ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت آجکل فلاں شہر سے بدعت مٹ رہی ہے کایا پلٹ ہو گئی اور پہلے یہ حالت تھی کہ فلاں صاحب کے مقرب خاص نے وعظ ہی میں بیان کیا بڑے فخر کے ساتھ کہ ندوہ پر ہم نے کفر کا فتوی دیا دیوبندیوں پر ہم نے کفر کا فتوی دیا خلافت والوں پر ہم نے کفر کا فتوی دیا ـ حضرت والا نے سن کر فرمایا کہ جو چیز کسی کے پاس ہوتی ہے وہی تقسیم کیا کرتا ہے ان کے پاس اس کے سوا اور ہے ہی کیا ـ بس کفر ہی تقسیم ہوتا ہے کفر کا ہائیکورٹ ہے ـ کفر کے فتوی دینے کی وجہ سے ہائیکورٹ کفر کا کہا گیا ـ فرمایا کہ میں کفر کا حکم لگانے میں بڑا ضعیف ہوں ہمت نہیں ہوتی ـ ایک مرتبہ حضرت مولانا گنگوہی کے یہاں باطل کی تکفیر کا ذکر تھا اس روز نہایت جوش میں شان رحیمی کا ظہور ہو رہا تھا ـ یہاں تک فرمایا کیا کافر کافر لئے پھرتے ہو ـ قیامت میں دیکھو گے ایسوں کی مغفرت ہوگی جنہیں تم دنیا میں کافر قطعی کہتے ہو ـ اور واقع میں وہ کافر نہ ہوں گے مگر نہایت ہی ضعیف الایمان ہونگے ـ پھر فرمایا لیکن اگر ڈرانے دھمکانے کیلئے شرعی انتظام کیلئے کسی وقت کافر کہہ دیا جائے اس کا مضائقہ نہیں ـ اس میں انتظامی شان کا ظہور ہوگیا ـ
