ملفوظ 161: حضرت حاجی صاحبؒ کی شان عبدیت

حضرت حاجی صاحبؒ کی شان عبدیت ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا ! کہ ہمارے حضرت حاجی صاحبؒ کے انکسار اور شان عبدیت کا کیا ٹھکانہ ـ فرمایا کرتے تھے کہ حق تعالی کی ستاری ہے کہ میرے عیوب کو اہل نظر سے چھپا رکھا ہے یہ باتیں کہنے سے سمجھ میں نہیں آتیں مگر کہنا پڑتی ہیں جن پر یہ باتیں گزرتی ہیں وہی خوب جانتے ہیں یہاں قال سے کام نہیں چلتا یہاں ذوق کی ضرورت ہے اس انکسار کی ـ ایک مثال عرض کرتا ہوں ایک چمار کے پاس بادشاہ نے ایک لاکھ روپیہ کا موتی امانت رکھ کر فرمایا کہ اس کو حفاظت سے رکھو اب لوگ تو سمجھ رہے ہیں کہ بڑا مقرب ہے بڑا امین ہے اور ایسا سمجھنا ایک معنی کر ٹھیک بھی ہے اگر یہ بات نہ ہوتی تو ایسی قیمتی چیز اس کے کیسے سپرد کی جاتی ـ مگر میں جو عرض کرنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ اس وقت اس چمار کی حالت قابل دیکھنے کے ہے وہ لرزاں ہیں اور ترساں ہیں راتوں نیند نہیں آتی کہ دیکھئے کہیں امانت میں کوئی کوتاہی نہ ہو جائے میرے وجود اور میری حیثیت سے زائد مجھ کو امانت سپرد کر دی گئی ـ اب اس پر اس کی دو حالتیں ہیں ایک شکر کی اور ایک خوف کی دونوں کو جمع کرنا اور اسکے حقوق بجا لانا آسان بات نہیں ـ واقعی یہ

طریق بہت ہی نازک ہے ـ ہزروں سرمار کر بیٹھ گئے ، مگر منزل مقصود تک رسائی نہیں ہوئی اس میں رہبر کامل کی ضرورت ہے بغیر اس کا دامن پکڑے ہوئے اس راہ میں قدم رکھنا خطرہ ہی خطرہ ہے دیکھئے مثال سے کسی قدر سمجھ میں آ جائیگا ـ ایک انسان ہے عالم ہے محدث ہے مفسر ہے ، فقیہ ہے مجتہد ہے حافظ ہے قاری ہے نیک ہے حسین ہے تندرست ہے اور باوجود اس کے اس کو کسی کمال پر نظر نہ ہو کیا یہ سہل بات ہے البتہ جو کمالات اس کو عطا ہوئے ہیں ان پر خوش ہونا یا ان کا اقرار یہ بری بات نہیں لیکن ان کمالات کی بناء پر غیر اہل کمالات کی تحقیر کرنا یہ ہے نظر مذموم ـ اسی طرح یہ بھی نظر مذموم ہے کہ میں ان کمالات کی وجہ سے خدا کے نزدیک مقبول ہو گیا کیا خبر ہے ، مقبولیت وعدم مقبولیت کی لا تقف مالیس لک بہ علم ـ حضرت ممکن ہے کہ یہ تو سمجھ رہا ہے کہ میں مقبول ہوں اور وہاں مردود ہے اس کی ایسی مثال ہے کہ ایک عورت ہے جو خوب صورت بھی ہے لباس فاخرہ بھی ہے زیور سے بھی آ راستہ ہے ، سنگار کئے ہوئے ہے ، اور اس آرائش و زیبائش کی بناء پر سمجھتی ہے کہ میرا خاوند مجھے چاہتا ہے ـ مگر ساتھ ہی گندہ ذہنی میں مبتلا ہے اس لئے خاوند اس کی صورت دیکھنے کا بھی روا دار نہیں ـ اور ایک عورت ہے سانولی ـ کپڑے بھی میلے کچیلے زیور بھی اس کے پاس نہیں ـ مگر اس کی کوئی ادا خاوند کو پسند ہے وہ اس کو محبوب رکھتا ہے دل سے چاہتا ہے فرمائیے ! ان دونوں میں کچھ فرق ہے یا نہیں ـ یہ ہی مثال ہمارے کمالات کی ہے تو جس طرح گندہ ذہن عورت اپنے خاوند کی نظر میں مقبول ہونے کے غلط گمان میں مبتلا ہے یہی حالت کمالات کی بناء پر ہمارے گمان کی ہے ـ حاصل یہ ہے کہ یہ ظاہری کمالات دلیل مقبولیت کی نہیں ـ ممکن ہے کہ ہمارے اندر کوئی ایسی باطنی خرابی ہو جو میاں کو نا پسند ہو ـ فرمایا کہ باطنی خرابی کی شان کے متعلق کیا عرض کروں جو دل میں ہے کس طرح دوسروں کے دل میں ڈال دوں بعض اوقات سالک کی یہ حالت ہوتی ہے کہ باوجودیکہ یقین کے ساتھ یہ سمجھ رہا ہے کہ فرعون نے خدائی کا دعوی کیا اور میرا دعوی ہے عبدیت کا ـ وہ ہمیشہ کے لئے جہنم میں رہنے کا مستحق ہے اور جنت میں رہنے کا امیدوار ـ اسلئے کہ امید تو  ہے ہی مسلمان ہونے کی وجہ سے اور امید رکھنے بھی چاہئے ـ وہ موسیؑ کا منکر اور میں تمام انبیاء علیہم السلام کا ماننے والا ـ مگر باوجودیکہ ان سب چیزوں کے حالا یہ سمجھتا ہے کہ فرعون مجھ سے لاکھ درجہ بہتر ہے اس لئے کہ ایک مرتبہ کے کلمے پڑھنے سے اس کا ادھر سے ادھرمعاملہ ہو جاتا ـ اور ایک منٹ میں اس کو نجات ہو سکتی تھی اور جس الجھن اور ضیق میں یہ اپنے کو مبتلا دیکھتا ہے یہ سمجھتا ہے کہ اگر ہزار برس میں بھی نجات ہو جائے تو غنیمت ہے اور اسی حالت میں لوگوں نے خود کشیاں تک کر لی ہیں وہ ضیق ایسا ہے کہ فوعون اس میں مبتلا نہ تھا محض کافر تھا ـ ایک مرتبہ کے کلمہ پڑھنے سے ایک منٹ میں مسلمان ہو سکتا تھا اور یہ شخص اپنی حالت کو اس سے زیادہ جانکاہ دیکھ رہا ہے تو ایسے شخص کی کہاں کمالات پر نظر ہو سکتی ہے اور کیا احوال ہوں گے اس کے سامنے اور کیا مقامات ہوں گے اس کی نظر میں وہ تو دوسری ہی ادھیڑ بن میں لگا ہوا ہے جس گرد اب میں یہ پھنسا ہوا ہے اگر اہل ظاہر کو اس کی یہ حالت منکشف ہو جائے تو کلیجہ پھٹ جائے مگر باوجود ان عقبات ( گھاٹیوں ) اور دشوار گذار راہوں کے جن کو حق تعالی نے فہم کامل اور ذوق سلیم عطا فرمایا ہے وہ اس کو اس راہ سے اس سہولت سے نکال کر لے جاتے ہیں کہ معلوم بھی نہیں ہوتا یا ادھر تھے یا ادھر ہو گئے ـ اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ اس کو کچھ نہ کرنا پڑے گا کرنا ضرور پڑیگا مگر وہ گر ایسے ہیں کہ جو سخت سے سخت اور کٹھن گھاٹیوں کو پلک جھپکنے میں طے کرا دیں گے اور یہ باتیں محض زبانی بیان کرنے سے سمجھ میں نہیں آ سکتیں اس میں ضرورت کام کر کے دیکھنے کی ہے اس لئے کہ بعض باتیں وجدانی اور ذوقی ہیں ـ ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت ذوق کس طرح پیدا ہو ـ فرمایا اہل ذوق کی خدمت سے پیدا ہو سکتا ہے مولانا فرماتے ہیں ؎ قال را بگذار مرد حال شو ٭ پیش مردے کاملے پامال شو یہ تو جن پر گزرتی ہے ان کا ذکر تھا باقی ہم اس درجہ کے نہیں تو کم از کم اتنا تو کریں کہ خدا کی عطا کی ہوئی چیزوں سے نافرمانی اور عصیاں کا کام نہ لیں اگر انسان کچھ بھی نہ کر سکے تو اتنا تو کرے کہ حقوق واجبہ کا اہتمام اور منکرات سے اجتناب رکھے انشاء اللہ نجات کے لئے کافی ہے ـ حق تعالی عقل سلیم اور فہم کامل نصیب فرمائیں اسی عقل و فہم ہر مدار ہے دین کے سب کارخانہ کا ـ جس کو یہ نصیب ہو جائیں بڑی دولت ہے بڑی نعمت ہے ـ