ملفوظ 165: دوسروں کے حقوق کی گہری رعائتیں

دوسروں کے حقوق کی گہری رعائتیں فرمایا ! کہ مجھ کو بد نام تو کیا جاتا ہے مگر یہاں پر رہ کر دیکھا جائے کہ میں کس قدر رعائتیں کرتا ہوں اور آنے والے مجھ کو کتنا ستاتے ہیں یک طرفہ بات سن کر گھر بیٹھے فیصلہ دیدینا تو آسان ہے لیکن جب وہی باتیں اپنے کو پیش آئیں پھر اگر تحمل کر کے دکھائیں تو ہم جانیں البتہ اگر کسی کو حس ہی نہ ہو یا محض فوج ہی جمع کرنا ہو یا روپیہ ہی محض اینٹھنا مقصود ہو اور دکانداری ہی جمانا ہو تو ایسا شخص تو واقعی اس سے بھی زیادہ سخت سخت باتوں کا تحمل کر لے گا ـ مجھ سے تو یہ نہیں ہو سکتا بلا سے کوئی معتقد رہے یا غیر معتقد ہو جائے ـ میں تو یہاں تک رعایت رکھتا ہوں کہ یہاں پر مسجد میں ایسا قصہ ہوتا تھا کہ جہاں میں نماز کیلئے مصلے پر جانے لگا کوئی ادھر کو کھڑا ہو گیا کوئی ادھر کو کھسکا ـ مجھ کو ایسی باتوں سے اذیت ہوتی تھی ـ نیز اس سے ایک عظمت اور بڑائی کی شان معلوم ہوتی تھی ـ میں نے اپنے بزرگوں کو دیکھا کہ وہ ایسی باتوں کو پسند نہ فرماتے تھے نہ مجھ کو پسند ہیں ـ غرضیکہ لوگوں نے مجھ کو ایسا بنا لیا جیسے بھیڑیئے کو دیکھ کر بھیڑیں ادھر ادھر کو بھاگا کرتی ہیں ـ میں نے اپنے دل میں کہا کہ اے اللہ میں ہوا ہوں ـ آخر میں نے یہ انتظام کیا کہ لوگوں سے کہہ دیا کہ تم صرف اتنا کیا کرو کہ میرے مصلے پر آنے کیلئے مصلے کے مقابل ایک آدمی کی جگہ چھوڑ دیا کرو باقی حرکت مت کیا کرو ـ مگر اس صورت میں یہ ہوا کہ بعض صاحب میرے ساتھ ہو لئے اور اس خالی جگہ پر جا کھڑے ہوئے ـ اب یہ ظاہر ہے کہ پہلے پہنچنے والے بے چارے میری محبت کی وجہ سے کہ اس کو آنے میں کلفت نہ ہو ـ ایک آدمی کی جگہ چھوڑ دیتے تھے تو وہ جگہ ان کا حق تھی ـ مگر میرے اس قاعدے سے دوسروں نے نفع اٹھانا شروع کردیا مجھ کو اس پر بھی خیال ہوا کہ میں آلہ بنا ـ ان ساتھ ہو لینے والے حضرت کے مؤخر سے مقدم بنانے کا اس پر میں نے یہ انتظام کیا کہ یہ بھی مت کرو ـ اپنی اپنی جگہ ملے ہوئے بیٹھے رہو ـ میں جب آیا کروں گا جس جگہ سے جانا کندھے پر ہاتھ رکھ دیا ـ اس وقت تھوڑی سی جگہ مجھ کو جانے کی دیدیا کرنا ـ اس میں ان کی بھی رعایت مقصود تھی ـ وہ یہ کہ مجھ کو معلوم تھا کہ یہ لوگ اس کو گوارا نہ کریں گے کہ مجھ کو کوئی تنگی ہو اس لئے مجھ کو بھی ان کی یہ نا گواری گوارا نہ ہوئی اور بے تکلف اشارہ کر کے رستہ لینا تجویز کر لیا ـ یہ میں نے بطور نمونے کے بیان کیا ہے اور ہزاروں جزئیات ہیں کہاں تک احاطہ ہو سکتا ہے جن کی میں رعایت رکھتا ہوں زبان سے دعوی کرنا آسان ہے کر کے دکھلانا بہت مشکل ہے – اسلئے میں بھی چاہتا ہوں کہ دوسرا بھی میری راحت کی رعایت رکھے ـ