ملفوظ 164: بیمار ہو کر بے فکر ہونا

بیمار ہو کر بے فکر ہونا اور حضرتؒ کی اپنے بارے میں رائے ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ اگر کوئی بیماری ہو اور لوگ اس کو علاج سے بے فکر دیکھیں تو چاروں طرف سے لتاڑ پڑتی ہے جس سے وہ اپنی فکر میں لگ جاتا ہے ایسے شخص کی امید صحت کی ہوتی ہے افسوس تو اس شخص کی حالت پر ہے کہ تمام دنیا اس کو تندرست سمجھے ہوئے ہے اور وہ بیمار ہے دوسروں کے تندرست سمجھنے پر یہ بھی اپنے کو تندرست سمجھ بیٹھا ایسے مریض کے تندرست ہونے کی کیا امید ہو سکتی ہے ـ میں سچ عرض کرتا ہوں کہ جب میں دوسروں کے لئے کوئی تجویز کرتا ہوں اپنے سے بے فکر ہو کر نہیں کرتا ـ مستغنی ہو کر نہیں کرتا ـ بلکہ عین تجویز کے وقت برابر اس کا خیال رکھتا ہوں کہ مجھ سے کوئی زیادتی اس تجویز میں نہ ہو جائے اور اس شخص پر ذرہ برابر تنگی نہ ہو ـ اس پر مجھ کو سخت کہا جاتا ہے ہاں یہ دوسرے بات ہے کہ اجتہادی غلطی ہو جائے اس کے متعلق یہ ہے کہ قصد نہیں نیت نہیں ـ حق تعالی معذور خیال فرما کر امید ہے کہ معاف فرمائیں گے ـ 5 رمضان المبارک 1350ھ مجلس بعد نماز ظہر یوم پنجشنبہ