ملفوظ 162: بعض حضرات سے عدم مناسبت کے واقعات

بعض حضرات سے عدم مناسبت کے واقعات ایک صاحب کی بے عنوانی پر حضرت والا نے ان کو خانقاہ میں آنے اور مکاتبت مخاطبت سے منع فرما دیا تھا ـ انہوں نے ایک مولوی صاحب کے واسطے سے معافی چاہی مولوی صاحب نے عرض کیا کہ فلاں شخص حضرت سے معافی کے خواستگار ہیں اور یہاں پر رہنے کی اجازت چاہتے ہیں اور بہت ہی روتے ہیں ـ فرمایا کہ وہ آنکھوں سے روتے ہیں میں دل سے روتا ہوں مگر کلفت کو کس طرح برداشت کروں خصوص ان سے جو مدعیان محبت ہیں جب ان سے ایسی کوئی بات ہو جو موجب کلفت ہو اس سے زیادہ تکلیف ہوتی ہے اگر آپ فرمائیں کہ کلفتیں اٹھا اور اذیتیں سہہ ـ میں اس کیلئے بھی تیار ہوں ـ آخر حضرت وحشی رضی اللہ عنہ کا واقعہ معلوم ہے کیا حضورؐ اس کے خلاف پر قادر نہ تھے ظاہر ہے کہ تھے مگر پھر بھی حضورؐ نے یہ فرمایا کہ تمام عمر اپنی صورت نہ دکھلانا مقصود یہ تھا کہ تمہاری صورت دیکھ کر چچا کا قتل یاد آ جاتا ہے اور اس سے تکلیف ہوتی ہے اور یہ تکلیف سبب تمہارے نقصان کا ہو گی ـ تو یہ حضور کا فرمانا حضرت وحشی ہی کی مصلحت سے تھا کہ ان کو دیکھ کر حضور ؐ کو کلفت ہوتی اس میں حضرت وحشی کا نقصان تھا ـ میں نے یہ واقعہ اپنے عذر کے لئے ایک صاحب کو لکھا تھا انہوں نے بھی ستایا تھا اور یہ بھی لکھا تھا کہ کہاں حضور اور کہاں ہم گندے ناپاک کوئی نسبت نہیں جب وہاں اتنا اثر ہوا اگر یہاں ہو تو کیا بعید ہے ـ وہ صاحب جواب میں لکھتے ہیں کہ حضرت وحشی رضی اللہ عنہ نے تو قتل کیا تھا ـ میں نے قتل تھوڑا ہی کیا ہے ـ میں نے جواب میں لکھا کہ حضرت وحشی رضی اللہ عنہ نے کفارہ بھی ایسا ہی زبردست کیا تھا کہ اسلام لے آئے تھے جس کی شان یہ ہے کہ یھدم ماقبلہ ( پچھلے گناہوں کو مٹا دیتا ہے ) اور تم نے اس درجہ کا کیا کفارہ کیا ـ ان صاحب کے جواب دینے پر فرمایا کہ آجکل تو بولنا کمال میں داخل ہو گیا ہے ایسے لوگوں سے یہ بھی امید نہیں ہوتی کہ کوئی بات کہی جائے اس کو سمجھ لیں گے پھر مفارقت کی تجویز کے متعلق فرمایا کہ حضرت خضر علیہ السلام اور موسی علیہ السلام کے واقعہ میں جس وقت حضرت خضر علیہ السلام نے فرمایا ھذافراق بینی و بینک ( یہ مجھ میں اور تم میں جدائی (کا وقت) ہے ) ایسے اولوالعزم پیغمبر یعنی موسیؑ نے کیا کسی معصیت کا ارتکاب کیا تھا ـ محض عدم مناسبت کی وجہ سے موسی علیہ السلام کو علیحدہ کر دیا ـ اس سے معلوم ہوا کہ اس تجویز کے لئے طالب کی معصیت شرط نہیں ـ ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت وہاں پر تو پہلے ہی شرائط طے ہو گئے تھے فرمایا اچھا یہ ہی سہی مگر یہ بتلایئے شرائط ہی کیوں طے ہوئے تھے اسی مناسبت و عدم مناسبت کے امتحان کے لئے تو طے ہوئے تھے ـ تو وہی بات رہی ـ عدم مناسبت کی ـ بالآخر موسی علیہ السلام کو ساتھ سے الگ ہونا پڑا نیز اب یہی طالب و شیخ میں بھی شرط ہوتی ہے وہاں صراحتہ تھی ـ یہاں دلالتہ جیسا مریض طبیب کے نسخہ میں چون وچرا نہیں کرتا ـ اور ایسا کرنے سے اگر وہ علاج چھوڑ دے اس پر کوئی ملامت نہیں کرتا ـ اس طریق میں تو چون و چرا سے کام چل ہی نہیں سکتا ـ بڑی ضرورت اس کی ہے کہ جس سے تعلق متابعت کا کیا جائے اس کو کلفت نہ پہنچائے اوریہ فکر اور غور سے ہو سکتا ہے مگر مشکل تو یہ ہے کہ لوگوں نے فکر اور غور کرنا ہی چھوڑ دیا ـ میں جیسے دوسروں کو نہیں ستاتا ـ یہ ہی دوسروں سے چاہتا ہوں کہ وہ مجھے نہ ستاویں ـ اس میں راز یہ ہے کہ عدم مناسبت کی وجہ سے کوئی نفع نہ ہوگا ـ اس کو میں ظاہر کر دیتا ہوں ـ اور ظاہر نہ کرنے کو خیانت سمجھتا ہوں کوئی فوج تھوڑا ہی جمع کرنا ہے عدم مناسبت کی صورت میں سب سے زیادہ اچھا اور سہل طریق یہ ہے کہ اصلاح کا تعلق کسی دوسرے سے کر لیں اور فوائد سننے کیلئے اگر چاہیں یہاں آ کر رہیں بذریعہ خط صرف میری خیریت معلوم کر لیا کریں دعا کیلئے لکھ دیا کریں مجھے خود قلق ہوتا ہے مگر کیا کروں میں بھی معذور ہوں خدمت سے تو انکار نہیں مگر خدمت طریقہ سے کی جاتی ہے ـ