں بھی اس قدر احتیاط ہے کہ ہر شخص کی باطنی مصلحت اور اسکی حالت کے مطابق دی جاتی ہے اس کا بھی معین ضابطہ نہیں ـ
( ملفوظ 245)آج کل کی تصانیف
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ تصنیف کا کام بھی بہت مشکل کام ہے ـ آج کل ہر شخص مصنف بنا ہوا ہے کوئی معیار ہی نہیں رہا ـ قلم ہاتھ میں لیا اور جو جی میں آیا لکھ مارا نہ اصول کی خبر ہے نہ فروع کی ـ میں آجکل ایسی ہی بے اصول کتاب دیکھ رہا ہوں ـ بڑے مشہور مصنف کی تصنیف ہے مگر محض ملمع آجکل بڑا کمال یہ ہے کہ الفاظ زوردار ہوں چاہے مدلول صحیح ہو یا غلط اس سے کوئی بحث نہیں ـ جن باتوں کی اس کتاب میں ثابت کیا ہے معلوم ہوتا ہے کہ سوچ سوچ کر یہ تلبیس باتیں بنائیں ہیں ـ استدلال کی دو صورتیں ہیں ـ ایک صورت تو یہ ہے کہ آزادی سے دلائل پہلے ذہن میں آئیں اور نتیجہ ان کے تابع ہوا اور ایک صورت یہ ہے کہ دلائل پہلے سے ذہن میں نہیں ـ پہلے ہی سے ثابت کرنا ہے اور اس کے لئے سوچ سوچ کر دلائل کو ذہن میں لایا جاتا ہے ـ ان دونوں صورتوں میں بڑا فرق ہے ـ پہلی ایک خاص قوت ہوتی ہے گو اس میں اجتہادی غلطی ہی ہوگئی ہو اور دوسری صورت میں یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ شخص محض باتیاں بنا رہا ہے اور یہ فرق معلوم ہو جانا موقوف ہے ـ ذوق صحیح پر بعضی بات وجدان سے معلوم ہوتی ہے بیان کرنے پر قدرت نہیں ہوتی ـ
( ملفوظ 244) سیاست اور اسلام
ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت اگر ایک شخص سیاست کا ماہر ہے مگر ہے کافر اس میں اس کی اقتداء کر لی جائے کیا حرج ہے ـ فرمایا کہ اس کی بالکل ایسی مثال ہے کہ اگر کافر نماز خوب جانتا ہو اور مسلمان نہ جانتا ہو تو کیا اس کافر کی اقتداء جائز ہے ـ شبہ کا منشا یہ ہے کہ سیاست کو لوگ دین نہیں سمجھتے ـ خود یہی سخت غلطی اور جہل اعظم ہے ـ سیاست بھی تو دین ہی ہے ـ اس کے معنی تو یہ ہوئے کہ اسلام نے سیاست کی تعلیم نہیں کی ـ سو یہ کتنی بڑی تحریف ہے ـ پھر دین میں کافر کی اقتداء کرنا کیا معنی نیز کیا اس میں اسلام اور مسلمانوں کی اہانت نہیں ہے اور کیا کوئی شخص کہیں یہ بات دکھلا سکتا ہے کہ اسطرح سے کہ اسلام اور مسلمانوں کی اہانت کرانا اور ان کو ذلیل کرانا جائز ہے ـ اور کیا مسلمانوں میں ایسا کوئی نہیں کہ وہ سیاست جانتا ہو ـ البتہ اس طریق سے ان کے ساتھ مل کر کام کر سکتے ہیں کہ کافر تابع ہوں اور مسلمان متبوع اور یہاں بالکل عکس ہے کہ مسلمان تابع اور کافر متبوع اور مجھ کو عوام کی اور لیڈروں کی شکایت نہیں ـ وہ جہل میں مبتلا ہیں ہی شکایت تو علماء کی ہے کہ وہ غلطی میں پھنس گئے ـ حق تعالٰی ہدایت فرمائیں اور جہل سے محفوظ رکھے مجھ کو ایسی باتیں سن کر بے حد قلق اور صدمہ ہوتا ہے جب لکھے پڑھوں کی نسبت سنتا ہوں کہ وہ ایسی خرافات کے حامی اور دلدادہ ہیں ـ انا للہ و انا الیہ راجعون ۔ عجیب بات ہے کہ خسران کا کھلی آنکھوں مشاہدہ کر رہے ہیں مگر بات کی پچ ہو گئی اس سے نہیں ہٹتے اور ایسے ایسے لچر استدلالات اور تاویلات کرتے ہیں جو اہل علم کی شان کے بالکل خلاف ہے ـ
( ملفوظ 243) شرکت والے کام پورے نہیں ہوتے
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آج ایسے کام کرنے کی ہمت نہیں ہوتی ـ جس میں دوسرے کی شرکت کی ضرورت ہو ـ آج کل تجربہ سے معلوم ہوا کہ وہ کام ہوتا ہی نہیں جس میں مختلف طبائع کے لوگ جمع کئے جائیں ـ
( ملفوظ 242)بے علمی کے باوجود موٹے موٹے الفاظ بولنے کا نتیجہ :
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ بعض لوگوں کو بڑے بڑے ششہ الفاظ بولنے کا شوق ہوتا ہے مگر بوجہ علم نہ ہونے کے موقع اور محل کی تمیز نہیں ہوتی ـ اس پر فرمایا کہ ایک صاحب ہیں یہاں کے رہنے والے ـ ان کو پر شوکت الفاظ بولنے کا بہت شوق ہے ـ ایک جگہ بسبیل گفتگو کہنے لگے کہ فلاں معاملہ میں میں بھی ثالث بالخیر تھا ـ ایک صاحب علم نے فرمایا کہ صاحزادے سوچ سمجھ کر بولا کرتے ہیں ـ ثالث بالخیر اصطلاح میں ولدالزنا کو کہتے ہیں ـ ایک صاحب دوسرے صاحب کا واقعہ ہے کہ ایک جگہ تعزیت میں گئے کسی کے بیٹے کا انتقال ہو گیا تھا اور لوگ بھی تعزیت کیلئے آئے ہوئے تھے ـ اس میں سے کسی صاحب نے تعزیت فرماتے ہوئے کہا کہ حق تعالٰی آپ کو اسکا نعم البدل عطا فرمائیں ـ یہ صاحب بھی سن رہے تھے ـ بس ان کے ایک بات ہاتھ آگئی کہ جہاں تعزیت میں جایا کرتے ہیں یہ کہا کرتے ہیں ـ ایک جگہ اتفاق سے ایک صاحب کے باپ کا انتقال ہو گیا تھا ـ یہ تعزیت کے لئے پہنچے کہتے ہیں حق تعالٰی آپ کو اس کا نعم البدل عطا فرمائیں ـ اس کے یہ معنی ہوئے کہ آپ کی اماں دوسرا خصم کرے ـ کس قدر اس شخص کو ناگوار ہوا ہوگا ـ ایک ہندو رئیس کے باپ کا انتقال ہوا ایک دوسرے ہندو صاحب تعزیت کو گئے جا کر تعزیت کی اور اس میں یہ الفاظ کہے کہ خدا کرے آپ اپنے والد صاحب کے قدم بقدم ہوں اور ضرور ہوں گے کیونکہ عاقبت گرگ زادہ گرگ شود ـ
( ملفوظ 241) عظمت دین کی کمی
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ پہلے عام لوگوں کے قلوب میں بھی دین کی عظمت تھی ـ اب تو خواص میں بھی اسکی کمی ہو گئی ہے اور یہ سب خرابیاں اس کی ہی بدولت ہو رہی ہے ـ
10 محرم الحرام 1351 ھ مجلس خاص بوقت یوم شنبہ
( ملفوظ240)خوش لباسی کی حدود
ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت اچھے کپڑے پہننا اور خوش لباس رہنا کیا شریعت میں نا پسندیدہ ہے ـ فرمایا کہ کون منع کرتا ہے ـ شریعت نے تنگی نہیں کی ـ اگر ریا یا و فخر کے لئے نہ ہو تو آسائش کی اجازت دی ہے بلکہ آسائش سے آ گے بڑھ کر آرائش کی بھی ممانعت نہیں ہے ـ اگر ریا اور فخر کا مرض نکل جائے تو اسکی اجازت ہے کہ راحت کا بلکہ تجمل کا بھی سامان کریں ـ ہاں یہ شرط ہے کہ جاہ کے لئے نہ کیا جائے ـ خوش لباسی پر یاد آیا یہاں پر ایک حافظ صاحب تھے ـ نابینا ان کا رنگ نہایت سیاہ تھا ـ جیسے الٹا توا ایک بار بہت سفید کپڑے پہنے جا رہے تھے ـ ماموں صاحب بڑے ظریف تھے دیکھ کر فرمانے لگے کہ دیکھو رات کو بھی دن لگے ـ ہر شخص پر کپڑے زیب بھی تو نہیں دیتا ـ بلکہ بچارے کپڑے کی بھی درگت بن جاتی ہے ـ
( ملفوظ 239)ریل میں قانون سے زیادہ وزن لیجانے سے احتیاط :
ایک استفتاء بصورت پیکٹ آیا اس پر دو پیسہ کا ٹکٹ تھا اور واپسی کے لئے بھی دو پیسے کا ٹکٹ ہمراہ تھا ـ اس پر فرمایا کہ خود تو لوگ ناجائز حرکت کرتے ہی ہیں ـ دوسروں کو بھی مجبور کرتے ہیں کہ تم بھی ایسا ہی کرو چاہے دوسرے کی وضع اور مذاق کے خلاف ہی ہو یا اسکی شرعی تحقیق ہی کے خلاف ہو ـ حضرت والا نے اس استفتاء کو امانت میں رکھ کر فرمایا کہ ان کے پوچھنے پر متنبہ کروں گا کہ تم نے یہ حرکت کی ہے اس میں تو کارڈ بھی نہیں پہنچ سکا پھر اسپر فرمایا کہ میرے ایک متقی زی علم انگریزی داں ضلع الہ آباد کے رہنے والے دوست ہیں ـ وہ سفر کے ارادہ سے چلے ـ اسٹیشن پر پہنچ کر اسباب کے زائد ہونے کا خیال ہوا مگر وقت کی تنگی سے وزن نہیں کرا سکے جب منزل مقصود کے اسٹیشن پر اترے وہاں بابو سے کہا کہ اسباب وزن کر لیا جاوے بابو نے انکار کیا کہ ہمیں فرصت نہیں ـ یہ اسٹیشن ماسٹر کے پاس گئے ـ اس سے کہا وہ پہلا بابو بھی آ گیا اور دونوں اسکے باہمی گفتگو کرنے لگے ـ انہوں نے اسرار کیا ـ اس پر دوسرے بابو سے ان کو واضع سے ملا سمجھ کر کہ یہ انگریزی نہیں جانتے ہوں گے کہا کہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ شخص شراب پیئے ہوئے ہے ـ ہم اسباب وزن کرنے سے انکار کرتے ہیں اور یہ اسرار کرتے ہیں ـ مطلب یہ تھا عقل کے خلاف ہے اور شراب سے عقل مفقود ہو جاتی ہے ـ انہوں نے جواب دیا کہ میں نے شراب نہیں پی ـ میرا مذہبی حکم یہی ہے کہ کسی کا حق نہ رکھا جائے تب وہ لوگ بہت شرمندہ ہوئے مگر اسباب پھر بھی وزن نہ کیا ـ آخر انہوں نے گھر آکر خود اسباب کو وزن کر کے اسقدر محصول کا ٹکٹ لے کر کر دیا ـ میں ایک مرتبہ سہارنپور سے کانپور جا رہا تھا ـ میرے پاس گنے بھی تھے جو معاف اسباب سے زائد تھے ـ میں نے بابو سے کہا کہ اسباب کو وزن کر لیا جائے ـ بابو نے کہا کہ آپ اسباب لے جائیں ـ کوئی نہیں پوچھے گا میں نے کہا کہ اگر کسی نے پوچھا تو کیا جواب دیا جائے گا ـ کہا کہ ہم گارڈ سے کہہ دیں گے ـ میں نے کہا یہ گارڈ کہاں تک جائے گا ـ کہا کہ گارڈ غازی آباد تک جائے گا ـ میں نے کہا غازی آباد سے آگے کیا ہوگا کہا وہ دوسرے گارڈ سے کہہ دے گا ـ وہ کانپور سے بھی آگے جائے گا ـ میں نے کہا پھر کانپور سے آگے کیا ہوگا کہا کہ آگے تو جانا ہی نہیں ـ میں نے بتلایا کہ آگے بھی جانا ہے ـ ہمارے مذہب نے ایک اور زندگی کی بھی خبر دی ہے یعنی آخرت وہاں باز پرس ہوگی ـ یہ سن کر بابو بے حد متاثر ہوا ـ
بڑا اثر ہوا اسباب کو وزن کیا اور ایک روپیہ محصول لے کر بلٹی دیدی ـ

You must be logged in to post a comment.