( ملفوظ 484)بزرگوں کے حالات میں ہر بات سمجھ میں آنا ضروری نہیں

ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت نزہۃ البساتین کے علاوہ اور بھی کوئی ایسی کتاب ہے جس میں بزرگوں کے حالات ہوں ، فرمایا کہ میری نظر زیادہ کتابوں پر ہے نہیں ، ممکن ہے کہ اور بھی ایسی کتابیں ہوں ۔ حضرت والا نے دریافت فرمایا کہ اور جو ایسی کتاب کی تلاش ہے کیا یہ کافی نہیں ، عرض کیا کہ انگریزی والوں کو اس سے دلچسپی نہیں اور اس کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ بعض حکایات اس کی ان کی سمجھ میں نہیں آتیں ۔ فرمایا کہ یہ احتمال تو اور کتاب میں بھی ہے اور بجائے دوسری کتاب ڈھونڈنے کے اچھی صورت تو یہ ہے کہ جو مضامین سمجھ میں نہ آئیں ان کو چھوڑ دیں ، صرف سمجھ میں آنے والے کو پڑھیں باقی ان کی دلچسپی کس کس چیز میں دیکھی جائے اور ان کی دلچسپی کی رعایت کہاں تک کی جائے اور کہاں تک انتخاب کیا جائے ان کو تو قرآن و حدیث سے بھی دلچسپی نہیں تو اس کا حاصل تو یہ ہوا کہ قرآن و حدیث میں بھی انتخاب کیا جائے اور اس تعلیم انگریزی کا اگر پورا اثر ہو جائے تو خدا تعالی سے بھی دلچسپی نہیں رہتی ۔ سو یہ تو بہت ہی واہیات بات ہے کہ ان کی وجہ سے ہم اپنے اصول بدل دیں اور اپنے بزرگوں کے طرز میں کتربیونیت شروع کر دیں ۔ سیدھی بات یہ ہے کہ جو مقام یا جو حکایت سمجھ میں نہ آئے جاننے والے سے سمجھ لیں اور اگر کوئی شبہ ہے اعتراض کریں ہم اس کا انشاء اللہ تعالی جواب دیں گے ۔ جب ہمارے پاس جواب ہے تو ہم کیوں کسی کی رعایت کریں اور میں پوچھتا ہوں کہ اچھا اگر کسی کتاب کو بدل بھی دیا گیا مگر قرآن و حدیث کا کیا کیا جائے گا اگر کل کو وہ کہنے لگیں کہ فلاں حدیث یا فلاں آیت سمجھ میں نہیں آتی یا ہمیں اس سے سے دلچسپی نہیں تو کیا اس میں بھی انتخاب کیا جائے گا یہ سب خیالی اور بے اصولی باتیں ہیں ، کبھی ایسی باتوں سے متاثر نہیں ہونا چاہیے ہم اس کے ذمہ دار یا ٹھیکیدار نہیں کہ ہر بات سمجھ ہی میں آ جایا کرے ۔ اگر ہر بات سمجھ میں آ جایا کرتی تو یہ اتنے باطل فرقے کیوں پیدا ہو جاتے ایک بھی نہ ہوتا اور اگر سب کی سمجھ یا دلچسپی کی رعایت کی جائے تو قیامت تک بھی کوئی اصول قرار نہیں پا سکتا ۔