( ملفوظ 542)حضرت کی اپنے نفس پر نظر اور مؤاخذہ کا خوف

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ میں جب کسی کو کوئی خدمت کرنے سے منع کرتا ہوں تو میں اس وقت اس الٹ پلٹ میں رہتا ہوں اور اس کا فیصلہ نہیں کر سکتا کہ میری اس ممانعت کا منشا کیا ہے آیا میں نے اس کو اس قدر حقیر سمجھا کہ خدمت کے قابل بھی نہ سمجھا یا اپنے کو مخدومیت کے قابل نہیں سمجھا یا محض طبعی گرانی کے سبب ایسا کیا گیا حلانکہ بظاہر اس ممانعت کا منشا تواضع ہے مگر ساتھ ہی دوسرے احتمالات بھی ہیں غرض کسی کو نہیں چاہیے کہ وہ اپنے نفس سے بے فکر ہو جائے بعض مرتبہ وجدانا اطمینان کے ساتھ معلوم ہوتا ہے کہ اس کے ساتھ ایسا برتاؤ کرنا چاہئے اور اکثر اس طرح کرنا آخیر میں مفید اور مصلحت بھی ثابت ہوتا ہے مگر پھر بھی نفس پر پورا اطمینان نہیں ہوتا اس لئے احتمال خلاف پر استغفار کرتا ہوں اور یہ دعا بھی کرتا ہوں کہ اہے اللہ مجھے تو علما و عملا کمزور اور نکما ہی سمجھ کر معاف فرما دیجئے اور میں تو بقسم عرض کرتا ہوں کہ اس سے بھی ڈرتا ہوں کہ میں جو دوسروں سے بہت کھود و کرید کرتا ہوں اور لمبے چوڑے مواخذہ کرتا ہوں کہیں مجھ سے بھی لمبا چوڑا حساب نہ ہو بہت ہی ڈرتا ہوں پھر یہ بھی دیکھتا ہوں کہ اور مشائخ کے یہاں لوگوں کی قدر و منزلت ہوتی ہے اور یہاں آ کر یہ غذا ملتی ہے مجھے اس کا بھی رنج ہوتا ہے مگر یہ رنج طبعا ہوتا ہے عقلا نہیں ہوتا اس لئے کہ ان کی اصلاح اور تربیت اسی کی مقتضی ہوتی ہے کہ جو مناسب ہو وہی برتاؤ کیا جائے اور کبھی یہ بھی خیال ہوتا ہے کہ تو ہی انوکھا بن کر کیوں دنیا میں رہتا ہے تو بھی وہی کر جو سب کر رہے ہیں مگر دیکھتا ہوں کہ ایسا کرنے میں خاص اصلاح اور تربیت کا باب جو صدیوں سے بند ہو چکا تھا پھر اسی طرح بند پڑا رہے گا اسی خیال سے اپنی بدنامی وغیرہ کی پرواہ نہیں کرتا اور نہ اپنی مصلحت کو آنے والوں کی مصلحت پر مقدم رکھتا ہوں ۔
6 ذی الحجہ 1350 ھ مجلس خاص بعد نماز ظہر یوم چہار شنبہ