ایک نئے خیال کے مولوی صاحب کا ذکر فرماتے ہوئے فرمایا کہ وہ یہاں پر آئے تھے میں نے مہمان سمجھ کر اچھا برتاؤ کیا وہ کھلے تو مجھ سے کہا کہ مجھے تنہائی میں کچھ کہنا ہے میں نے ان کو تنہائی کا وقت دیا ، مختلف باتیں ہوتی رہیں ، میں نے کہا کہ آپ کو کیا ضرورت ہوئی کہ آپ نے ترجمہ قرآن پڑھانے کا نیا طرز نکالا متقدمین کے خلاف کہنے لگے کہ اب نئے نئے شبہات ہونے لگے ہیں ، ان نئے شبہات کا جواب بدون اس طرز جدید کے نہیں ہو سکتا میں نے کہا کہ پرانے طرز کی تفسیروں کو اگر سمجھ کر پڑھ لیا جائے سب شبہات کا جواب ان میں موجود ہے اور میں نے یہ بھی کہا کہ اس کا ایک امتحان ہے وہ یہ کہ دو گریجویٹ لے لیے جائیں ایک کو میں پرانے اصول پر ترجمہ پڑھاؤں اور ایک کو آپ اپنے نئے اصول پر پڑھائیں پھر کوئی شخص نئے شبہات دونوں کے سامنے پیش کرے اور دونوں اپنے اپنے طرز پر جواب دیں پھر اس سائل سے پوچھ لیا جائے کہ بولو کس کے جوابوں سے تسلی ہوئی ، کہنے لگے کہ پرانے طرز سے تسلی کر دینا آپ کے ساتھ مخصوص ہے دوسرے نہیں کر سکتے ۔ میں نے کہا کہ میں کیا چیز ہوں مجھ سے بڑے بڑے اکابر ہیں اور اگر یہی فرض کر لیا جائے تو جن کو آپ پڑھاتے ہیں یہاں بھیج دیا کیجئے ، آپ کیوں پڑھاتے ہیں اس کا کوئی شافی جواب نہ دے سکے ۔
