ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ایک صاحب یہاں پر آئے ، میں نے دریافت کیا کہ کیسے تشریف لائے ، کہا کہ فلاں مولوی صاحب نے بھیجا ہے کہ تم جا کر لے آؤ ، میں نے کہا کہ شاید میرے عذر کی خبر نہیں ، آپ کو کہا کہ مجھ کو تو خبر ہے میں نے کہا کہ پھر کیوں آئے ، کہا اس خیال سے کہ اس بہانہ سے زیارت ہو جائے گی ۔ میں نے کہا کہ کرایہ ان کا اور زیارت تم کرو یہ جائز ہے یہ تو خیانت ہے آپ کو مشورہ دینا چاہیے تھا اس کے متعلق کہ اس کو آنے میں یہ عذر ہے مجھ کو ان کی یہ حرکت سخت ناگوار ہوئی ، میں نے کہا کہ آپ کو ٹھرنے کی اجازت نہیں واپس تشریف لے جائیے ، گاڑی جانے والی تھی ، وقت قریب تھا ، چلے گئے ، بعد میں کوئی خط وغیرہ نہیں آیا ۔ معلوم ہوتا ہے خفا ہو گئے ایسے ایسے کوڑ مغز آتے ہیں اور مجھ کو بدنام کرتے ہیں کہ اخلاق اچھے نہیں ان کے اخلاق بہت پاکیزہ ہیں ، لوگوں کو دھوکہ دیتے ہیں ۔
