ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ مصائب اور تکالیف میں بھی انسان کو گھبرانا نہیں چاہیے حق تعالی جو معاملہ بھی اپنے بندوں کے ساتھ فرماتے ہیں وہ حکمت اور رحمت سے خالی نہیں ہوتا اور اہل محبت کی ہر چیز محبوب معلوم ہوتی ہے ۔ کسی نے کہا ہے :
ان کو آتا ہے پیار پر غصہ ہم کو غصہ پر پیار آتا ہے
اس محبوبیت کی بالکل ایسی مثال ہے کہ کسی کا محبوب جس کی برسوں سے ملنے کی تمنا اور آرزو تھی اس نے پشت کی جانب سے آ کر دبا لیا اور ایسا دبایا کہ پسلیاں ٹوٹنے لگیں ، آنکھیں نکل آئیں اور سخت تکلیف ہوئی مگر منہ پھیر کر جو دیکھتا ہے تو وہ محبوب ہے جس کی وجہ سے برسوں جنگلوں اور گلیوں کی خاک چھانی ، اس حالت میں وہ محبوب کہتا ہے اگر میرا تجھ کو آغوش میں لے کر دبانا ناگوار ہے تو اپنے دوسرے عاشق کو اسی طرح آغوش میں لے جا ، دباؤں تو اس وقت یہ محب صادق یہی کہے گا :
نہ شود نصیب دشمن کہ شود ہلاک تیغت سر دوستاں سلامت کہ تو خنجر آزمائی
جب نفسانی محبت کی یہ حالت ہے کہ اس کی دی ہوئی تکلیف تکلیف نہیں معلوم ہوتی تو حق تعالی کی محبت کی کیا حالت ہو گی ۔ خوب فرماتے ہیں :
عشق مولے کے کم از لیلے بود کوئے گشتن بہرا و اولے بود
حضرت محبت ہی وہ چیز ہے کہ بڑی سے بڑی تکلیف کو مبدل بہ راحت کر دیتی ہے اور سوائے محبوب سب کو فنا کر دیتی ہے ۔ خوب فرمایا ہے :
عشق آں شعلہ است کوچوں بر فروخت ہر چہ جز معشوق باقی جملہ سوخت
اور محبت کے پیدا کرنے کا طریق سب سے سہل اور آسان یہ ہے کہ اہل محبت کاملین کی محبت اختیار کرو ، اس کی جوتیاں سیدھی کرو اور سیدھی کرنے سے بھی کچھ نہیں ہوتا بلکہ اس کی جوتیاں کھاؤ گو وہ جوتیاں مارے گا نہیں مگر تم کو اس کے لیے تیار ہو کر جانا چاہیے اور اپنے کو دروبست اس کے سپرد کر دینا چاہیے ۔ اسی کو مولانا فرماتے ہیں :
قال را بگذار مرد حال شو پیش مرد کاملے پامال شو
اس کے بدون کام نہیں چل سکتا ۔ یہی اس طریق میں جزو اعظم ہے ، یہی کام بنانے والی چیز ہے ۔ خوب کہا ہے :
فہم و خاطر تیز کردن نیست راہ جز شکستہ می نگیرد فضل شاہ
خلاصہ یہ ہے کہ اس کی صحبت سے شکستگی اور خستگی پیدا ہو گی جو اس راہ میں قدم ہے پھر پستی اور شکستگی کا یہ اثر ہو گا ۔
ہر کجا پستی است آب آنجارود ہر کجا مشکل جواب آنجارود
ہر کجا دردے دوا آنجارود ہر کجا رنجے شفا آنجارود
ذیقعدہ 1350 ھ مجلس بعد نماز ظہر یوم پنج شنبہ
