ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت جس طرح ایمان جاتا رہتا ہے اور آدمی کافر ہو جاتا ہے کیا اسی طرح نسبت بھی جاتی رہتی ہے فرمایا جس طرح ایمان ظاہری جاتا رہتا ہے ایسے ہی نسبت بھی جاتی رہتی ہے اور جس طرح ایمان فی علم اللہ نہیں جاتا ـ اسی طرح نسبت فی علم اللہ نہیں جاتی ـ پھر اسی سلسلہ میں فرمایا کہ اس طریق میں سب سے زیادہ جو مضر چیز ہے وہ معلم پر اعتراض ہے اس کا ہمیشہ خیال رکھنا ضروری ہے مگر یہ شرط ہے کہ پیر ہو پئیر نہ ہو ـ یہ میں اس وجہ سے متنبہ کر رہا ہوں کہ بعض بات ایسی ہوتی ہے معلم کی کہ وہ سمجھ میں نہیں آتی اور طالب اس میں اعتراض کر بیٹھتا ہے ـ سو اس کی تفصیل یہ ہے کہ اگر ظاہرا اس سے کوئی امر شریعت کے خلاف صادر ہو جائے تو ایک آدھ بات میں تو مناسب تاویل کر لی جائے گی ـ اگر تاویل سمجھ میں نہ آئے تو یہ سمجھ لیا جائے کہ ممکن ہے کہ اس کی حقیقت ہماری سمجھ میں نہ آئی ہو اور اگر کثرت کے ساتھ ایسے امور صادر ہونے لگیں تو پھر یہ نہیں کہ ہر بات میں تاویل کی جائے گی ـ یہ ایسا ہے جیسے حسین آدمی کے چہرہ پر ایک تل ہو جس کو خال سے تعبیر کرتے ہیں زائد سے زائد دو ہوں تو عیب نہیں مگر یہ بھی نہیں کہ تمام چہرہ تلوں ہی سے بھر جائے اگر ایسا ہے تو پھر تو سارا حسن خاک میں مل جائے گاـ
