ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ کانپور میں ایک شخص تھے حقہ پینے کی بہت عادت تھی میں نے ان کو منع کیا اور شاید انہوں نے چھوڑ بھی دیا ۔ ایک روز میرے پاس آئے اور اپنا ایک خواب بیان کیا کہ میں نے روضہ مبارک میں حضور صلی اللہ علیہ و سلم کو نعوذ باللہ حقہ پیتے دیکھا تم مجھ کو منع کرتے تھے میں نے کہا کہ توبہ کرو استغفر اللہ نعوذ باللہ حضور حقہ پیتے ہیں تو حضور تو آئینہ ہیں تم نے اپنی حقیقت دیکھی ۔ اس آئینہ ہونے پر ایک حکایت یاد آئی ۔ ایک شخص ایک بزرگ کی ملاقات کو حاضر ہوئے مگر بوقت ملاقات اس شخص کو ان بزرگ کی صورت کتے کی نظر آئی اس لئے یہ شخص مل کر کچھ شگفتہ نہ ہوا جیسا کہ قاعدہ ہے کہ جب کسی کے پاس عقیدہ کے ساتھ جاتا ہے تو ملکر اس کو ایک قسم کی خوشی اور مسرت ہوتی ہے ۔ سو یہ نہ ہوا اور کیونکر ہوتا ان بزرگ نے دریافت کیا کیا بات ہے تم پر پژمردگی کیوں ہے ، عرض کیا کہ حضرت کہنے کی بات نہیں اس کا اظہار بہت بڑی گستاخی ہے فرمایا کوئی گستاخی نہیں میں خود پوچھ رہا ہوں تم صاف کہو جو بات ہے عرض کیا کہ حضرت کی صورت مجھ کو کتے کی نظر آ رہی ہے معلوم نہیں کیا معاملہ ہے فرمایا کہ بالکل صحیح ہے کوئی ڈر کی بات نہیں اور ان بزرگ نے اس شخص کو کچھ پڑھنے کے لئے بتایا کہ ایک ہفتہ یہ پڑھو اس کے بعد ہم سے ملاقات کرو ایک ہفتہ بعد یہ شخص ملا تو دیکھا کہ ان بزرگ کی صورت بلی کی سی ہے ، اس کے بعد ایک ہفتہ اور پڑھنے کو فرمایا ، اس کے بعد پھر ملاقات کی تو اس سے بھی کم اس کے بعد پھر ایک ہفتہ پڑھنے کو فرمایا جب اس کے بعد ملاقات کی تو وہ بزرگ اپنی اصلی صورت پر نظر آئے تب اس نے دریافت کیا کہ حضرت یہ کیا معاملہ تھا فرمایا کہ یہ تم اپنی صورت اعمال کی دیکھ رہے تھے اس تعلیم اور ذکر کی برکت سے اب تمہارے اعمال کی صورت بدل گئی ہے میں تمہارا محض آئینہ تھا یہ ہے حقیقت ان واقعات کی کبھی اس کے خلاف خیال نہیں کرنا چاہیے جیسا کہ اس شخص نے حضور صلی اللہ علیہ و سلم کو حقہ پیتے دیکھا اور یہ خیال کر لیا کہ حضور بھی حقہ پیتے ہیں ۔
استغفر اللہ لا حول ولا قوۃ الا باللہ
