ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ میں جو نئے آنے والوں کے لیے قیود لگاتا ہوں کہ مکاتبت اور مخاطبت کچھ نہ کریں اس کا منشاء صرف طرفین کی راحت رسانی ہے اور مقصود اعظم یہ ہے کہ خاموش رہنے سے فہم پیدا ہو اور وقتا فوقتا کی صحبت اور گفتگو سے اپنے مطلوب کی حقیقت سے باخبر ہو جائیں اس لیے کہ طریق سمجھ میں آ جانے کے بعد پھر حصول میں بڑی سہولت اور آسانی ہو جاتی ہے اس کے سوا اور کوئی میرا مقصود نہیں ہوتا ۔
