ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ بلا ضرورت کلام کرنے سے قلب پر ظلمت ہوتی ہے اور ضرورت سے اگر کلام ہو گو کتنا ہی زیادہ ہو اس سے ظلمت نہیں ہوتی ، مثلا ایک کنجڑہ تمام دن یہ کہتا پھرے کہ لے لو خربوزے اس سے رائی برابر بھی ظلمت نہ ہو گی اور بلا ضرورت اگر یہ بھی پوچھ لے کہ کب جاؤ گے تو اس سے بھی ظلمت ہوتی ہے ۔
