( ملفوظ 143 )خلوت کا خیال اور حضرت گنگوہی کی رائے

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ایک مرتبہ مجھ کو خیال ہوا کہ تنہائی ہو اور اللہ اللہ ہو اور اس کے لیے جنگل تجویز کیا گیا کہ ایک جھونپڑی بنا کر اس میں رہوں گا اس لیے کہ بستی میں رہنے سے ہجوم کے سبب دل گھبراتا تھا مگر ساتھ ہی یہ بھی خیال ہوا کہ بدون بزرگوں سے پوچھے کوئی بات کرنا اچھا نہیں ، میں نے حضرت مولانا گنگوہی رحمہ اللہ سے دریافت کیا حضرت نے اجازت نہ فرمائی ، دو وجہ سے ایک تو یہ کہ اس میں شہرت زیادہ ہو گی ، دوسرے یہ کہ اپنے بزرگوں کے طریقہ کے خلاف ہے ۔ میں نے عرض کیا کہ نقصان یہ ہے کہ آنے والے دق کرتے ہیں کام نہیں کرنے دیتے اب اس کی دو صورتیں ہیں اگر ان کی طرف التفات کیا تو اپنا حرج ہوتا ہے اور اگر التفات نہ کیا جائے تو ان کی دل شکنی ہوتی ہے ۔ فرمایا کہ سب کو جھاڑو مارو اپنے کام میں لگے رہو ۔ مطلب یہ ہے کہ ان کی دل شکنی کو دیکھیں یا اپنی دین شکنی کو ، بزرگوں کے مشورہ میں بڑی برکت ہوتی ہے