( ملفوظ 508) بزرگوں کے پاس رہ کر فنائیت حاصل کرنی چاہیے

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اگر کسی بزرگ کو تعظیم سے اذیت ہوتی ہو تو اس کی ایسی تعظیم نہیں کرنا چاہیے بڑا مقصود تو بزرگوں کے متعلق یہ ہے کہ ان کو اذیت نہ پہنچے ہمارے بزرگ ہمیشہ ایسی باتوں سے نفرت کرتے تھے عرفی ادب اور تعظیم کے سخت خلاف تھے اصل ادب اور تعظیم تو محبت اور اتباع ہے چاپلوسی سے کیا کام چلتا ہے ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت فلاں بزرگ کی صحبت میں ایک شخص رہے ہیں مگر ان کی دین کی حالت بہت خراب ہے فرمایا کہ محض پاس رہنے سے کیا ہوتا ہے یہ پاس رہنا تو ایسا ہے جیسے کسی کے پاس زمین رہن ہو رہنے اور رہن میں تجنیس کا ایک درجہ ہے کام جو چلتا ہے بیع سے چلتا ہے رہن سے کام نہیں چلتا بیعت بیع سے مشتق ہے جس کا حاصل ہے بک جانا فنا ہو جانا دوسرے کا ہو جانا مولانا فرماتے ہیں ۔
قال ربگزار مرد حال شو پیش مرد کاملے پامال شو