ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ ایک تو ہوتا ہے اکرام اور ایک ہوتی ہے تعظیم صورت دونوں کی ایک ہے مگر نیت کی وجہ سے دونوں میں حقیقت کا فرق ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم حضرت فاطمہ کے مکان پر تشریف لیجاتے تو حضرت فاطمہ کھڑی ہو جاتیں اور حضرت فاطمہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پر آتیں تو حضور کھڑے ہو جاتے ان دونوں میں وہی اکرام اورتعظیم کا فرق ہے گو صورت ایک ہے غرض اکرام جسکا حاصل تو خاطرداری اور رعایت ہے اور چیز ہے اور تعظیم اور چیز ہے صورت ایک ہونیکی وجہ سے لوگ دھوکہ کھا جاتے ہیں وہ خاطرداری کو بھی تعظیم ہی سمجھتے ہیں اور ترک تعظیم کو ترک اکرام ـ
Author: حبیب اللہ
( ملفوظ 238) عمامہ کو ضروری سمجھنے پر ایک صاحب سے بحث
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ میں ایک مرتبہ طواف کر رہا تھا جب میں فارغ ہوا تو ایک دوست کے پاس جا بیٹھا ایک صاحب ضعیف العمر آئے اور کہا کہ کئی مرتبہ تم سے ملنے کو جی چاہا مگر اتفاق سے ملاقات نہ ہو سکی اور ایک بات بھی کہنی ہے وہ یہ کہ تم عمامہ کیوں نہیں باندھتے میں نے کہا کہ کیا فرض ہے واجب ہے کہا کہ سنت ہے میں نے کہا کہ سنت موکدہ ہے یا مستحب کہا کہ اس سے کیا بحث میں نے کہا کہ بحث اس لئے ہے کہ ہر ایک کے احکام جدا ہیں مگر اس پر بھی وہ اپنی ہانکتے رہے کہ تم سنت کے خلاف کرتے ہو پھر تم بھی نفس کی شوخی سے اس تلاش میں لگا کہ ان میں بھی کوئی بات سنت کے خلاف ہے تو وہ پاجامہ پہن رہے تھے میں نے کہا کہ یہ پاجامہ جو آپ پہن رہے ہیں سنت کے خلاف ہے لنگی باندھنا چاہیئے کہنے لگے کہ بوڑھا آدمی ہوں اس لئے لونگی کھل جانے کا اندیشہ ہے میں نے کہا کہ میں جوان آدمی ہوں عمام کی گرمی سے دماغ میں گرمی ہوجانیکا اندیشہ ہے بس ان سے کچھ جواب بن نہ پڑا لگے سنے کہ خدا کرے تمہارے دماغ میں خوب گرمی ہو جاوے مجھ کو بھی غصہ آ گیا میں نے کہا تم بازار میں ننگے ہو جاؤ ان دوست نے ان دونوں کو روکا یہ حقیقت ہے آجکل کا مناظرہ کی عمامہ کو آجکل بعضے فرض واجب سمجھتے ہیں خصوص سرحدی لوگ اور ایک رومال جو سر کو باندھ لیتے ہیں اور عمامہ کا قائم مقام سمجھتے ہیں یہ ایسا ہے جیسے لنگوٹی باندھ کر اسکو پاجامہ کا قائم مقام سمجھنا یہ سر کی لنگوٹی عمامہ سے اسکا کیا تعلق ہے ـ
( ملفوظ 236) شریعت کا کوئی حکم خلاف فطرت نہیں
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اگر فطرت سلیم ہو تو ایک حکم بھی شریعت کا خلاف فطرت نہیں ـ
( ملفوظ 235)حضرت گنگوہی اور حضرت نانوتوی کے چند واقعات
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ حضرت مولانا قاسم صاحب رحمتہ اللہ علیہ اور حضرت مولانا گنگوہی رحمتہ اللہ علیہ کی کبھی طالب علمی کے زمانہ میں گفتگو ہو جاتی تھی تمام مدرسہ سننے کے لئے جمع ہو جاتا تھا بڑا لطف ہوتا تھا دونوں اعلی درجہ کے ذہین تھے جسوقت ایک صاحب کی تقریر ختم ہوتی تھی تو سننے والے سمجھتے تھے کہ اب اسکا کوئی جواب نہیں ہو سکتا یہ طالب علمی کے زمانے کے واقعات ہیں ایک واقعہ مقتدا ہونے کے زمانہ کا عجیب سنا ہے کہ ایک مرتبہ دونوں حضرات سفر حج میں تھے جہاز میں ایک مسئلہ پر گفتگو ہوگئی اور طے نہ ہوا تو حضرت مولانا قاسم صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ بس اب گفتگو بند کی جائے حضرت حاجی صاحب رحمتہ اللہ علیہ کی خدمت میں تو چل ہی رہے ہیں وہاں پیش کر دیں گے وہاں فیصلہ ہو جائے گا حضرت مولانا گنگوہی رحمتہ اللہ علیہ نے غلبہ صفائی سے فرمایا کہ حضرت فن تصوف کے امام ہیں اور یہ طالب علمی بحث ہے اسکا حضرت کیا فیصلہ فرماتے حضرت مولانا محمد قاسم صاحب نے غلبہ عشق سے فرمایا کہ اگر اسکا فیصلہ بھی حضرت صاحب نہیں فر ماسکتے تو ہم نے نا حق حضرت کا دامن پکڑا یہ حالت تھی عشق کی غرض حاضری ہوئی اور مسئلہ قصدا پیش کیا نہیں گیا مگر ایک سلسلہ میں حضرت نے اسکی خود ہی تقریر فرمائی اور نہایت سہولت و تحقیق سے فیصلہ فرما دیا حضرت مولانا قاسم صاحب کو تو بیحد مسرت ہوئی اور حضرت مولانا گنگوہی کو بیحد حیرت ہوئی کہ حضرت نے اس فن کو حاصل نہیں کیا اور عجیب طریق سے فیصلہ فرمایا کہ بڑے متجر ایسا فیصلہ نہ کرسکتا تھا ـ حضرت حاجی صاحب کی ہمیشہ سے عجیب شان رہی پرانے بزرگوں سے معلوم ہوا کہ نو عمری ہی کے زمانے سے عام مقبولیت تھی نہ مشائخ نے ان پر کبھی اعتراض کیا اور نہ علماء نے شروع ہی سے اثر عام بیان فرماتے تھے کہ ایک بار دہلی میں مولانا مملوک العلی صاحب سے ملنے کو تشریف لائے ہم مولانا سے سبق پڑھ رہے تھے مولانا نے درس بند فرما دیا اور استقبال فرمایا بھائی حاجی صاحب آگے اب سبق نہ ہوگا فرماتے تھے کہ ہم نے دل میں کہا یہ حاجی کون ہیں اچھے آئے درس ہی بند کروا دیا یا یہ معلوم نہ تھا کہ ساری عمر کے لئے اس عرفی سبق کو بند کرادیں گے ایک واقعہ حضرت کے متعلق اور یاد آٰیا والد صاحب حج کو تشریف لے گئے حضرت حاجی صاحب سے بیعت کی درخواست کی حضرت سن کر خاموش ہوگئے ایک روز بہت سے لوگ بیعت ہورہے تھے حضرت نے فرمایا کہ میاں عبدالحق تم بھی آجاؤ حضرت حاجی صاحب کی تو یہ سادگی کہ خود فرمارہے ہیں اور والد صاحب سادگی ملاحضہ ہو کہ عرض کرتے ہیں کہ حضرت میں تو مٹھا ئی لا کر مرید ہونگا اسپر بھی حضرت خاموش ہو گئے اور کچھ نہ فرمایا دوسرے وقت والد صاحب مٹھائی لا کر مرید ہوگئے بات یہ ہے کہ ان حضرات میں جانب خلوص تھا یہ اس کے آثار تھے اور لوگوں میں دونوں طرف عدم خلوص اس لئے کاوش کی حاجت ہوگئی ـ
( ملفوظ 234)وجود صانع پر فطرت خود دلیل ہے
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اس پر کسی دلیل کے قائم کرنیکی ضرورت نہیں فطرت خود بتلا رہی ہے کہ کوئی پیدا کرنے والا ضرور موجود ہے میں نے ایک دہری ملحد کا قول دیکھا ہے جو بعد میں صانع کا قائل ہو گیا تھا کہ میں جس زمانے میں صانع کا انکار پر لیکچر دیا کرتا تھا تو میرا ضمیر میری تکذیب کرتا تھا فرمایا کہ صانع کی دلیل تو خود صانع ہی ہے بقول مولانا
آفتاب آمد دلیل آفتاب گر دلیلت باید از دے رومتاب
( آفتاب خود ہی اپنے وجود کی دلیل سے اگر تم کو وجود آفتاب کی دلیل کی ضرورت ہے تو اس سے رد گرانی مت کرو 12 )
اور عمیق نظر سے دیکھا جائے تو حق سبحانہ تعلٰی کے وجود پر دلیل ہو بھی کیسے سکتی ہے ـ راز اس کا یہ ہے کہ دلیل مدلول سے زیادہ واضح ہونا چاہیئے ورنہ وہ دلیل ہی نہ ہوگی خدا تعالی کا وجود خود سب سے زیادہ واضح و ظاہر ہے پھر اسکی دلیل کیسے اور جو دلائل سمجھے جاتے ہیں وہ محض صورۃ دلیل ہیں ہمارے ماموں صاحب فرمایا کرتے تھے ـ
شد ہفت پردہ بر چشم ایں ہفت پردہ بے پردہ ورنہ ما ہے چوں آفتاب دارم
( آنکھوں میں جو سات پردے ہیں یہی معرفت کے لئے حجاب کے لئے حجاب ہو رہے ہیں ( یعنی میں صرف اسباب ظاہری پر نظر کرے حقیقت سے نا آشنا ہورہے ہیں ورنہ مارا چاند ( محبوب ) تو آفتاب کی طرح ظاہر و باہر ہے 12 ـ )
اس لئے موسی علیہ السلام کے جواب میں لن ترانی فرمایا گیا لن اری نہیں فرمایا یعنی میں تو دیکھنے کے قابل ہوں تم میں دیکھنے کی قوت نہیں اس لئے تم نہیں دیکھ سکتے اور جو لوگ رہریت چھوڑ کر صانع ، کے قائل ہوئے ہیں انکا دوسرے دہریوں پر زیادہ مادہ حجت ہے کیونکہ ان پر دونوں حالتیں گزر چکی ہیں ایک مولوی صاحب نے ایک دہری کا واقعہ بیان کیا وہ اکثر ایسے لوگوں کی کتابیں دیکھتے رہتے ہیں وہ کہتے تھے ایک دہری نے خود اپنا واقعہ لکھا ہے کہ میں اپنے اندر تصرف کر کے اپنے وجود کے علاوہ سب چیزوں سے خالی ہو گیا پھر مزید تصرف کر کے اپنے وجود سے بھی خالی ہو گیا مگر پھر بھی ایک چیز مجھکو اپنے اندر محسوس ہوتی تھی اس سے بھی خالی ہونے کی بیحد کوشش کی کہ وہ بھی نکل جائے مگر کامیاب نہ ہوا تب معلوم ہوا کہ جو چیز نفی کرنے پر بھی نہیں نکلتی وہی سبحانہ کی ہستی ہے یہ دیکھ کر خدا کے وجود کا قائل ہوگیا اس اصل پر ایک شبہ کا جواب بھی ہو گیا وہ شبہ یہ ہے کہا الست بربکم قالوا بلٰی میں جو وعدہ لیا گیا ہے تاکہ قیامت میں حجتہ رہے تمام خصوصیات بھی یاد ہوں بلکہ صرف اسکا اثر یعنی مقصود کا ذہن میں ہونا کافی ہے مثلا بچپن میں پڑھا تھا آمدن کے معنی آنا لیکن یاد نہیں مگر باوجود اسکے ایسا یقین ہے کہ طرح زائل نہیں ہو سکتا تو کیا اسکو یاد نہ کہیں گے اسی طرح یوم میثاق کی خصوصیات یاد نہ ہونا مضر نہیں جو اسکا اثر ہے توحید وہ فطرت میں اسقدر مرکوز ہے کہ اسکی نفی محال ہے اس لئے وہ یاد میں داخل ہے اور حجت ہے ـ
9 محرم الحرام 1351 ھ مجلس بعد نماز ظہر یوم دو شنبہ
( ملفوظ 233)خوش اخلاقی کا مطلب نرم بات کرنا نہیں
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آجکل اخلاق نام ہے صرف نرمی سے بولنے کا چاہے کتنی ہی سخت بات ہو اور ایذا رساں ہو مگر لہجہ نرم ہو ہمارے ضلع کے ایک کلکٹر کی حکایت ہے کسی پر ناراض ہو کر بہت نرمی اور تہذیب سے حکم دیتا کہ آپکا کان پکڑ کر باہر نکال دو لہجہ نہایت نرمی کا ہوتا تھا تو بہت خلیق مشہور تھا کیا واہیات ہے بلکہ اس سے تو اور زیادہ تکلیف ہوتی ہے کہ بات نرم ہو مگر معاملہ سخت ہو کیونکہ نرم آدمی سے سختی کا صدور خلاف توقع ہونے کے سبب زیادہ رنج کا سبب ہوگا اسی سلسلہ میں فرمایا کہ نرم گفتگو کو جو اخلاق سمجھا جاتا ہے اسپر ایک قصہ یاد آیا ایک شخص نے انتقال کے وقت اپنے بیٹے کو جو کہ احمق تھا وصیت کی کہ میرے مرنے کے بعد جو عزیز و احباب آئیں ان سے نرم اور میٹھی بات کرنا بھاری لباس سے ملنا اونچی جگہ بٹھلانا بڑھیا کھانا کھلانا اس شخص کا انتقال ہو گیا ایک شخص ان کے دوستوں میں تھے دوست کے انتقال کی خبر پا کر تعزیت کو آئے انہوں نے آکر گھر میں اطلاع کرائی صاحبزادے نے نوکروں کو حکم دیا کہ مہمان کو مچلان پر بٹھلا دو گھر میں سے آئے تو بڑے بڑے قالین اور دریاں بدن پر لپیٹے ہوئے انہوں نے حسب رواج دریافت کیا کہ والد مرحوم بیمار ہوئے تھے جواب میں کہتے ہیں روٹی پھر کوئی بات پوچھی کہتے ہیں گڑ پھر کھانا لایا گیا مہمان نے کھا کر کہا کہ گوشت گلا نہیں تو بہت خفا ہوئے اور بولے کہ آپ کی خاطر پچاس روپیہ کا کتا کاٹ دیا اور اپکو پسند نہیں آیا مہمان نے کھانا تو چھوڑ دیا اور پریشان ہو کر پوچھا کیا حرکتیں ہیں کہا کہ جب والد صاحب کا انتقال ہو رہا تھا مجھکو چند وصیتیں کیں تھیں ایک تو یہ کہ میرے مرنے کے بعد اگر کوئی آئے تو بھاری لباس سے ملنا تو اس سے بھاری لباس میرے پاس اور کوئی نہ تھا اور ایک یہ کہ نرم اور میٹھی بات کرنا تو روٹی اور گڑ سے زیادہ نرم اور میٹھی چیز نہیں ایک یہ کہ اونچی جگہ بٹھلانا مچان سے زیادہ اونچی جگہ اور کوئی نہیں ایک یہ کہ بڑھیا کھانا کھلانا تو یہ پچاس روپیہ کا کتا تمام تھا جسکا گوشت آپکے سامنے ہے اس سے زیادہ قیمتی بڑھیا اور کوئی جانور بکرا وغیرہ میرے یہاں نہ تھا بے چارے لاحول پڑھکر بھاگے بس لوگ ایسے اخلاق کے طالب ہیں ان اخلاق میں سے ایک تواضع بھی ہے اسکا بھی یہی حشر کیا گیا میرے ابتدائی کتابوں کے استاد مولانا فتح محمد صاحب کا واقعہ ہے کہ ایک لڑکا تھا شادی وہ مولانا سے کریما پڑھتا تھا اسکا سبق تھا ولا گر تواضع کنی اختیار مولانا کی عادت تھی جب تک لڑکا پچھلا سبق نہ سنا لیتا آگے نہیں پڑھاتے تھے ـ مولانا نے پچھلا سبق سنتے ہوئے پوچھا تواضع کسکو کہتے ہیں کہا کہ تواضع کہتے ہیں کہا کہ تواضع یہی ہے کہ کسی کو حقہ دیدیا پان دیدیا مولانا نے خوب مرمت کی بھاگ نکلا پھر پھڑنے نہیں آیا اور جنگل کی طرف تشریف لے گئے وہی شادی ہل چلا رہا ہے مولانا نے دریافت فرمایا کہ ارے شادی تواضع بھی یاد ہے عرض کیا ہاں حضرت ساری عمر یاد رہیگی یہ ہل ہی تواضع نے پکڑوا دیا ہے تو آجکل تواضع اسی کو سمجھتے ہیں جس کو شادی نے بیان کیا تھا اور عوام تو عوام بھی اخلاق کی یہی حقیقت سمجھ رہے ہیں ـ
( ملفوظ 232) اپنے کو بڑا سمجھ کر دوسروں سے رعایت نہ کرنا
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ بعض لوگ اپنے کو ایسا بڑا سمجھتے ہیں کہ دوسروں کی بالکل رعایت نہیں کرتے جس سے دوسروں کو ایذا پہنچتی ہے اور اس میں بڑے بڑے لوگوں کو ابتلاء ہے اس سے بہت بچنا چاہیئے ـ
( ملفوظ 231)کھانا کھاتے وقت کس قسم کی بات کی جائے
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ کھانے کے وقت اگر کھانیوالے سے ایسی بات کی جاوے جس میں قوت فکر یہ صرف نہ ہو تو مضائقہ نہیں یہ کھانے کے آداب میں سے ہے اور جس میں قوت فکر یہ صرف ہو ایسی گفتگو نہ کرنی چاہیئے ورنہ کھانے کا لطف جاتا رہتا ہے ـ برباد ہوجاتا ہے ـ
( ملفوظ 230) صوفیہ کے کشفیات کا حکم
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ صوفیا کے کشفیات میں اور احکام وحی میں نسبت ہی نہیں اسی طرح نصوص جس حالت پر ہیں انکو ایسے ہی رہنے دینا چاہیئے حضرت عمر کا قول ہے فرماتے ہیں ـ
ابھموا ما ابھمہ اللہ یعنی جس چیز کو خدا تعالٰی نے مبہم رکھا ہو تم بھی مبہم رکھو بڑی حکمت کی بات فرمائی ـ
( ملفوظ 229)متعدد مہمانوں کو کھانا کھلانے کا اصول
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ میرا ایک یہ بھی معمول ہے کہ اگر متعدد مہمان ہوں اور ان میں پہلے سے کوئی تعلق نہ تو ان کو ایک جگہ جمع کر کے کھانا نہیں کھلاتا اگر خود بھی ساتھ کھاتا ہوں تب جمع کر لیتا کیونکہ اس وقت میں خود ان سب کے لئے واسطہ ہو جاتا ہوں اور مجھ سے سب کو واسطہ ہوتا ہے یہ بات کبھی نہ سنی ہوگی مہمانوں کے باب میں اسقدر رعایتیں کرتا ہوں اور پھر سخت مشہور ہوں یہ معمول اس لئے ہے کہ کھانے پینے میں مختلف لوگوں کے جمع ہونے کی وجہ سے آپس میں بے تکلفی نہ ہونے کی وجہ سے انقباض ہوتا ہے ـ دل کھول کر فراغت سے کھانا نہیں کھایا جاتا مختلف طبائع مختلف رنگ کی ہوتی ہے بعض طبیعتیں ایسی ہوتی ہیں کہ جب تک بے تکلفی نہ ہو کھانے میں حجاب ہوتا ہے ـ

You must be logged in to post a comment.