ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ حق تعالی جس کو عذاب دیں گے وہ بھی ایک درجہ کی معافی ہے ۔ مسند احمد میں ایک حدیث ہے حق تعالی فرماتے ہیں جہنم میں وہی جائے گا جس کے متعلق میرا یہ علم ہے کہ اگر اس کو دوبارہ دنیا میں بھیج دوں تو پھر بھی وہ ایسا ہی کرے گا ۔ ایک مقدمہ تو یہ ہوا اور دوسرا مقدمہ کلیات سے ثابت ہے کہ بعد معائنہ عذاب کے پھر جو نافرمانی کرنے لگے وہ پہلے سے زیادہ مستحق ہو گا عذاب کا تو اللہ تعالی نے ان اہل جہنم کو اس زائد سے بچا لیا تو ایک قسم کی معافی ہی ہوئی تو حضرت ایسے بد استعداد لوگوں کو جہنم میں بھیجا جائے گا ورنہ کسی کو جہنم میں نہ بھیجیں گے یعنی عذاب ابدی تو حقیقت میں تزکیہ ہے
