بد فہمی اور بد عقلی کا کوئی علاج نہیں ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت جس شخص سے مسجد میں کھڑے ہو کر تکنے پر حضرت والا نے مواخذہ فرمایا تھا وہ مجھ سے یہ کہتے تھے کہ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ دیکھنے سے بھی کسی کو تکلیف ہوتی ہے ؟ حضرت والا نے یہ سن کر فرمایا کہ جب فہم کی یہ حالت ہے اس کا کوئی علاج نہیں جب گھر کی عقل نہ ہو کوئی انتظام نہیں ہو سکتا ـ ایسوں کی غلطی پر اگر تسامح کیا جائے تو کیا امید ہو سکتی ہے ان سے کہ یہ خود سمجھ کر کوئی اذیت یا تکلیف نہ پہنچائیں گے بد فہم آدمی کا تو کسی حالت میں بھی انتظام نہیں ہو سکتا ـ
جیسے ایک شخص کے لڑکے کی شادی تھی لڑکے کے باپ نے ایک شخص سے دولہا کے لئے دو شالہ لے لیا ـ دو شالے والے بھی بارات میں ہمراہ گئے ـ قاعدہ ہے کہ لوگ دولہا کو دیکھنے کے واسطے آ کر پوچھتے ہیں کسی نے آ کر پوچھا کہ دولہا کون سا ہے دو شالے والے صاحب بولے کہ دولہا تو یہ ہے اور دو شالہ میرا ہے ـ لڑکے کے باپ نے کہا کہ میاں تم بڑے مہمل آدمی ہو اس کہنے کی کیا ضرورت تھی کہ دو شالہ میرا ہے کہنے لگے واقعی غلطی ہوئی اب احتیاط رکھوں گا ـ اتنے میں کسی اور نے دولہا کو آ پوچھا تو آپ کہتے ہیں کہ دولہا تو یہ ہے دو شالہ میرا نہیں ـ لڑکے والے نے کہا کہ میاں تم عجیب آدمی ہو ـ اس ہی کہنے کی کیا ضرورت تھی دو شالہ والے نے کہا کہ واقعی ضرورت نہ تھی اب یہ بھی نہ کہوں گا ـ اتنے میں کسی نے پھر آ کر دریافت کیا کہ دولہا کون ہے آپ کہتے ہیں کہ دولہا تو یہ ہے اور دو شالے کا کوئی ذکر ہی نہیں آخر لڑکے والے نے دو شالہ واپس کر دیا ـ غرض اس شخص کا کوئی انتظام نہیں ہو سکا کیونکہ گھر ہی کی عقل نہیں تھی ایک اور حکایت یاد آئی ایک رئیس نے نوکر رکھا جو اکثر کاموں میں کوتاہی کرتا بار بار کے مواخذہ پر یہ کہا کہ اصل میں مجھ کو یہ معلوم نہیں کہ میرے ذمہ کیا کیا کام ہیں مجھ کو ایک فہرست کاموں کی لکھ کر دیدی جائے ـ رئیس نے ایک فہرست بنا کر دیدی کہ یہ کام تم سے لئے جائیں گے منجملہ اور کاموں کے اس فہرست میں یہ بھی تھا کہ گھوڑے کے ساتھ چلنا پڑیگا جہاں کہیں ہم جایا کریں گے ـ ایک روز آقا سوار ہو کر چلے اور یہ ساتھ ہو لئے اتفاق سے شال گھوڑے سے گری آپ نے فورا فہرست نکال کر دیکھا اس میں یہ نہ لکھا تھا کہ اگر کوئی چیز گھوڑے سے گرے اس کو اٹھا لیا جائے آپ نے شال نہ اٹھائی جب منزل مقصود پر پہنچے آقا نے دیکھا شال نہیں دریافت کیا کہ شال نہیں کیا ہوئی کہتے ہیں حضور ! وہ تو فلاں فگہ گری تھی آقا نے مواخذہ کیا ـ اٹھائی کیوں نہیں آپ نے فہرست سامنے رکھ دی کہ اس میں یہ کہیں نہیں لکھا کہ جو چیز گرا کرے اس کو اٹھا لیا جایا کرے اس لئے میں نے نہیں اٹھائی ـ آقا نے فہرست لے کر اس میں یہ بھی لکھ دیا کہ اگر کوئی چیز گر جایا کرے اسکو اٹھا لیا جائے پھر آقا سوار
ہو کر چلے اور منزل ختم ہوئی تو ایک گٹھڑی سامنے لا رکھی دریا فت کیا کیا ہے عرض کیا دیکھ لیجئے کھول کر دیکھا کھول کر دیکھا تو گھوڑے کی لید ـ پوچھا یہ کیا ـ وہی فہرست سامنے رکھ دی کہ دیکھئے اس میں یہ لکھا ہے کہ جو چیز گرے اٹھا لو ـ سو ایسی بد فہمی کا کیا علاج ـ فرمایا کہ میں بعضوں کو یہاں رہتے ہوئے مکاتبت و مخاطبت سے منع کر دیتا ہوں پھر اگر وطن پہنچ کر خط و کتابت کریں اور مجھ کو خط و کتابت سے معلوم ہو جائے کہ سلیقہ پیدا ہو گیا تو مجھ کو ضد تھوڑا ہی ہے اجازت دیتا ہوں کہ یہاں آ کر بھی خط و کتابت کر سکتے ہیں ـ مقصود میرا ان لوگوں کی اصلاح ہوتی ہے کہ طبیعت پر سمجھنے سوچنے کا بوجھ پڑے فکر اور غور کی عادت ہو ـ دوسرے کو جو اذیت یا کلفت ہوتی ہے وہ بے فکری سے ہوتی ہے اور میرا عقیدہ تو وہ ہے جو حضرت حاجی صاحبؒ فرمایا کرتے تھے کہ آنے والے حضرات کے قدموں کی زیارت کو اپنی نجات کا ذریعہ سمجھتا ہوں کیونکہ میرا تو کسی دلیل سے بھی اچھا ثابت نہیں اور میرے پاس آنے والے اللہ کا نام لینے آتے ہیں یہ یقینا اچھے ہیں آہ ـ بھلا جس شخص کا یہ عقیدہ ہو وہ آنے والوں کو تحقیر کی نظر سے دیکھ سکتا ہے یا ایسا شخص کسی کے آنے سے گھبرائے گا ـ ہاں یہ ضرور ہے کہ رعایت اس کی کیجاتی ہے جو اپنی بھی رعایت کرے اور یہ جو لوگ سفارش کراتے ہیں یہ خود دلیل ہے کام نہ کرنے کی کہ خود کچھ کرنا نہ پڑے ایسا شخص اپنا بوجھ دوسروں پر ڈالتا ہے اور خود پلکا رہتا ہے اس سے طلب کا کم ہونا معلوم ہوتا ہے بڑی سفارش تو طلب ہے لوگوں کوعادتیں پڑی ہوئی ہیں ان کو چھوٹنا بڑا ہی مشکل ہے نہ اپنی تکلیف کا احساس نہ دوسروں کی ـ کہاں تک ان کی بے پرواہی اور بے فکری کی اصلاح کی جائے ـ فرمایا کہ عادت پر ایک حکایت یاد آئی یہاں پر ایک صاحب تھے برادری کے تھے ان کی عادت برادری کو گالیاں دینے کی تھی اتفاق سے ان کے یہاں شادی ہوئی اہل برادری ان کی اس حرکت سے ناراض تھے سب نے اتفاق کیا کہ کوئی ان کے یہاں شریک نہ ہو ان حضرت کو معلوم ہوا کہنے لگے کہ اب کبھی گالیاں نہ دیا کروں گا لوگوں نے کہا کہ اچھا ہم یوں تو اعتبار نہ کریں گے ـ شاہ ولایت میں چل کر عہد کرو کہ گالیاں نہ دیا کروں گا ساتھ ہو لئے ـ پہلے لوگ شاہ ولایت صاحبؒ کو بہت مانتے تھے وہاں پر پہنچ کر اگر کوئی بات طے ہو جایا کرتی تھی تو اس پر سب مطمئن ہو جایا کرتے تھے غرضیکہ یہ حضرت شاہ ولایت کے مزار پر پہنچے اور کھڑے ہو کر کہا کہ حضرت میری عادت گالیاں دینے کی تھی اب میں عہد کرتا ہوں اور تو بہ کرتا ہوں کہ آج کے بعد ان کی یوں توں کروں ان کو کبھی گالیاں نہ دیا کروں گا لوگوں نے کہا ارے پھر گالی دی ـ کہنے لگے اچھا اب ایسا نہ کروں گا پھر عہد اسی گالی کے ساتھ کیا تب لوگوں نے معذور سمجھا اور برا ماننا چھوڑ دیا اور سب نے شادی میں شرکت کی ـ مگر معلوم ہوتا ہے کہ تھے چالاک یہ ترکیب انہوں نے اسلئے کی کہ وہ یہ سمجھے کہ یہ ہمیشہ کیلئے منہ بند رکھنا پڑے گا ایسی ترکیب کرو کہ یہ معذور سمجھیں ـ
