( ملفوظ 233 )بعض مرتبہ گردن جھکا کر بیٹھنے سے عجب ہو جاتا ہے

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ بعض مرتبہ گردن جھکا کر بیٹھنے سے اور ذکر کرنے سے عجب کا اندیشہ ہوتا ہے اس کو شیخ ہی سمجھتا ہے وہ ایسے وقت ذاکر سے کہے گا کہ چلتے پھرتے اللہ اللہ کرو گردن جھکا کر نہ بیٹھو ، اس سے شہرت ہو گی ، نفس میں عجب پیدا ہو گا ، آج کل ان تعلیمات کا اکثر مشائخ کے یہاں نام و نشان نہیں ۔